شہر کے 2ہزار مین ہولز میں حفاظتی جال نصب
پہلی بار شہر کے مین ہولز کے اندر خصوصی سیفٹی نیٹس لگانے کا عمل شروع، خصوصی سیفٹی نیٹ تین سو کلوگرام تک وزن برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ماضی میں کھلے مین ہولز کے باعث متعدد شہری جان کی بازی ہار چکے جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے ، مزید مین ہولز کو بھی حفاظتی نظام میں لایا جائے گا:ڈائریکٹر واسا
لاہور (سٹاف رپورٹر سے) لاہور میں کھلے مین ہولز اور غائب ڈھکنوں کے باعث پیش آنے والے افسوسناک حادثات کے بعد واسا نے شہریوں کی جانوں کے تحفظ کیلئے اہم اقدام اٹھا لیا، پہلی بار شہر کے مین ہولز کے اندر خصوصی سیفٹی نیٹس لگانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے ،ابتدائی مرحلے میں دو ہزار مین ہولز کے اندر حفاظتی جال نصب کیے جا چکے ہیں، یہ خصوصی سیفٹی نیٹ تین سو کلوگرام تک وزن برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جسکے باعث اگر کسی مین ہول کا ڈھکن غائب بھی ہو جائے تو شہری سیدھا گٹر میں گرنے سے محفوظ رہیں گے، واسا حکام کے مطابق یہ جدید حفاظتی نظام نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنائیگا بلکہ صفائی کے عمل کو بھی متاثر نہیں کریگا، ڈائریکٹر واسا مدثر جاوید کا کہنا ہے کہ یہ کم خرچ اور مؤثر حفاظتی طریقہ ہے ، جسے باآسانی ہٹا کر سیوریج لائنوں کی صفائی بھی کی جا سکتی ہے، حکام کے مطابق ماضی میں کھلے مین ہولز کے باعث متعدد شہری جان کی بازی ہار چکے جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے، اسی خطرے کو کم کرنے کیلئے یہ منصوبہ شروع کیا گیا، شہری علاقوں میں ایسے حفاظتی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں، کیونکہ بارشوں اور ہنگامی صورتحال میں اکثر مین ہولز شہریوں کیلئے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ واسا کا کہنا ہے کہ شہر کے مزید مین ہولز کو بھی مرحلہ وار اس حفاظتی نظام کے تحت لایا جائیگا، تاکہ شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔