ہائیڈرنٹس کی نئی نیلامی کا لائحہ عمل بنانے کا حکم
سرکاری اثاثوں کی خریداری مساوی مواقع کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیےموجودہ انتظامات کو فوری غیرقانونی قرار دینا قبل از وقت ہوگا،سندھ ہائیکورٹ
کراچی (اسٹاف رپورٹر ) سندھ ہائیکورٹ نے واٹر کارپوریشن کو دو ماہ میں ہائیڈرنٹس کے ٹھیکوں کی نئی نیلامی کا لائحہ عمل بنانے کا حکم دیدیا۔ ہائیڈرنٹس کے ٹھیکوں کی مدت ختم ہونے پر نئے ٹینڈر نہ کرنے کی درخواست نمٹا دی گئی، درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ٹھیکوں میں شفافیت اور منصفانہ مقابلے کے اصول پامال کیا جارہا ہے ، پرانے ٹھیکوں کی مدت ختم ہوچکی، اس کے باوجود نئے ٹھیکوں کی نیلامی نہیں کی جا رہی۔ درخواست گزار نے کہا کہ اس حالت میں ہائیڈرنٹس آپریشن جاری رکھنا عوامی مفاد کیخلاف ہے ، بغیر قانونی اختیار ہائیڈرنٹس چلانا گورننس اور احتساب کو نقصان پہنچاتا ہے ، درخواست میں عدالت سے شفاف نیلامی کرانے اور توسیع روکنے کی استدعا کی اور خود کو مستقبل کی بولی سے نکالے جانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔
دوسری جانب مخالف فریقین نے درخواست کو غلط مفروضوں اور بے بنیاد الزامات پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہائیڈرنٹ کنٹریکٹ شفاف اور مسابقتی بڈنگ کے ذریعے دیا گیا، مقررہ وقت پر بولی کے عمل کو چیلنج نہیں کیا گیا، عدالتوں کو تکنیکی اور انتظامی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے ۔عدالت نے کہا کہ کارٹلائزیشن اور ملی بھگت کے الزامات فی الحال ثابت نہیں ہوئے ، موجودہ انتظامات کو فوری غیرقانونی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔عدالت نے کہا کہ سرکاری اثاثوں کی خریداری شفافیت اور مساوی مواقع کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے۔