ایچ ایٹ میں قائم اسلام آباد کے پہلے قبرستان میں 20 ہزار افراد مدفون
1965 میں 50ایکڑ رقبے پر مشتمل پہلا شہر خا موشاں 2007میں بند کرکے نیا قبرستان ایچ الیون میں قائم کیا گیا
پہلے قبرستان میں احمد فراز، پروین شاکر ، مولانا کو ثر نیازی، قدرت اللہ شہاب ، جوش ملیح آبادی ،صدیق سالک سمیت کئی نامور ہستیاں محو خواب اسلام آباد (ماہتاب بشیر/تصاویر : وہاب چغتائی ) وفاقی دارالحکومت میں سی ڈی اے نے شہر کی تزئین و آرائش اور مفاد عامہ کے لئے دو ایسے اقدامات کئے ہیں جنہیں گزشتہ چار دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزرنے پر بھی شہریوں کی جانب سے سراہا جاتا ہے ، ان میں سے ایک سیکٹر ایچ ایٹ اوردوسرا ایچ الیون میں قائم قبرستان اور سیکٹر ایچ نائن ، جی سکس اور جی ٹین میں ہفتہ وار سستے بازار کا قیام ہے ۔ 1965 میں وفاقی دارالحکومت کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کے فوری بعد انتظامیہ کی جانب سے 50 ایکٹر اراضی پر محیط سیکٹر ایچ ایٹ میں شہر ِ خاموشاں آباد کیا گیا جو 2007 میں 20000سے زائد افراد کی تدفین کے بعد بند کر دیا گیا۔سی ڈی اے نے بعد ازاں 80ایکڑ اراضی پر محیط اسلام آباد کے سیکٹر H-11میں شہر کا دوسرا قبرستان آباد کیا جس میں ابتک 39ویں پلاٹ میں تدفین جاری ہے ۔انتظامیہ کے مطابق یہ قبرستان اگلے 20سال تک کے لئے کافی ہو گا۔ فیض احمد فیض روڈ پر واقع H-8قبرستان شہر کا پہلا قبر ستان تھا جس میں مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے نامور افراد بھی ابدی نیند سو رہے ہیں۔ 1965-66 میں تدفین کے لئے مختص کردہ قبرستان کے پہلے پلاٹ میں صرف گیارہ قبریں ایسی ہیں جن کے کتبے موجود ہیں اور قبریں بھی اصل حالت میں موجود ہیں جبکہ مذکورہ پلاٹ میں مجموعی طور پر 125افراد کی تدفین عمل میں لائی گئی تھی۔ اس حوالے سے روزنامہ دنیا نے جب پلاٹ نمبر 1کا سروے کیا تو معلوم ہوا کہ ان 125افراد کی قبروں میں سے صرف 11کے قریب ایسی قبریں ہیں جو اپنی اصل حالت میں موجود ہیں دیگر تمام قبریں جو کچی رکھی گئی تھیں لواحقین کی عدم آمد و رفت کے باعث زمین سے مل چکی ہیں یا پھر ختم ہونے کے قریب ہیں، سی ڈی اے انتظامیہ نے ہر پلاٹ میں موجود قبر کو نمبر دیا ہوا ہے اور مرحومین کے نام کا ریکارڈ بھی محفوظ کر رکھا ہے ،جو قبریں اصل حالت میں موجود ہیں ان پر لگائے گئے کتبے زبوں حالی کا شکار ہیں، بعض کے لواحقین دوسرے شہروں میں منتقل ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے کچی قبریں مٹتی جا رہی ہیں ۔اس وقت ایچ ایٹ قبرستان میں سی ڈی اے کے پچیس مالی اور دو گور کن تعینات ہیں ، گو رکنوں کے تعداد کم اس لئے بتائی جاتی ہے کیونکہ اس قبرستان میں صرف ان افراد کی تدفین کا عمل جاری ہے جن کے لئے پیشگی جگہ مختص کروائی گئی تھی۔ ایچ ایٹ قبرستان میں مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے نامور افراد بھی ابدی نیند سو رہے ہیںجن میں احمد فراز، پروین شاکر، الطاف گو ہر، قدرت اللہ شہاب، جو ش ملیح آبادی، زبیدہ آغا، صدیق سالک، کرم حیدری، مو لانا کو ثر نیازی، ممتاز مفتی، محمد منشا یاد، مسعود ملک، طفیل نیازی، نسیم حجازی، بیگم وقار النساء نون، یاسین رضوی، قاضی علیم اللہ عارفی، مولانا محمد اسما عیل ذبیح، اعجاز راہی اور دیگر شامل ہیں۔