ایچ ای سی :جامعات کی تحقیق و اختراع کارکردگی رپورٹ جاری

ایچ ای سی :جامعات کی تحقیق و اختراع کارکردگی رپورٹ جاری

ملک کی 95 جامعات کا جائزہ، صرف 7 اعلیٰ ترین ڈبلیو کیٹیگری میں شامل

ملتان (خصوصی رپورٹر)ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے مالی سال 2024-25 کے لئے جامعات کے دفاتر برائے تحقیق، اختراع اور تجارتی تعاون (اوورک) کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے ، جس میں ملک بھر کی 95 جامعات کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق صرف 7 جامعات بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلیٰ ترین ڈبلیو کیٹیگری میں شامل ہو سکیں، جبکہ دیگر جامعات کو ایکس، وائی اور کمزور کارکردگی کے زمروں میں رکھا گیا ہے ۔ایچ ای سی نے تحقیق، اختراعی منصوبوں، صنعتی روابط، تحقیقی فنڈنگ، پیٹنٹس اور تجارتی سرگرمیوں کو بنیاد بنا کر درجہ بندی کی۔ رپورٹ کے مطابق ایئر یونیورسٹی، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، این ای ڈی یونیورسٹی، سکھر آئی بی اے ، یونیورسٹی آف لاہور، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد اور ضیاء الدین یونیورسٹی ڈبلیو کیٹیگری میں شامل ہیں۔

38 جامعات کو ایکس کیٹیگری جبکہ 43 جامعات کو وائی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے ۔ کمزور کارکردگی والی سات جامعات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 جامعات نے اپنی کارکردگی بہتر کی جبکہ چار کی کارکردگی میں کمی آئی۔ مالی سال کے دوران جامعات نے 9 ہزار 987 تحقیقی تجاویز جمع کرائیں تاہم صرف 12.5 فیصد منصوبے منظور ہو سکے ۔ایچ ای سی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ 68.42 فیصد جامعات میں تحقیق و اختراع کے کل وقتی سربراہان موجود ہیں، جبکہ باقی اداروں میں مستقل قیادت کی کمی سے تحقیقی عمل متاثر ہو رہا ہے ۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں