نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملکی سیاسی صورتحال اورباہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- گزشتہ روزقومی اسمبلی میں پیش آنیوالےواقعہ پربات چیت
  • بریکنگ :- اسپیکرنےوزیراعظم کوناخوشگوارواقعہ سےآگاہ کیا،ذرائع
  • بریکنگ :- ایوان میں دونوں جانب سےہنگامہ آرائی کی گئی،اسپیکرقومی اسمبلی
  • بریکنگ :- ایوان کاتقدس پامال کرنیوالوں کیخلاف بلاتفریق کارروائی کروں گا،اسدقیصر
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان سےاسپیکرقومی اسمبلی اسدقیصرکی ملاقات
Coronavirus Updates

سوشل سکیورٹی کے ہسپتالوں ڈسپنسریز کو کم کرناٹھیک نہیں:محمد مختار

سوشل سکیورٹی کے ہسپتالوں ڈسپنسریز کو کم کرناٹھیک نہیں:محمد مختار

دنیا اخبار

ورکرزکی تعداد بڑھنے کے باوجودسوشل سکیورٹی ہسپتالوں کو کم کرناہیڈ کی ناقص پالیسیاں ہیں پنجاب کی محرومیاں کم کرنے کی بجائے مزید بڑھائی جا رہی ہیں،عرفان اتیرا ،اجمل نیازی

ملتان ( نیوز رپورٹر )پاکستان ورکرز فیڈریشن جنوبی پنجاب کے صدر ملک محمد مختار اعوان،سیکرٹری اطلاعات ملک عرفان اتیرا اور سیکرٹری یوتھ محمد اجمل نیازی نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم پنجاب سوشل سکیورٹی کے ہسپتالوں اور ڈسپنسریز کو بند کرنے یا انکی استعداد کو کم کرنے کے کسی فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے یہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے وژن کے برعکس فیصلہ ہے جنوبی پنجاب کی محرومیاں کم کرنے کی بجائے مزید بڑھائی جا رہی ہیں۔ اس فیصلے کے تحت لاکھوں مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کو مفت علاج معالجہ اور سماجی تحفظ فراہم کرنے والے ادارے سوشل سکیورٹی کا سٹرکچر تباہ کرتے ہوئے انڈسٹریل اسٹیٹ ملتان، بہاولپور، رحیم یار خان، ساہیوال کے ہسپتال ختم کر کے انکو ڈسپنسریوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ فیصل آباد، سرگودھا، گوجرانولہ، سیالکوٹ، راولپنڈی، گجرات، لاہور سمیت دیگر شہروں میں بھی ہسپتالوں کی بیڈ کیپسٹی کم کر دی گئی ہے ۔ جبکہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں نئے ورکرز کی رحسٹریشن ہو رہی ہے لیکن ادارے کی استعداد بڑھانے کی بجائے کم کر دی گئی ہے ۔ مزید ڈسپنسریز میں طبی عملے اور دفاتر میں ریکوری و ایڈمن سٹاف کی تعداد کو بھی نصف کر دیا گیا ہے ۔ یہ سب سوشل سکیورٹی ہیڈ آفس کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔ ان غلط فیصلوں کی وجہ سے سالانہ 16 ارب سے زائد اور ماہانہ تقریباً ایک ارب سے زائد کی سوشل سکیورٹی کنٹری بیوشن کی ریکوری خطرے میں پڑ گئی ہے ۔اسکے علاوہ بے رحمانہ و غیر ضروری ریشنلائزیشن اور ڈاؤن سائزنگ سے ادارے کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔پاکستان ورکرز فیڈریشن سے ملحقہ تمام یونینز چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان، وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، گورنر پنجاب، وزیر اعلیٰ پنجاب اور صوبائی وزیر محنت و انسانی وسائل سے موجودہ صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں کہ سابق کمشنر پیسی کے جاری کردہ تمام مزدور دشمن احکامات کو واپس لے کر پیسی جیسے بہترین ادارے کو تباہی سے بچائیں۔ بصورت دیگر پاکستان ورکرز فیڈریشن دیگر مزدور تنظیموں کے ساتھ مل کر بھر پور احتجاج کرے گی ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں