نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- 24گھنٹےسےکورونا کے کیسزبڑھ رہے ہیں،مرتضیٰ وہاب
  • بریکنگ :- 125مریض آکسیجن پرمنتقل کیےگئےہیں،مرتضیٰ وہاب
  • بریکنگ :- اسپتالوں پردباؤبڑھناشروع ہوچکاہے،مرتضیٰ وہاب
  • بریکنگ :- کراچی میں 22مریض وینٹی لیٹرپرہیں،مرتضیٰ وہاب
  • بریکنگ :- شہری بوسٹرویکسین لازمی لگوائیں،مرتضیٰ وہاب
  • بریکنگ :- این سی اوسی نےصوبائی حکومتوں کوتجاویزدی ہیں،مرتضیٰ وہاب
  • بریکنگ :- این سی اوسی فیصلوں پرعملدرآمدکرائیں گے،مرتضیٰ وہاب
  • بریکنگ :- 24جنوری سےان ڈورسرگرمیوں پرپابندی کی تجاویزبھی ہیں،مرتضیٰ وہاب
  • بریکنگ :- منی بجٹ پاس ہوتے ہی بجلی اورپٹرول مہنگےہوگئے،مرتضیٰ وہاب
  • بریکنگ :- منی بجٹ کےبعدادویات بھی مہنگی ہوچکی ہیں،مرتضیٰ وہاب
  • بریکنگ :- منی بجٹ کی وجہ سےملک میں مہنگائی ہے،مرتضیٰ وہاب
  • بریکنگ :- گرمی میں بجلی اورسردی میں گیس دستیاب نہیں،مرتضیٰ وہاب
  • بریکنگ :- سندھ کےکچھ اسپتالوں میں ملک بھرکےمریضوں کاعلاج ہوتاہے،مرتضیٰ وہاب
Coronavirus Updates

کروڑوں کے فلیٹس خریدنے والے سڑکوں پر آگئے، شہروں میں ہی مکینوں کو مہاجر بنادیا گیا، ہائیکوٹ

کروڑوں کے فلیٹس خریدنے والے سڑکوں پر آگئے، شہروں میں ہی مکینوں کو مہاجر بنادیا گیا، ہائیکوٹ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے مکہ ٹیرس کیس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) سے 1 ماہ میں پیش رفت رپورٹ طلب کر لی۔

دوران سماعت جسٹس سید حسن اظہر رضوی کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ شہروں میں ہی مکینوں کو مہاجر بنا دیا گیا، کروڑوں روپے کے فلیٹس خریدنے والے آج سٹرکوں پر آگئے ہیں، ان سے پوچھیں جنہوں نے زندگی بھر کی جمع پونچی لگائی ہے ۔ جمعہ کو جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سر براہی میں دو رکنی بینچ نے مکہ ٹیرس کے انہدام کے لیے فرحان اور انہدامی عمل کے خلاف محمد بلا ل کی درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر عدالت نے بلڈر کو غلط بیانی پر جھاڑ پلا تے ہوئے استفسار کیاکہ ایک فلیٹ کی کتنی قیمت ہے؟۔ جس پر بلڈر کاکہناتھا کہ ایک فلیٹ کی قیمت20 لاکھ روپے ہے ۔

سماعت کے دوران عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ داڑھی رکھ کر جھوٹ بولتے ہو، ایسا ہے تو ناظر کے ذریعے پوری عمارت خرید لیتے ہیں، ایسا بیان مت دو، صدر میں ایک پورشن 20 لاکھ کا، کیا کہہ رہے ہو، 1 کروڑ سے سوا کروڑ کا فلیٹ ہوگا، 20 لاکھ روپے میں تو سپرہائی وے پر پلاٹ نہیں ملتا، کسی سے زیادتی نہیں ہونے دیں گے، صرف چاہتے ہیں غیر قانونی حصہ گرایا جائے۔ اس موقع پر عدالت نے ایس بی سی کے افسران سے استفسار کیاکہ کیا عمارت پر کارروائی کا طریقہ کار محفوظ ہے؟۔ جس پرافسران کاکہناتھا کہ محفوظ طریقہ کار کے تحت کارروائی کر رہے ہیں۔

دوران سماعت عدالت کا کہنا تھا کہ ایمانداری سے کام کریں، کسی سے زیادتی نہ ہو، نقصان دوسروں کو پہنچاؤ گے تو خود بھگتو گے ، اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے ، عمارت کا حصہ ایسے توڑا جائے کہ پوری عمارت متاثر نہ ہو۔ سماعت کے موقع پر عدالت نے ایس بی سی اے افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے افسران نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں، کیا اپنے افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی؟ اچھے افسران ہیں، نہ مشینری، نسلہ ٹاور کے لیے کمشنر مشینری تلاش کرتا رہا۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں