نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن کاالیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سےمتعلق وزارت سائنس کوخط
  • بریکنگ :- وزارت سائنس کی نجی فرم سےخریدی گئی مشینیں قابل قبول نہیں ہوں گی، الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- وزارت کےمطابق ای وی ایم کی فراہمی کیلئے وہ کمپنی سےمعاہدہ کرےگی،خط
  • بریکنگ :- آئین کےتحت اوپن مارکیٹ سےمشینوں کی خریداری الیکشن کمیشن کاکام ہے،خط
  • بریکنگ :- بیرون ملک سےمشینیں خریدنی ہوں تو ای سی پی ٹینڈرنگ کرے گا، خط
  • بریکنگ :- وزارت سائنس آگاہ کرے کیا ماہرین نےمشینوں کی ٹیسٹنگ کی؟ خط
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن نےمیئراسلام آبادکےانتخاب کیلئے 3900مشینیں مانگ رکھی ہیں
Coronavirus Updates

سہولت بازار صرف کاغذوں میں فعال، مارکیٹ میں ریٹ کنٹرول کر لئے شہری وہاں سے خریداری کریں: ڈپٹی کمشنر کا مشورہ

سہولت بازار صرف کاغذوں میں فعال، مارکیٹ میں ریٹ کنٹرول کر لئے شہری وہاں سے خریداری کریں: ڈپٹی کمشنر کا مشورہ

صرف بینرز نظر آتے ،خریداری کیلئے جانیوالوں کو خالی پلاٹ ملتے ہیں، ذرائع ، سبسڈی والی 14اشیا بازاروں میں نہیں :ڈی سی

فیصل آباد(انجم ندیم سے )پنجاب حکومت کے سہولت بازار ، سبسڈی کے نام پر غریب شہریوں کے ساتھ مذاق بن گئے ، ضلعی انتظامیہ کے ریکارڈ میں فیصل آباد شہر اور تحصیلوں میں 10 سہولت بازار فعال ہیں ، حقیقت میں سہولت بازار کا وجود صرف کاغذوں کی حد تک محدود ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ شہریوں کو اشیائے خور و نوش عام بازار میں بھی کنٹرول ریٹ پر مہیا کر رہے ہیں اس لئے سہولت بازار مکمل فعال نہیں ،پنجاب حکومت کی ہدایت پر فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ نے مہنگائی سے ریلیف دینے کے لئے شہریوں کو زندگی کی 14 بنیادی ضرورت کی اشیا پر سبسڈی دینے کا دعویٰ کر رکھا ہے جس کے لئے سہولت بازار فیصل آباد شہر میں فیضان مدینہ سوساں روڈ ، فوارہ چوک بٹالہ کالونی ، کلیم شہید پارک نڑ والہ روڈ ، ریاض شاہد چوک نزد اقبال سٹیڈیم جبکہ باقی 6 بازار تحصیل صدر میں سستا ماڈل بازار جھنگ روڈ ، جڑانوالہ میں اڈہ کھرڑیانوالہ ، مسجد بازار جھمرہ روڈ ، تاندلیانوالہ میں قائداعظمؒ روڈ نزد لاری اڈہ ، سمندری میں گوجرہ روڈ رکشہ سٹینڈ اور چک جھمرہ میں چنیوٹ روڈ جناح پارک پر قائم ہیں ، ان بازاروں میں پنجاب حکومت کی جانب سے آٹا ، دالیں ، بیسن ، چینی ، سبزیاں اور پھل سبسڈی پر ملنا تھے تاہم غریب شہریوں کو سبسڈی دینا تو دور بازار ہی سرے سے غائب ہیں ، شہری علاقوں میں قائم ان بازاروں کے مقرر کردہ علاقوں میں صرف سہولت بازار کے بینرز نظر آتے ہیں جبکہ تحصیلوں میں سہولت بازار کے بینرز بھی غائب ہیں ، شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک جانب مہنگائی کا طوفان ہے اور پھر ضلعی انتظامیہ پنجاب حکومت کی ہدایت پر سہولت بازار کے نام پر غریبوں کو سہولت دینے کے بجائے ان کا مذاق اڑا رہی ہے ، سستی اشیا خریدنے کرایہ خرچ کر کے ان بازاروں کا رخ کرتے ہیں اور آگے سے بازار کی جگہ پر خالی اجڑے پلاٹ نظر آتے ہیں ، ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے سہولت بازاروں کے غیر فعال ہونے پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا سہولت بازار ضلع بھر میں مقرر کردہ تعداد کے مطابق قائم ہیں تاہم بازار میں14 بنیادی ضرورت کی اشیا جن پر پنجاب حکومت نے سبسڈی دی ہے وہ تمام دستیاب نہیں ہیں کیونکہ مارکیٹ میں ہر جگہ ہم اشیائے خور و نوش کنٹرول ریٹ میں فروخت کروانے پر کامیاب ہیں شہری سہولت بازار کے بجائے اپنے قریبی علاقوں سے کنٹرول ریٹ پر اشیاخریدیں ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں