تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     05-02-2015

مسعود احمد‘ باقی احمد پوری اور شمشیر حیدر کی شاعری

مسعود احمد پہلے مسعود اوکاڑوی ہوا کرتے تھے پھر ایک دن انہیں اوکاڑہ پر ترس آ گیا اور اوکاڑوی کا لاحقہ ترک کر کے مسعود احمد ہو گئے۔ یہ شعر بھی ان کی پہچان قرار پایا ہے ؎ 
تجھ کو بھلائوں‘ کوشش کر کے دیکھوں گا 
ویسے دریا اُلٹا بہنا مشکل ہے 
ہم جب اوکاڑہ سے لاہور آ گئے تو انہیں اپنا جانشین مقرر کیا تھا؛ حالانکہ اس منصب کے اصل حقدار آذرؔ ہشیار پوری تھے جنہیں ہم پیار سے بلبلِ اوکاڑہ کہا کرتے تھے جبکہ ان کی ایک فضیلت یہ تھی کہ وہ شہر کے نمبردار بھی ہیں۔ ان دونوں کے نائب اے جلیل ہو سکتے تھے کیونکہ ان کی ایک فوقیت یہ تھی کہ انہیں اے جلیل بھی کہا جاتا ہے۔ 
اس دفعہ ادبی ایوارڈ میں مسعود احمد کا نام نہیں تھا حالانکہ ہونا چاہیے تھا کیونکہ یہ اس کے لیے پوری طرح سے اہل ہیں‘ اسماً بھی اور جسماً بھی۔ وہاں بینک منیجر ہیں اور اب تک اپنے آپ کو بھی کافی حد تک مینج کر چکے ہیں جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ہماری فرمائش پر انہوں نے اپنا تازہ کلام بھجوایا ہے‘ ملاحظہ ہو: 
سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ زباں پھیر رہے ہیں 
صحرا یہ سمندر میں بڑی دیر رہے ہیں 
جس طرح سے تم ہم پہ ابھی بھاری پڑے ہو 
ویسے ہی کبھی ہم بھی سوا سیر رہے ہیں 
باہر ہیں مری گھات میں دشمن کے سپاہی 
اندر سے مرے اپنے مجھے گھیر رہے ہیں 
جلتی پہ تیل ڈال کے پانی بھی ڈالیے 
قصے میں کچھ نہ کچھ تو کہانی بھی ڈالیے 
بچپن کے بعد سیدھا بڑھاپا فضول ہے 
دو چار دن کی اس میں جوانی بھی ڈالیے 
جنگل کی خاموش فضا میں شہر بنا کر بیٹھے ہیں 
یعنی اس تریاق کو بھی ہم زہر بنا کر بیٹھے ہیں 
کچھ نہ کچھ تو ڈال سکیں اس آگ اُگلتی مٹی پر 
ان آنکھوں میں چھوٹی سی اک نہر بنا کر بیٹھے ہیں 
زمیں سے آسماں تک روز اک سیڑھی بناتا ہوں 
میں تھک کر چاند سورج کی طرح پھر ڈوب جاتا ہوں 
میں خود کو یاد آ جاتا ہوں اُس کو یاد کرنے سے 
میں اُس کو بھولنا چاہوں تو خود کو بھول جاتا ہوں 
مجھے ڈر ہے کہیں تجھ سے محبت ہی نہ ہو جائے 
تری آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے سے ہچکچاتا ہوں 
جاگ بھی جائیں تو سونے کا مزہ لیتے ہیں 
قہقہہ مار کے رونے کا مزہ لیتے ہیں 
ماہنامہ بیاض کے تازہ شمارے میں باقی احمد پوری اور شمشیر حیدر کے یہ اشعار اچھے لگے: 
اُڑے نہیں ہیں‘ اُڑائے ہوئے پرندے ہیں 
ہمیں نہ چھیڑ‘ ستائے ہوئے پرندے ہیں 
قفس میں قید کرو یا ہمارے پر کاٹو 
تمہارے جال میں آئے ہوئے پرندے ہیں 
ہوا چلے گی تو بچے اڑائیں گے اِن کو 
یہ کاغذوں سے بنائے ہوئے پرندے ہیں 
جمے ہوئے ہیں یہ شاخوں پہ اس طرح جیسے 
شجر کے ساتھ اُگائے ہوئے پرندے ہیں 
بلندیاں ہیں ہمارے مزاج میں شامل 
کہ ہم فلک سے گرائے ہوئے پرندے ہیں 
ہمارے پاس ہی آئیں گے لوٹ کر باقیؔ 
ہمارے جتنے سِدھائے ہوئے پرندے ہیں 
......... 
اپنا گھر معلوم نہیں 
جائوں کدھر‘ معلوم نہیں 
منزل دھیان میں ہے تو کیا 
راہ گُزر معلوم نہیں 
اک جیسے کیوں لگتے ہیں 
شام و سحر‘ معلوم نہیں 
کس رستے پر لکھا ہے 
اگلا سفر‘ معلوم نہیں 
کس کا رستہ تکتے ہیں 
بام و در‘ معلوم نہیں 
آئینے کو اپنی بھی 
خیر خبر معلوم نہیں 
باہر سے اچھے ہو تم 
پر اندر معلوم نہیں 
آج کا مقطع 
کی ہے محبت اُس سے غلط وقت پر‘ ظفرؔ 
فی الحال اُس کو اِس کی ضرورت ہی نہیں تھی 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved