11 لاکھ مزدوروں کی فلاح کا کارڈ منصوبہ التوا کا شکار

11 لاکھ مزدوروں کی فلاح کا کارڈ منصوبہ التوا کا شکار

لاہور(عاطف پرویز سے)11 لاکھ مزدوروں کی فلاح کا منصوبہ لٹک گیا، ایک سال بعد بھی مزدور کارڈ منصوبے پر پیش رفت نہ ہوسکی۔

تفصیل کے مطابق ایک سال گزر گیا مگر ورکرز کی فلاح کا منصوبہ فائلوں تک محدود ہو کر رہ گیا۔ دو سال قبل پی ٹی آئی کی حکومت میں پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن نے منصوبے کا آغاز کیا ۔ حکومت ختم ہوتے ہی منصوبہ سستی روی کا شکار ہوگیا،تاہم اب اس منصوبے کو فائلوں تک محدود کردیا گیا ۔ اعلان کردہ منصوبے کے تحت11لاکھ کے قریب رجسٹرڈ مزدوروں کے بینک اکاؤنٹس کھولے جانے تھے ، ورکرز کو کھانے پینے کی اشیا اور مختلف سروسز پر 40 فیصد تک رعایت دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔اس ضمن میں مختلف کمپنیوں سے ایم او یو بھی سائن ہوئے تھے ۔11 لاکھ کے قریب رجسٹرڈ ورکرز میں سے 6 سے 7 لاکھ کے ڈیٹا کی تصدیق کی گئی ۔منصوبے کے تحت ورکرز کو تنخواہوں کی ادائیگی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ہونا تھیں۔30 ہزار کارڈ بنے مگر مکمل تقسیم نہ ہوئے ۔ ورکرز کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اچھا منصوبہ حکومتی تبدیلی کی نذر ہوگیا۔ نئی حکومت کو چاہیے کہ اس پر عملدرآمد کر ائے ۔ادھر پنجاب ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن نے معاملہ اگلی حکومت پر ڈالا دیا۔ سوشل سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ آنے والی حکومت کرے گی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں