سندھ کے تاریخی مقامات معلومات کا خزانہ ہیں،محمد علی شیخ

 سندھ کے تاریخی مقامات معلومات کا خزانہ ہیں،محمد علی شیخ

نئی نسل کو سندھ کی تاریخ سے آگاہی نہیں دی جاتی،وی سی ایس ایم آئی یو اساتذہ اور عملے کے ساتھ بھنبھور،ہالیجی جھیل اور مکلی کے قبرستان کادورہ

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ نے کہا ہے کہ سندھ کی تاریخی حیثیت دلچسپ اور یہاں کے تاریخی مقامات معلومات کا خزانہ لیے ہوئے ہیں لیکن افسوس کہ نئی نسل کو سندھ کی تاریخ اور ان تاریخی مقامات سے آگاہی نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے معلومات کے تبادلے کا عمل کہیں ٹھہر گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اپنی جامعہ کے اساتذہ اور اسٹاف ممبرز پر مشتمل گروپ کے ساتھ سندھ کے تاریخی مقامات بھنبھور،ہالیجی جھیل اور مکلی کے تاریخی قبرستان کے دورے کے موقع پر کیا۔انہوں نے کہا کہ اس ایک روزہ دورے کا مقصد سندھ کی تاریخ سے متعلق معلومات جمع کرنا اور مزید آگاہی حاصل کرنا ہے۔ دیگر تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو بھی یہاں کا دورہ کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے طلبہ و طالبات کو ان تاریخی مقامات کی اہمیت سے آگاہ کرسکیں۔ دریں اثنا بھنبھور پہنچنے پر وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ نے وفدکو بتایاکہ یہ وہ مقام ہے جہاں سے محمد بن قاسم سندھ میں داخل ہوئے تھے اورلوک داستان سسی پنوں کا تعلق بھی اسی مقام سے تھا۔ وفد میں شامل لوگوں نے بھنبھور کے اس مقام کا بھی مشاہدہ کیا جہاں پر چند دن قبل اطالوی ماہرین نے تازہ کھدائی کرکے وہاں سے نئی دریافت حاصل کی ہیں ۔ اس موقع پر وہاں پر موجود سرکاری کیوریٹر نے بتایا کہ ماہرین نے تازہ کھدائی سے کئی نادر نوادرات دریافت کیے ہیں اور یہ ماہرین مزیدکھدائی کرنے کیلئے دسمبر میں دوبارہ یہاں آئیں گے ۔ وفد کے شامل اراکین نے بھنبھور قلعے کی دیوار کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد علی شیخ کی جانب سے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری پیش کی گئی، سسی پنوں کے کردار کے متعلق بھی وفد کو آگاہ کیاگیا۔ اس ایک روزہ دورے کا اختتام دنیا کے سب سے بڑے اور تاریخی قبرستان مکلی کے دورے پر ہوا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں