پختونخوامیں کرپشن عروج پر،کوئی ’’یوٹیومر‘‘نہیں بولتا:عظمیٰ

 پختونخوامیں کرپشن عروج پر،کوئی ’’یوٹیومر‘‘نہیں بولتا:عظمیٰ

خودالزام لگائیں تو آزادی اظہاررائے ،کوئی سوال کرے تو انتقام کا شور مچاتے خیبرپختونخوا میں وزارتوں کی تقسیم تک پر سوالات اٹھ رہے :پریس کانفرنس

لاہور (سٹاف رپورٹر)صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر عیدالاضحیٰ کیلئے مویشی منڈیوں اور صفائی کے انتظامات کئی ہفتے قبل مکمل کر لئے گئے تھے ، صرف منظور شدہ مقامات پر مویشی منڈیاں قائم کی گئیں ، غیر قانونی منڈیوں کی اجازت نہیں دی گئی۔خیبر پختونخوا میں کرپشن عروج پر ہے مگر اس پر نہ کوئی ’’یوٹیومر‘‘بولتا ہے اور نہ سوشل میڈیا پر کوئی بات کرتا ہے ۔ڈی جی پی آر میں وزیر بلدیات ذیشان رفیق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے انہوں نے کہا کہ ستھرا پنجابپروگرام کامیابی سے جاری ہے اور دیگر صوبے بھی اس ماڈل میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

جو لوگ اظہارِ رائے کی آزادی کے خود ساختہ چیمپئن بنے ہوئے ہیں، شاید انہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ پختونخوا میں کیا کچھ ہو رہا ہے ۔ وہاں کے معاملات پر نہ کوئی آواز اٹھائی جاتی ہے ، نہ کسی نوٹس کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ جب وہ خود کسی پر الزام لگائیں تو وہ آزادی اظہار کہلاتی ہے اگر ان سے سوال پوچھ لیا جائے تو فوراً سیاسی انتقام اور اظہارِ رائے پر پابندی کا شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ پختونخوا سے کرپشن کی جو داستانیں سامنے آ رہی ہیں، وہ حقیقت ہیں اور انکا جواب دینا چاہئے ۔ ایک کلرک کے پاس سے 20 ارب برآمد ہونے کی خبر پوری دنیا نے دیکھی، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ صحافتی تنظیموں کو بھی دوہرا معیار ترک کرنا ہوگا۔ پنجاب میں اگر کوئی سوال پوچھ لیا جائے تو شور مچا دیا جاتا ہے جبکہ پختونخوا میں کرپشن کے سنگین الزامات پر مکمل خاموشی اختیار کی جاتی ہے ۔ وہاں وزارتوں کی تقسیم تک پر سوالات اٹھ رہے ہیں مگر نہ یوٹیوب پر آواز سنائی دیتی ہے اور نہ سوشل میڈیا پر احتجاج نظر آتا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں