انتظامیہ کی عدم دلچسپی، شیشہ فلیورز اور ویپ کی فروخت جاری
پوش علاقوں کی پان شاپس اور مالز میں شیشہ سامان باآسانی دستیاب
فیصل آباد(خصوصی رپورٹر)ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی عدم دلچسپی کے باعث شیشے کے فلیورز اور دیگر سامان سمیت پاکٹ سائز چارج ایبل ویپ کی کم عمر بچوں کو فروخت بند نہ ہوسکی۔ پوش علاقوں میں موجود بڑے پان شاپس پر شیشہ فلیورز، کوئلے ، فوئل پیپر، لیکوئیڈ فلیور سمیت الیکٹرک ڈیوائسز بھی باآسانی دستیاب ہیں۔ شیشہ کیفیز پر لگائی گئی پابندی بھی رائیگاں گئی، سامان کی آسان دسترس کے باعث شیشہ کیفیز بن گئے ،کم عمر بچوں کو بھی الیکٹرک سگریٹ یا ویپ فروخت کئے جانیکا انکشاف ہوا ہے ۔حکومت کی جانب سے حقے کی ایک شکل یعنی شیشے کے نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے شیشہ کیفیز پر پابندی لگا دی تھی۔ شیشہ کیفیز میں نوجوان شیشے کے حقے میں نکوٹین اور فلیور ملے تمباکو کو ڈال کر کوئلے سے جلا کر حقے کی طرح استعمال کرتے تھے۔
اسکے نقصانات سامنے آنے پر کیفیز کو کئی سال پہلے ہی بند کروا دیا گیا تھا مگر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی عدم توجہ کے باعث شیشے کے فلیورز، فوئل پیپر، کوئلے اور پاکٹ سائز چارج ایبل ویپ سمیت دیگر سامان کی فروخت بند نہ ہوسکی۔ شہر کے پوش علاقوں میں موجود پان شاپس اور شاپنگ مالز میں سرعام شیشے کے حقے اور فلیورز کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے ، نوجوان اب بھی باآسانی فلیورز، کوئلے ، فوئل پیپر اور شیشے کا حقہ خرید کر استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اب گھر گھر شیشہ کیفیز بن چکے ہیں اور کوئی روکنے والا نہیں۔طبی ماہرین متعدد بار خطرے کی گھنٹی بجا چکے ہیں کہ شیشے کے حقے میں ڈالے جانے والے فلیورز کا استعمال سگریٹ سے بھی زیادہ خطرناک ہے ، اس کے استعمال سے سانس کی نالیوں، پھیپھڑوں اور جگر پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ اس کے مسلسل استعمال سے پھیپھڑوں میں زخم بھی ہوسکتے ہیں، جو بعدازاں جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔