نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی زیر صدارت پارٹی رہنماؤں کااجلاس
  • بریکنگ :- ٹارگٹڈسبسڈی پروگرام وفاق اورصوبائی حکومتوں کی معاونت سےشروع ہوگا،فیصلہ
  • بریکنگ :- غریب طبقےکیلئےٹارگٹڈسبسڈی کاپروگرام شروع کیاجائے،وزیر اعظم
  • بریکنگ :- ملک میں موجودہ مہنگائی کی لہرکااحساس ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- صحت،کسان کارڈاوراحساس پروگرام کادائرہ کاربڑھارہےہیں،وزیر اعظم
  • بریکنگ :- اسلام آباد:سندھ میں آٹےکی بڑھتی قیمت پرتشویش کااظہار
  • بریکنگ :- ثانیہ نشترکی وزیراعظم کواحساس ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام پربریفنگ
  • بریکنگ :- وزیر خزانہ شوکت ترین کی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت
  • بریکنگ :- وزیراعظم کو ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام کی تیاریوں پر بریفنگ
  • بریکنگ :- پسماندہ طبقےکیلئےاحساس ٹارگٹڈسبسڈی پروگرام رواں سال شروع ہوگا،بریفنگ
  • بریکنگ :- پروگرام کےذریعےمخصوص اشیاپرکریانہ اسٹورسےخریداری پررعایت ہوگی، بریفنگ
  • بریکنگ :- وزیر اعظم کی ٹارگٹڈسبسڈی پروگرام کوجلدحتمی شکل دینےکی ہدایت
Coronavirus Updates

وائلڈلائف پروٹیکشن،تھانوں کے قیام کی منظوری

وائلڈلائف پروٹیکشن،تھانوں کے قیام کی منظوری

دنیا اخبار

کراچی سمیت ٹھٹھہ، سجاول، بدین، جامشورو اورحیدرآباد میں تھانے بنیں گے،نفری فراہم ،جنگلی جانوروں کے غیرقانونی شکارپرمقدمہ ہوگا،جاوید مہرکی گفتگو

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ حکومت کی جانب سے وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ پر 3سال بعد عملدرآمد شروع کر دیا گیا ،کراچی سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں وائلڈ لائف پروٹیکشن پولیس اسٹیشن قائم کئے جائیں گے ۔ اس حوالے سے محکمہ سندھ وائلڈ لائف کے کنزرویٹر جاوید مہر نے روزنامہ دنیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایکٹ منظور ہونے کے بعد محکمے میں اہلکاروں کی کمی کے باعث اس کام میں تعطل پیدا ہوا تاہم سندھ حکومت کی دلچسپی کے باعث اب جلد ہی کراچی سمیت ٹھٹھہ ،سجاول ،بدین ، ٹنڈو محمد خان ،جامشورو اور حیدرآباد میں خصوصی طور پر وائلڈ لائف پروٹیکشن کے لیے تھانو ں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ 2019میں وائلڈ لائف ایکٹ کے سیکشن 64 کے تحت ان تھانوں کے قیام کی منظوری دی گئی تھی ،جس کے لیے اب نفری فراہم کردی گئی ہے ۔مذکورہ تھانوں کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ جنگلی جانوروں کو غیرقانونی طور پر پکڑنے یا شکار کرنے پر ایف آئی آر ہو سکے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ملک بھر میں اپنی نوعیت کے پہلے تھانے ہوں گے جو جنگلی اور آبی حیات کی اسمگلنگ اور انہیں غیر قانونی فروخت کرنے والوں کو گرفتار کر سکیں گے۔ واضح رہے کہ کئی بااثر افراد سائیبریا سے آنے والے پرندوں کا شکار کرتے ہیں جو کہ ممنوع ہے جبکہ کینجھر جھیل میں پائے گئے مگرمچھوں کو بھی ان بااثر افراد نے نہیں بخشا اور وہاں سے پکڑ کر دیگر مقامات پر منتقل کر دیا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں