نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- شاہ محمودقریشی کی اقوام متحدہ کےہائی کمشنربرائےمہاجرین سےملاقات
  • بریکنگ :- نیویارک:افغانستان کی صورتحال اورباہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ نےموجودہ صورتحال میں یواین ایچ سی آرکےکردارکوسراہا
  • بریکنگ :- ہائی کمشنرنےافغانستان سےانخلاکےعمل میں معاونت پرپاکستان کاشکریہ اداکیا
  • بریکنگ :- پاکستان افغانیوں کی انسانی بنیادوں پرمعاونت جاری رکھےہوئےہے،شاہ محمود
  • بریکنگ :- افغانستان کوانسانی بحران سےنکالنےکےلیےمعاونت کی فراہمی ناگزیرہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- محدودوسائل میں مزیدمہاجرین کی میزبانی کابوجھ نہیں اٹھاسکتے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- فلیپوگرانڈی نے 40 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی پرپاکستان کےکردارکو سراہا
Coronavirus Updates

گلی محلے کچرا کنڈی میں تبدیل سوریج نظام تباہ

گلی محلے کچرا کنڈی میں تبدیل سوریج نظام تباہ

دنیا اخبار

سالڈ ویسٹ اور بلدیاتی اداروں کی غفلت کے باعث کچرا نہ اٹھایا جاسکا، شہر کا ماحول تعفن زدہ ہو گیا، مکھیوں اور مچھروں کی بہتات، مختلف بیماریاں جنم لینے لگیںشاہراہ قائدین سمیت دیگر علاقوں میں سیوریج کے پانی سے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئیں، بیشتر مقامات پر تعمیراتی ملبہ بھی سڑکوں پر موجود

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سالڈ ویسٹ ڈپارٹمنٹ کا عملہ شہرکی گلیوں اورسڑکوں پر موجود کچرے کے ڈھیروں کو صاف کرنے میں ناکام ہوگیا، جس سے مختلف علاقوں میں تعفن پھیل رہا اور مکھیوں و مچھروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، گلی محلوں میں کچرے اورسیوریج لائنوں کی خرابی کے باعث نکلنے والے گندے پانی سے مختلف بیماریاں جنم لے رہی ہیں، اس وقت بھی شہرمیں سیکڑوں مقامات پر سیوریج کا پانی سڑکوں اور گلیوں میں موجود ہے، جس کی سب سے بڑی مثال مزار قائد کے سامنے ایم اے جناح روڈ اور نیو ایم اے جناح روڈ کے سنگم پر موجود سیوریج کا پانی ہے، جو وہاں گزشتہ کئی ہفتوں سے موجود ہے۔ اسی طرح شاہراہ قائدین انڈر پاس میں گندے پانی سے سڑک بھی ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہورہی ہے، جس میں کچرا بھی شامل ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس وقت شہر میں محتاط اندازوں کے مطابق روزانہ پندرہ سے سولہ ہزار ٹن کچرا پیدا ہو رہا ہے، جس میں سے صرف چند ہزار ٹن کچرااٹھایاجارہاہے۔ چائنیزکمپنی صوبائی حکومت سے اربوں روپے وصول اور شہر کے سات میں سے چھ اضلاع کے کنٹریکٹ حاصل کرنے کے باوجود صفائی ستھرائی کے حوالے سے کوئی تاثر قائم نہیں کرسکی۔ پیر کو سالڈویسٹ ڈپارٹمنٹ نے عید کے بعد سے پیر تک پچاس ہزار ٹن کچراٹھانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ اس دوران روزانہ کے حساب سے دس دن میں کم وبیش ڈیڑھ لاکھ ٹن کچرا پیدا ہو رہا ہے جبکہ ٹھکانے صرف پچاس ہزارٹن لگایاگیا ہے۔ سالڈویسٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر کچرااٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا رجحان ختم ہوتا جا رہا ہے، کچرا اٹھانے والی گاڑیاں متبادل دنوں میں کچرا اٹھاتی ہیں جس سے کچرا کنڈیوں میں جمع ہونے والاکچرا ہوا کے ساتھ گلیوں محلوں میں پھیلتا ہے اورسیوریج وبرساتی نالوں میں بھی جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق شہر کے بیشتر علاقوں میں تعمیراتی ملبہ بھی سڑکوں پر موجود ہے جس کے ساتھ پلاسٹک کی تھیلیاں اسے کچرے کی شکل دیتی ہیں، تعمیراتی ملبہ بلدیاتی اداروں کی غفلت کے باعث ہفتوں سڑکوں اورگلیوں میں پڑا رہتا ہے، جس سے شہر میں صفائی ستھرائی کا تاثر مزید خراب ہو رہا ہے۔ شہر میں صفائی ستھرائی کا جائزہ لینا ضلعی انتظامیہ، کمشنر کراچی و ڈپٹی کمشنرز کی بھی ذمہ داری ہے۔ روزنامہ دنیا نے اس سلسلے میں کمشنر کراچی سے موقف معلوم کرنے کیلئے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں