امریکاایران معاہدہ،دو تین روز میں پیش رفت متوقع:سیٹھی
چین اور روس ممکنہ طور پر معاہدے میں ضامن کا کردار ادا کرسکتے ہیں سفارتی رابطے تیز ہو گئے ہیں :آج کی بات سیٹھی کے ساتھ میں گفتگو
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئرتجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیونے جو کہا ہے وہ درست ہے ،اگلے دو تین دنوں کے اندر کوئی فیصلہ ہوجائے گا،مثبت فیصلہ ہوگا،انہوں نے تین ایشوز نکالے ہیں، ایک نیو کلیئر ایشو ہے کہ ایران کبھی بھی نیوکلیئربم نہیں بناسکتا، دنیا نیوز کے پروگرام ’’آج کی بات سیٹھی کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ امریکا نے یہ کہا ہے کہ افزودہ یورینیم جوایک کلوکے قریب ہے ،اس کو حوالے کرنا پڑے گا، یورینیم ایران میں نہیں رہ سکتی، تیسری چیز جو انہوں نے کہی ہے آبنائے ہرمز کو کھولنا پڑے گا، اس پر ٹول نہیں لے سکتے ،یہ تین چیزیں تھیں جو اس وقت پرابلم بن رہی تھیں،قطر کے ساتھ گلف سے کوئی اور بھی لیڈر ایران گئے تھے ،انہوں نے ٹول پر بات کی ہے ،انہوں نے یہ بھی شاید کہا ہو کہ تم یہ بات مان لو،باقی ہم آپ کے ساتھ معاملہ طے کرلیں گے ،اس پر میرا خیال ہے ایران کو انشورنس مل گئی ہے ،کیونکہ ایران کا موقف یہ ہے ٹول ہم اس لئے لے رہے ہیں تاکہ ہم اپنے نقصان کو پورا کرسکیں جو جنگ کے دوران نقصان ہوا ہے ،اس کیلئے ہمیں دو چیز یں چاہئیں،ایک یہ ہے کہ ہمیں پیسے چاہئیں، دوسرا یہ ہے کہ ہمارے اوپر جو پابندیاں ہیں وہ ختم کی جائیں ،میرے خیال میں آبنائے ہرمز والی بات پر اتفاق ہو گیا ہے ،اس میں ہم کوئی گنجائش نکالیں گے ،دوسرا ایشو نیوکلیئر بم کا ہے ،پہلے ایران کا موقف تھا بم نہیں بنائیں گے ، اب جو کچھ ایران کے ساتھ ہوا،ایران کی نئی لیڈ رشپ آئی ہے ،تیسری چیز جو بہت اہم ہے ،مارکوروبیو نے جو کہا ہے کہ افزودہ یورینیم ایران میں نہیں رہ سکتی،کل تک یہ کہہ رہے تھے یورینیم امریکا کے حوالے کرنی ہوگی،آج کہہ رہے یہ ایران میں نہیں رہ سکتی،اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا پیچھے ہٹ گیا ہے ،یعنی ہمارے پاس نہ رکھیں، کہیں اور رکھ لیں،آج کہہ سکتا تھا کہ افزودہ یورینیم ہمیں دیں،اب وہ کہہ رہا ہے کہ یہ ایران میں نہیں رہ سکتی، سٹیٹمنٹ تبدیل ہو گئی ہے ،چین اور روس نے آپس میں فیصلہ کرلیا ہے ، روس آفر کرے گا،چین اس کی گارنٹی دے گا کہ یہ میٹریل روس کے حوالے کیا جائے ،ایران سے ہماری ٹیم واپس آگئی ہے ،ان میں سے کچھ لوگ چین جارہے تھے ،ان میں فیلڈ مارشل بھی شامل ہے ، شہباز شریف پہلے سے ہی چین میں موجود ہیں،میرا خیال ہے کہ وہاں بھی نیوکلیئر میٹریل کا ایشو ہے ،اس پر بھی بات ہو گی،محسن نقوی نے ایران میں بات کی ہوگی تو انہوں نے کچھ گارنٹی مانگی ہو گی،انہوں نے ایران کو کچھ کہا ہو گا،اب ہماری ٹیم کے لوگ چین،روس جارہے ہیں،پاکستان نے امریکا کو بتا دیا ہے ،صبر کرو،ہم نے ایران کو منالیا ہے ، اب ہم ادھر جارہے ہیں،ان سے کہیں گے تم بھی کچھ گارنٹی دو، کیونکہ پاکستان گارنٹی نہیں دے سکتا، اب کون دے سکتاہے سوائے چین اور روس کے ،اس کے علاوہ گارنٹی کوئی ہے ہی نہیں۔اس قسم کی صورتحال بن رہی ہے ،اگلے دو تین کے اندرچین کا دورہ مکمل ہوجائے گا،پھر یہ ایران کوقائل کریں گے ،پھر جاکر کوئی اعلان ہو گا۔