نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- راولپنڈی،اسلام آبادمیں رات سےاب تک 122 ملی میٹربارش ریکارڈ
  • بریکنگ :- راولپنڈی:موسلادھاربارش سےنالہ لئی میں پانی کی سطح بلند
  • بریکنگ :- راولپنڈی:بارش کےباعث نشیبی علاقےزیرآب
  • بریکنگ :- راولپنڈی:نالہ لئی میں طغیانی کاخدشہ،تمام اداروں کوالرٹ جاری
  • بریکنگ :- راولپنڈی:پاک فوج کےدستےبھی گوالمنڈی میں موجود
  • بریکنگ :- وفاقی دارالحکومت میں بارش،ای الیون میں سیلابی صورتحال
  • بریکنگ :- اسلام آباد:انتظامیہ اوردیگراداروں کاعملہ ای الیون پہنچ گیا
  • بریکنگ :- مسلسل بارش کےبعدسیلابی صورتحال میں متعددگاڑیاں بہہ گئیں
  • بریکنگ :- اسلام آباد:صورتحال بہترکرنےکی کوشش کی جارہی ہے،ڈی سی
  • بریکنگ :- سیلابی صورتحال،شہریوں کوغیرضروری نقل وحرکت سےروک دیاگیا
  • بریکنگ :- شہری کچھ گھنٹوں کیلئےغیرضروری نقل وحرکت نہ کریں،ڈی سی
Kashmir Election 2021

وفاق، نیپرا کے الیکٹرک کی سرپرستی بند کرے، حافظ نعیم

وفاق، نیپرا کے الیکٹرک کی سرپرستی بند کرے، حافظ نعیم

دنیا اخبار

کمپنی کا لائسنس منسوخ، عوام کی واجب الادا رقم کی واپسی یقینی بنائی جائے،کے الیکٹرک ہیڈ آفس گزری کے سامنے دھرنے سے اسامہ رضی، عمران شاہد کا بھی خطاب

کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کر کے قومی تحویل میں لیا جائے، بجلی کمپنی کی اجارہ داری ختم کر کے 15 سال کا فارنزک آڈٹ کیا جائے، شہر کے اسٹیک ہولڈرز کی کمیٹی بنائی جائے ، قومی اداروں سمیت عوام کی واجب الادا رقم کی واپسی یقینی بنائی جائے۔ جماعت اسلامی کے تحت شہر میں بد ترین لوڈشیڈنگ، کے الیکٹرک کی نا اہلی و ناقص کارکردگی، وفاقی حکومت اور نیپرا کی جانب سے بجلی کمپنی کی سرپرستی کے خلاف احتجاجی مہم اور حق دو کراچی کو تحریک کے سلسلے میں کے الیکٹرک ہیڈ آفس گزری کے سامنے احتجاجی دھرنے سے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت اور نیپرا کے الیکٹرک کی سرپرستی بند کرے، ہم پرامن احتجاج اور دھرنا دے رہے ہیں، لیکن انتظامیہ اور حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ احتجاج کے لیے سڑکوں کا رخ بھی کر سکتے ہیں، کے الیکٹرک اور اس کے سرپرستوں کو بے نقاب کر کے رہیں گے، کے الیکٹرک انتظامیہ کو فرار کرانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ہمارا دھرنا جاری ہے اور مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ دھرنے میں کے الیکٹرک کے ستائے ہوئے شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن میں نوجوان، بچے ، بزرگ، مختلف طبقات اور شعبہ زندگی سے وابستہ افراد نے بھی شرکت کی۔ دھرنے سے ڈاکٹر اسامہ رضی، عمران شاہد نے بھی خطاب کیا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں