گندم کی عدم خریداری،کاشتکار بد حال:زرعی ٹیوب ویلز کے کنکشن منقطع

گندم  کی  عدم  خریداری،کاشتکار بد حال:زرعی ٹیوب ویلز کے کنکشن منقطع

ملتان ( جام بابر سے ) ملتان سمیت جنوبی پنجاب بھر میں رواں سال گندم فروخت نہ ہونے کے باعث کسان مالی مشکلات کا شکار، زرعی ٹیوب ویلوں کی بجلی کی عدم ادائیگی کے باعث متعدد کنکشن کاٹ دیئے گئے ۔۔۔

جس کے باعث نہ صرف کپاس اور دھان کی فصل کاشت کرنے میں مشکلات بلکہ سینکڑوں ایکڑ رقبہ بنجر ہونے کا بھی اندیشہ ہے رواں سال حکومت کی جانب سے گندم خریداری میں ہٹ دھرمی کے باعث کسان مالی بحران کا شکار ہیں یہی وجہ ہے کہ نا صرف ان کے اخراجات پورے نہیں ہوئے بلکہ گندم کی فصل کاشت کرنے میں انہیں نقصان بھی ہو رہا ہے ۔جس کے باعث استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے زرعی ٹیوب ویلوں کے بلو ں کی ادائیگیاں کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ گندم کی کاشت کرنے میں کھاد بیج زرعی ادویات کے ساتھ ساتھ بجلی کے فی یونٹ میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ واپڈا کی جانب سے ان کو لاکھوں روپے کے بل بھیج دیئے گئے ہیں تو ہم حکومت کی جانب سے تا حال ان کی گندم کی خریداری شروع نہیں کی گئی جس کی وجہ سے وہ اونے پونے داموں گندم فروخت کرنے پر مجبور ہیں معاشی طور پر بدحال ہونے کی وجہ سے ان کے لیے دیگر اخراجات کے ساتھ ساتھ زرعی ٹیوب ویلوں کے بلوں کی ادائیگی کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے جس پر واپڈا حکام کی جانب سے متعدد کنکشن عدم ادائیگی کی وجہ سے کاٹے جا رہے ہیں کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ نہری پانی کی عدم فراہمی کے ساتھ ٹیوب ویلوں کے کنکشن کاٹنے سے آنے والی فصلات جن میں کپاس اور دھان کی فصل شامل ہے کی کاشت میں واضح کمی ہوگی ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ فصلات میں کمی کے ساتھ سینکڑوں ایکڑ اراضی پانی کی عدم دستیابی کے باعث بنجر ہو جائے گی جس سے کسانوں کی مالی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی امدادی قیمت 3900 روپے فی من کے حساب سے خریداری شروع کر کے ان کو ریلیف فراہم کرے تاکہ وہ اپنے معاملات زندگی بہتر طریقے سے چلا سکیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں