ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام ٹھپ، مریضوں میں اضافے کا خدشہ
باربرز اور بیوٹی سیلونز کی رجسٹریشن کا عمل ایک سال سے معطل ہے :ذرائع
فیصل آباد(خصوصی رپورٹر)حکومت پنجاب اور محکمہ پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی جانب سے شروع کیا جانے والا ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام ٹھپ ہوگیا جبکہ حجاموں اور بیوٹی سیلونز کی رجسٹریشن کا سلسلہ بھی بند ہو چکا، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی عدم دلچسپی اور غفلت کے باعث ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب اور محکمہ پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر کی ہدایت پر سات سال قبل ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی جانب سے بیوٹی سیلونز اور باربرز کی رجسٹریشن اور ہیلتھ سرٹیفکیٹس چیک کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا، اس کے تحت باربرز کو بلیڈ کٹر بیگز اور جراثیم کش کٹس فراہم کی گئی تھیں۔اس پروگرام کے تحت فیصل آباد میں تقریباً 600 سیلونز اور باربرز کو رجسٹرڈ کیا گیا تھا۔ باربرز اور بیوٹی سیلونز پر کام کرنے والے عملے کے میڈیکل ٹیسٹ بھی کروائے گئے تاکہ یہ چیک کیا جا سکے کہ وہ کسی ایسے مرض میں مبتلا نہ ہوں جو ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہو سکتا ہو۔ذرائع کے مطابق باربرز کو دی جانے والی کٹس کی مالیت لاکھوں روپے تھی تاہم حکومت تبدیل ہونے کے بعد یہ منصوبہ بھی انتظامی غفلت کی بھینٹ چڑھ کر ٹھپ ہوگیا،باربرز اور بیوٹی سیلونز کی رجسٹریشن کا عمل بھی گزشتہ ایک سال سے رک چکا ہے ۔