چلڈرن ہسپتال:فوٹیج میں ڈاکٹرز کی لواحقین پر تشدد میں پہل

چلڈرن ہسپتال:فوٹیج میں ڈاکٹرز کی لواحقین پر تشدد میں پہل

لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے)چلڈرن ہسپتال لاہور میں 9سالہ ابوبکر کی ہلاکت کا معاملہ، لاہور نیوز چلڈرن ہسپتال کی ڈویلپمنٹ وارڈ میں لڑائی کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے لے آیا جس میں ڈاکٹرز کی جانب سے لواحقین پر تشدد میں پہل کی گئی ہے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کے بعد چلڈرن ہسپتال لاہور کے ڈاکٹرز کی ہڑتال پر سوالیہ نشان بن گیاہے ۔لڑائی کی شروعات ڈاکٹرز و عملہ کی جانب سے کی گئی ۔ ڈاکٹر کی جانب سے 1 بج کر 39 منٹ پر لواحقین کو بحث کے دوران تھپڑر مارا ، مریض کے شکایت کرنے پر ڈاکٹرز نے مزید تھپرڑ برسانا شروع کردیے جس میں گھونسوں اور مکوں کو آزادانہ استعمال کیا گیا۔ پہلے لواحقین کو مارا، پیٹا گیا ،بعد ازاں ان پر مقدمہ بھی درج کرایا گیا اورپھر بچنے کے لئے ڈاکٹرز سڑکوں پر نکل آئے اور لواحقین کے خلاف خوب احتجاج کیا گیا۔20 مئی کی فوٹیج میں ڈاکٹرز کی جانب سے لڑائی کا آغاز کیا گیا۔ تین منٹ کی لڑائی ختم ہونے کے بعد ڈاکٹرز کی جانب سے ڈاکٹرز و عملہ کو باہر سے بلانے کی فوٹیج بھی شامل ہے جس میں ایک نامعلوم ڈاکٹر ایک بجکر 42منٹ پر اندر وارڈ سے تمام افراد کو باہر آنے کے لیے بلاتا دکھائی دے رہا ہے ۔ادھر صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کی ہدایت پر سیکرٹری صحت علی جان خان نے گزشتہ روز چلڈرن ہسپتال لاہور میں ڈاکٹرز اور مریض کے لواحقین کے درمیان ہونے والے جھگڑے کی تحقیقات کیلئے چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔ تحقیقاتی کمیٹی اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ تحقیقاتی کمیٹی میں پرنسپل جنرل ہسپتال پروفیسر سردار الفرید ظفر، پرنسپل سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پروفیسر زوہرہ خانم، ایم ایس پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز ڈاکٹر محمد عمر اسحاق اور ڈپٹی سیکرٹری ٹیکنیکل محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن شامل ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں