نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- شاہ محمودقریشی،فوادچودھری،اسدعمر،اسپیکراسدقیصربھی شریک
  • بریکنگ :- وزیرمملکت فرخ حبیب،زرتاج گل،ڈاکٹرنوشین حامداوردیگرکی شرکت
  • بریکنگ :- قومی اسمبلی کےہرحلقےمیں 6،صوبائی حلقےمیں 3 فلٹریشن پلانٹس لگائیں گے،گورنر
  • بریکنگ :- بغیرسیاسی تفریق قومی وصوبائی حلقوں میں پلانٹس لگیں گے،گورنرپنجاب
  • بریکنگ :- ضرورت پڑی تومزیدفلٹریشن پلانٹس لگانےکیلئےآب پاک تیارہے،چودھری سرور
  • بریکنگ :- آب پاک اتھارٹی جیسامنصوبہ خیبرپختونخوامیں شروع کرناچاہتےہیں،اسدقیصر
  • بریکنگ :- گورنرپنجاب چودھری سرورکاوزرا،ایم این ایزکےاعزازمیں استقبالیہ
  • بریکنگ :- پینےکےصاف پانی کےمعاملےپرپنجاب آب پاک اتھارٹی کےساتھ ہیں،شاہ محمود
Coronavirus Updates

گجرات : میونسپل کارپوریشن کی اراضی پر مبینہ قبضہ

 گجرات : میونسپل کارپوریشن کی اراضی پر مبینہ قبضہ

دنیا اخبار

چار دیواری گر انے کیلئے آ نیوالے عملے کو دھمکیاں دے کر بھگا دیا گیا ,اراضی خریدی ہے :علی ذوالقرنین،نا جا ئز قبضہ کیا گیا:کارپوریشن حکام

گجرات(سٹی رپورٹر )حسن چوک میں میونسپل کارپوریشن کی اراضی پر قبضہ کرکے راتوں رات چار دیواری تعمیر کر دی گئی، میونسپل کارپوریشن کے عملہ نے چار دیواری کو گرانا چاہا تو عملہ کو دھمکیاں دے کر بھگا دیا گیا،قمر عثمان اور علی ذوالقرنین نے بااثر شخصیات کی سرپرستی میں میونسپل کارپوریشن کی جگہ پر قبضہ کر کے چار دیواری تعمیر کر لی۔ بتایا گیا کہ حسن چوک میں واٹر فلٹریشن پلانٹ اور پارکنگ پلازا کیساتھ میونسپل کارپوریشن کی 18کنال ، 13 مرلے اراضی کے کچھ حصہ پر قمر عثمان اور ان کے بھائی علی ذوالقرنین ساکن محلہ حسن پورہ نے ناجائز تعمیر شروع کر دی۔ بلدیہ کے ملازمین کے روکنے کے باوجود چار دیواری مکمل کر لی گئی۔ چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن کے مطابق علی ذوالقرنین کا قبضہ ناجائز ہے انہوں نے میونسپل کارپوریشن کے ملکیتی حصہ پر قبضہ کیا ہے ۔ محکمہ کی طرف سے ان کا نقشہ منسوخ کیا گیا مگر انہوں نے ناجائز طریقے سے چار دیواری تعمیر کی ہے ۔ 1995 میں میونسپل کارپوریشن نے محکمہ اوقاف کی اراضی اپنے نام رجسٹر کرائی جس پر پارکنگ پلازابھی تعمیر کیا گیا مگر کچھ حصے پر علی ذوالقرنین نے قبضہ کر لیا۔ علی ذوالقرنین کا کہنا ہے کہ یہ اراضی میں نے خریدی ہے ، ہم عدالت کے حکم پر اور اپنی رجسٹری کے مطابق تعمیر کر رہے ہیں مگر کسی قسم کا کوئی قبضہ نہیں کر رہے ، عدالت کا حکم ہے کہ چیف آفیسر مداخلت نہیں کر سکتے ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں