نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نومبرمیں مہنگائی 11.5 فیصدہوگئی، ادارہ شماریات
  • بریکنگ :- نومبرمیں ماہانہ بنیادوں پرمہنگائی میں 3 فیصداضافہ ریکارڈ
  • بریکنگ :- نومبرمیں سالانہ بنیادوں پرمہنگائی میں 0.8فیصداضافہ
  • بریکنگ :- نومبرمیں شہری علاقوں میں مہنگائی 12 فیصدہوگئی
  • بریکنگ :- دیہی علاقوں میں مہنگائی 10.9 فیصدہوگئی
  • بریکنگ :- اکتوبرمیں مہنگائی 9.2 فیصدتھی،ادارہ شماریات
  • بریکنگ :- نومبر2020میں مہنگائی 8.3 فیصدتھی، ادارہ شماریات
  • بریکنگ :- مہنگائی 21 ماہ کی بلندترین سطح پرپہنچ گئی، ادارہ شماریات
  • بریکنگ :- شہروں میں مہنگائی 12اوردیہات میں 10.9 فیصدرہی، دستاویز
  • بریکنگ :- نومبرمیں ماہانہ بنیادوں پرٹماٹر 131.64 فیصدمہنگے
  • بریکنگ :- گھی 10.87 اورکوکنگ آئل 9.71 فیصدمہنگا
  • بریکنگ :- سبزیاں 10.47،انڈے 10.19اورگوشت 2.63 فیصدمہنگا
  • بریکنگ :- نومبرمیں ماہانہ بنیادوں پردودھ 2.33اورچینی 1.43 فیصدمہنگی
  • بریکنگ :- نومبرمیں سالانہ بنیادوں پرگھی 58.29فیصدمہنگا
  • بریکنگ :- نومبرمیں سالانہ بنیادوں پر کوکنگ آئل 53.59 فیصدمہنگا
  • بریکنگ :- آٹا 10.26اورآلو 17.66 فیصدمہنگے
  • بریکنگ :- بجلی چارجز 47.87 ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 40.81 فیصداضافہ
  • بریکنگ :- ادویات کی قیمتوں میں 11.76 فیصداضافہ ریکارڈ
Coronavirus Updates

منی بجٹ پر اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،وفاقی چیمبر

منی بجٹ پر اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،وفاقی چیمبر

دنیا اخبار

آئی ایم ایف مطا لبات پر عمل درآمدسے 800ارب کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا ، موجودہ حالات میں ٹیکسز کا اضافی بوجھ برداشت کرنے کی سکت نہیں،ناصر مگوں

کراچی (بزنس رپورٹر )وفاقی چیمبرکے صدر میاں ناصر حیات مگو ں نے منی بجٹ کے حوالے سے پاکستان کی اعلیٰ ترین کاروباری، صنعتی اور تجارتی نما ئندہ تنظیم کو مشاورتی عمل میں شامل نہ کرنے پر حکومت کے رویہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایسی افواہیں گردش میں ہیں کہ حکومت اگلے ہفتے پیش ہو نیوالے منی بجٹ میں صرف منتخب مفادات کو سہولت فراہم کرے گی، اگر آئی ایم ایف کے تمام مطا لبوں پر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو پاکستانی عوام اور ایس ایم ایز کو 800 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ میاں ناصر حیات مگو ں نے وزیر خزانہ شوکت ترین کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معیشت کی موجودہ حالت میں ٹیکسوں کا اضافی بوجھ برداشت کرنے کی کوئی سکت نہیں اور ٹیکسوں کی مد میں مزید 350 ارب روپے کے بوجھ سے معیشت تباہ ہو جائے گی اور بالآخرحکومت کو اسٹیک ہولڈرز کو مشاورتی عمل میں شامل کرنا ہو گا تاہم تب تک بہت زیادہ معاشی نقصان ہو چکا ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement