انصاف تک رسائی

انصاف اور معلومات تک رسائی وہ غیر متبدل اور ناقابل ِ تنسیخ حقوق ہیں جنہیں آئین ِ پاکستان یقینی بناتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئین اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ہر شہری کومعلومات تک آزادانہ رسائی اورتنازعات کے فوری اور منصفانہ حل کے لیے غیر جانبدار عدالت یا ٹربیونل تک رسائی کا حق حاصل ہوگا۔ سائلین کو انصاف کی فراہمی صرف اُسی صورت میں یقینی بنائی جاسکتی ہے جب حقوق کے تعین اور تنازعات کے تصفیے کے لیے موثر نظام موجود ہو۔ تاہم ہمارا موجودہ نظام دولت مندوں کی حمایت کرتا ہے ۔ دولت مند طبقے انصاف کو خرید بھی سکتے ہیں اور اس میں تاخیر بھی کراسکتے ہیں۔ شہری کئی عشروں تک مقدمات کے فیصلوں کے منتظر رہتے ہیں اور ان کی کہیں داد رسی نہیں ہوتی۔ 
''عدلیہ کی آزادی‘‘ یا ''انصاف سائل کے دروازے پر‘‘ جیسے نعرے پاکستان میں سنائی دیتے رہے ہیں لیکن یہ صرف کھوکھلے نعرے ہی ثابت ہوئے، ان کاعملی اظہارمعاشرے میں دکھائی نہیں دیتا ۔ نیشنل جوڈیشل پالیسی 2009ء، جس کا بہت شہرہ رہا ، انصاف کی فراہمی کے لیے موثر نظام وضع کرنے میں کامیاب رہی اور نہ ہی نظام میں موجود خامیوں کو دورکرنے کے لیے مجوزہ اصلاحات بارآور ثابت ہوئیں۔ اس پالیسی کو متعارف کرائے جانے کے وقت سے لے کر اب تک عدالتوں میں زیر ِ التوا مقدمات کی تعداد میں کوئی واضح کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ معاشرے کے کمزور اور غریب افراد کو انصاف کی سہولت دستیاب نہیںہے۔ وہ وکلاکو بھاری فیس ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ وہ فیصلوں کے برس ہا برس تک منتظر رہتے ہیں ۔ بسا اوقات انصاف کا طالب خالقِ حقیقی سے جاملتا ہے لیکن مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوپاتا۔ اس کے علاوہ قانون کے لمبے ہاتھ طاقتور افراد کی گردن تک نہیں پہنچ پاتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بعض طاقتور حلقوں کے ذاتی مفادات عدالتی نظام میں انقلابی تبدیلیوں اور اصلاحات کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ اس سے ان کے مفاد پر زد پڑتی ہے۔ اس استحصالی نظام کا حصہ بنتے ہوئے بنچ اور بار، دونوں اس نظام کی اصلاح نہیں چاہتے۔درحقیقت عام آدمی کے مفاد سے لاتعلق گھسے پٹے اور دولت مند طبقے کے حقوق کے محافظ اس نظام میں عدلیہ اور قانون ساز اداروں کی نااہلی مسائل کی اصل ذمہ دار ہے۔ ملک کی کوئی سیاسی جماعت اس کی بہتری کا ایجنڈا نہیں رکھتی اور نہ ہی کبھی اس مسئلے کو انتخابی ایشو بنایا گیا ۔ اس کے برعکس جاگیر دار اور سرمایہ دار سیاست دانوں، اعلیٰ افسروں اور بیوروکریسی پر مشتمل حکمران اشرافیہ اس بات پر متحد دکھائی دیتی ہے کہ اصل طاقت اُن کے ہاتھ میں رہے اورنچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کا خواب شرمندہ ٔ تعبیر نہ ہونے پائے۔ 
جہاں تک جمہوریت کا تعلق ہے تویہ نظام بے لاگ احتساب کے بغیر اپنی مثبت فعالیت کھوبیٹھتا ہے۔اس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ احتساب کا عمل اُن سے شروع ہوجو دوسروں کا احتساب کرتے ہیں۔ انصاف ایسا ہوجو ہوتا ہوا دکھائی بھی دے، چنانچہ منصف حضرات اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ جو فیصلے کریں، اُن پر عمل بھی ہو۔ عوام کے مسائل اگر بیانات اور نعروں سے حل ہوسکتے تو اب تک پاکستان ایک مثالی ریاست بن چکا ہوتا ، لیکن افسوس، ایسا نہیں ہے۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ عوام کی اکثریت مایوسی سے کبھی سیاست دانوں کی طرف دیکھتی ہے تو کبھی جج حضرات کی طرف اور کبھی جنرلوں کی طرف۔ عوام کو مایوسی کی دلدل سے نکالتے ہوئے ملک کو پٹڑی پر ڈالنے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست کے تمام عناصر کو کڑے احتساب سے گزارا جائے۔ ایسا کرتے ہوئے یہ بات یقینی بنائی جائے کہ اس کا آغاز سیاست دانوں اور اعلیٰ سرکاری افسروںسے کیا جائے۔ یہ وہ اشرافیہ ہے جو نہ ٹیکس ادا کرتی ہے اور نہ ہی اپنے حقیقی اثاثے ظاہر کرتی ہے۔ ان میں اکثریت نے اپنے رشتہ داروں کے ناموں سے بھاری اثاثے بنارکھے ہیں۔ ایک بات طے ہے کہ اگر انتخابی عمل ان افراد کا احتساب نہ کرسکے تو جمہوریت بے معنی ہوجاتی ہے۔ ملک کے معروضی حالات میں جمہوریت سے مایوسی انتہائی خطرناک ثابت ہوگی کیونکہ اس سے پیدا ہونے والے خلاکو انتہا پسند طاقتیں پُر کرنے کے لیے موجود ہوں گی۔ ضروری ہے کہ سول سوسائٹی اور میڈیا سامنے آتے ہوئے پارلیمنٹ کو مجبور کردیں کہ وہ آئین کے آرٹیکل 19A کے تحت تمام معلومات تک شہریوں کی رسائی کو یقینی بنائے تاکہ شہری انصاف ہوتا دیکھ سکیں۔ صرف اس طرح ہی ان کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہوگا۔ 
آج کے پاکستان میں اگرعوامی رہنمائوں کا اثاثہ جات چھپانے کی پاداش میں کڑا احتساب ہونے لگے تو یقین جانیں کہ معاملات بہتری کی طرف گامزن ہونا شروع ہوجائیں گے۔ عوام اور میڈیا کو مطالبہ کرنا چاہیے کہ اُنہیں قومی رہنمائوں اور سیاسی جماعتوں کے اثاثہ جات کا علم ہو۔ اُنہیں پتہ ہونا چاہیے کہ کس حکومت نے کس کو قیمتی پلاٹ دیے ہیں اور اس کی وجہ سے حکومت نے کیا فائدہ اٹھایا ہے۔ حکومت کی طرف سے حاصل کردہ پرکشش پلاٹوں پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کے سیکشن 13(11) کے تحت کوئی انکم ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا۔ آئین کے آرٹیکل 19A کے مطابق ہر شہری کو حق ہے کہ وہ سرکاری اور عوامی عہدے رکھنے والے افراد کے اثاثے اور اداکردہ ٹیکس کی تفصیل سے آگاہ ہوسکے۔ یہ ضروری ہے کہ ریاست کے چاروں ستون خود کو عوام کے سامنے احتساب کے لیے پیش کردیں۔ یہ صرف اُس صورت میں ہی ممکن ہوسکتا ہے جب عوام کے پاس معلومات حاصل کرنے کا حق ہو۔ اس کامطلب ہے کہ اگر آئین کی روح کے مطابق عمل کیا جائے تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں اور معاشرے میں جاری بدعنوانی اور دیگر برائیوں کے آگے بند باندھنے کا سامان کیا جاسکتا ہے۔ اس عمل کی غیرموجودگی میں خاندانی اور سرمایہ دارانہ جمہوریت ہی پروان چڑھے گی اور عوامی مفاد کا خون ہوتا رہے گا۔ اس سلسلے میں پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ ہم اصلاحات کا جامع نظام اپنائیں اور ہر سطح پر احتساب کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ جج حضرات کے احتساب کی روایت بھی قائم ہونی چاہیے۔ اگر وہ بدعنوانی کے مرتکب پائے جائیں تو ان کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اورمشہور شاعر جیفری چوسر کے اس شعر کو یاد رکھا جائے۔۔۔''اگر سونے کو زنگ لگ جائے تو لوہے کا کیا بنے گا‘‘۔ جمہوریت کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وقتی اور بے ربط اقدامات کی بجائے جامع اصلاحات کو آگے بڑھایا جائے۔ ہنگامی اقدامات کی پالیسی ہمارا پہلے ہی بہت نقصان کرچکی ہے۔کتنی افسوس ناک بات ہے کہ اکثر کیسز میں خود ریاست ہی عوام کا استحصال کرتی ہے حالانکہ اُسے عوام کی داد رسی کرنا ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں ریاست کے قیام کا جواز کمزور ہوجاتاہے۔ 

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں