تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     20-02-2015

بھونکنا منع ہے!

ہم تو یہ سمجھ کر خوش تھے کہ شاید ہمارے ہاں ہی کمال دکھایا جاتا ہے اور تین تین چار چار عشروں میں مقدمات کا فیصلہ سُناکرنئی نئی مثالیں قائم کی جاتی ہیں لیکن کروشیا کی ایک عدالت نے نیا کمال کر دکھایا ہے۔ کروشین عدالت نے انصاف کی ایسی توپ داغی ہے کہ تفصیل جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ بس یُوں سمجھ لیجیے سُورج سے کہا جارہا ہے کہ طُلوع نہ ہو، کوئل سے کہا جارہا ہے کہ ''بے کُوک‘‘ ہوجائے، آنسو سے کہا جارہا ہے آنکھ تک نہ آئے، آنکھ سے کہا جارہا ہے کہ آنسو آ بھی جائے تو چھلک نہ پائے اور گھوڑے سے کہا جارہا ہے کہ گھاس سے دوستی کرلے۔ 
قصہ یہ ہوا کہ کروشیا کے کسان اینٹن سمونووک نے اپنی مُرغیوں، بطخوں اور مویشیوں کو چوروں اور بھیڑیوں وغیرہ سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اعلیٰ نسل کا کُتّا پالا جس کا نام اُس نے ''میڈو‘‘ رکھا۔ کُتّے کی وفاداری میں کوئی شک؟ اینٹن کے کُتّے نے بھی حقِ نمک ادا کرنے کے لیے رات رات بھر جاگ کر نگرانی شروع کردی۔ جہاں ذرا سی بھی ایسی ویسی آہٹ ہوتی، میڈو چونک پڑتا اور بھونکنا شروع کردیتا۔ 
اینٹن کے پڑوسی گوربا کرونوف کو رات رات بھر اینٹن کے کُتّے کا بھونکنا بہت بُرا لگا۔ پہلے تو اُس نے اینٹن سے بات کی کہ کُتّے کو چلتا کرے مگر جب اینٹن نے یہ بات سُن کر گوربا کو چلتا کیا تو وہ چلتا ہوا عدالت تک جا پہنچا اور مجسٹریٹ کو اپنی رام کہانی سُنائی۔ 
کروشین مجسٹریٹ بھی شاید ''بھونک گزیدہ‘‘ تھا۔ اُس نے اینٹن کو طلب کیا اور کُتّے کے بھونکنے پر وضاحت طلب کی۔ اینٹن بھلا کیا وضاحت کرتا؟ اُس نے بتایا کہ اُس کا میڈو بھی عام کُتّا ہے یعنی اپنی فطرت کے مطابق کِسی بِلّی یا اجنبی کو دیکھ کر ہی بھونکتا ہے۔ یعنی میڈو کوئی بھی ''خلافِ فطرت‘‘ کام نہیں کر رہا تھا۔ کوئی کُتّا کیوں بھونکتا ہے ، یہ بات تو خود اُس کُتّے سے معلوم کی جانی چاہیے۔ ہوسکتا ہے اینٹن نے بھی یہی جواب دیا ہو۔ بہرحال، اینٹن نے جیسی اور جتنی بھی وضاحت دی اُسے مُسترد کرتے ہوئے حکم دیا گیا کہ کُتّا رات کو نہ بھونکے۔ اور یہ کہ اِس حکم کی تعمیل نہ کئے جانے کی صورت میں 2800 یورو کا جُرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ 
اکیسویں صدی میں عدالتیں بھی ورطۂ حیرت میں ڈالنے پر تُلی ہوئی ہیں۔ مجسٹریٹ کو اگر انصاف کی توپ داغنے کا ایسا ہی شوق تھا تو کُتّے کو طلب کرکے پوچھا جاسکتا تھا کہ رات رات بھر ناکام عاشقوں کی طرح کیوں جاگتا ہے اور رہ رہ کر نالہ و فریاد کِس کھاتے میں ہے۔ مگر صاحب، مجسٹریٹ ایسا احمق نہ تھا کہ کُتّے سے کچھ پُوچھ کر خود کو مشکل میں ڈالتا۔ 
کُتّے کو نہ بھونکنے کا حکم دینا کسی بھی طور انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مجسٹریٹ نے مُدعی کی بات سُن کر فیصلہ صادر کیا۔ مُدعا علیہ کو گواہان پیش کرنے کی اجازت بھی نہ دی۔ میڈو کا بھونکنا اگر گوربا کو بہت بُرا لگتا تھا تو مجسٹریٹ کو ایک شخص کی شکایت کے مقابلے میں اُن درجنوں مُرغیوں، بطخوں اور مویشیوں کا بھی موقف جاننا چاہیے تھا جنہیں میڈو کے بھونکنے پر کوئی اعتراض نہ تھا! فریقین کی شہادتیں اور دلائل سُننا عدالت کے فرائض میں شامل ہے۔ ممکن ہے مُرغیوں اور مویشیوں کو میڈو کا بھونکنا نہ صرف یہ کہ بُرا نہ لگتا ہو بلکہ اچھا لگتا ہو کہ وہ آخر کو مالک کا کُتّا ہے۔ سائیں تو سائیں، سائیں کا کُتّا بھی سائیں! 
مرزا تنقید بیگ کو اِس فیصلے نے انوکھی مَسرّت سے سرشار کیا۔ اُن کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بھی ایسے مستعد فیصلوں کی اشد ضرورت ہے۔ ہم معترض ہوئے کہ کروشیا کے مجسٹریٹ نے جو فیصلہ سُنایا وہ انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ 
مرزا نے غضب ناک نظروں سے ہمیں گُھورتے ہوئے پوچھا: ''اب کیا تم سے پوچھ کر فیصلہ کیا جاتا؟ کُتّے کے بھونکنے سے اگر کسی کو تکلیف پہنچے گی تو وہ عدالت ہی جائے گا، خود تو بھونکنا شروع نہیں کردے گا۔ اگر یہ معاملہ کروشیا کے دو کسانوں کا ہے۔ اُن کے درمیان ایک کُتّا نزاع کا سبب بنا ہوا ہے۔ تم کیوں بیچ میں کُود رہے ہو؟‘‘ 
ہم نے عرض کیا کہ کُتّے کا تو کام ہی بھونکنا ہے۔ یہ اُس کی فِطرت ہے۔ کسی کو فِطری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے سے روکنا انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ 
مرزا بولے: ''مگر یہ بھی تو دیکھنا چاہیے کہ فطری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی صورت میں کس طرح کا آہنگ پیدا ہو رہا ہے۔ اگر کوئی کُتّا رات بھر بھونک بھونک کر نیند خراب کرتا رہے تو کیا اُسے محض اِس لیے کچھ نہ کہا جائے کہ وہ کُتّا ہے اور اُس کا تو کام ہی بھونکنا ہے؟ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔‘‘ 
ہم نے مودّبانہ عرض کیا ،جناب! کسی کو اُس کی فِطرت پر چلنے سے روکنا بھی فِطرت کے منافی ہے۔‘‘ 
بس، یہ سُننے کی دیر تھی۔ مرزا تو جیسے پھٹ پڑے: ''اب رہنے بھی دو یہ فِطرت کی بحث۔ ہمارے ہاں فِطری تقاضوں کو نبھانے کے کھیل ہی نے سارا کھیل بگاڑا ہے۔ جِسے دیکھو، اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار کر دوسروں کا ناک میں دم کر رہا ہے۔ اور اگر کوئی اعتراض کرو تو جواب ملتا ہے کہ کیا کیجیے، یہ تو میری فطرت کا تقاضا ہے! اور جب دوسرے بھی جواباً اپنی اپنی فِطرت کے تقاضوں کو نبھانا شروع کرتے ہیں تو رونا پیٹنا شروع کردیا جاتا ہے۔ یعنی میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تُھو تُھو۔ یہ ہے ہمارے سماج کا دوغلاپن۔ اپنی فِطرت اور اُس کے تقاضے یاد رہتے ہیں۔ دوسروں کی فِطرت کو تھوڑی دیر بھی برداشت کرنا پڑے تو سانس لینا بھی دُوبھر ہوجاتا ہے۔‘‘ 
کروشین مجسٹریٹ کا فیصلہ مرزا کے من کو بھایا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں بھی ایسے ہی فیصلے سُنائے جائیں تاکہ سُکون کی کوئی تو صُورت نکلے۔ ہم نے سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسا کرنا انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کرنے کے مُترادف ہوگا۔ 
مرزا نے کہا: ''تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ سب کو اپنی مرضی کے مطابق جینے دیا جائے، خواہ اِس سے دوسروں کا جینا دوبھر ہوتا رہے۔ یعنی کوئی بے سُرا گاتا ہو تو سمع خراشی کی اجازت دی جاتی رہے، اگر کوئی بے ڈھنگی باتیں کرکے سامعین کو دردِ سَر کا تحفہ دیتا رہے تو اُسے ایسا کرنے سے نہ روکا جائے۔ کوئی سیاست دان اگر عوام کی خدمت کے نام پر قومی خزانے کو حلوائی کی دُکان میں تبدیل کرکے نانا جی کی فاتحہ دلاتا رہے تو اُس کی راہ میں کوئی دیوار کھڑی نہ کی جائے۔‘‘ 
ہم (اپنا) سَر تھام کر رہ گئے۔ بات کروشیا کے کُتّے سے چلی اور سیاست دانوں سے ہوتی ہوئی نانا جی کی فاتحہ تک پہنچ گئی۔ 
ہم نے ایک بار پھر عرض کیا کہ کسی کو اُس کی فطرت پر چلنے سے روکا نہیں جاسکتا۔ ایسا کرنا انصاف کے تقاضوں اور رُوح کے منافی ہے۔ 
مرزا نے خاصی شرارت آمیز مسکراہٹ سے ہمیں گُھورتے ہوئے کہا: ''تم کیوں چاہوگے کہ کروشیا جیسا کوئی فیصلہ یہاں کی کوئی عدالت سُنائے؟ ایسا کرنے سے تو تم بھی مشکل میں پڑ جاؤگے۔‘‘ 
ہم نے حیران ہوکر پوچھا کہ ہم بھلا کیوں مشکل میں پڑ جائیں گے۔ مرزا نے کہا: ''تم بھی تو اپنی فطرت کے مطابق انٹ شنٹ لکھتے رہتے ہو۔ ''تمہارے 'افکارِ عالیہ‘‘ کیسا کھڑاگ کھڑا کرتے ہیں، تمہیں کیا معلوم۔ پڑھنے والوں پر کیا گزرتی ہے تم کیا جانو۔ تم کیوں چاہوگے کہ کوئی عدالت تمہیں انٹ شنٹ لکھنے سے باز رہنے کا حکم دے! اگر ہمارا بس چلے تو تمہارے قلم کو بھی نہ لکھنے کا حکم دیں اور اگر وہ کچھ لکھے تو تم سے جُرمانہ وصول کیا جائے۔‘‘ 
ہم بھی کم چالاک نہیں۔ ہمیں یقین تھا کہ مرزا کبھی نہ کبھی ہمارے قلم پر پابندی کی خواہش کا اظہار کریں گے اِس لیے ہم نے قلم ایک طرف رکھ کر کی بورڈ کو اپنے ہاتھوں کے آغوش میں لے رکھا ہے! 
ویسے کوئی عدالت ایسی بھی ہونی چاہیے جو مرزا کو ''غیر دوستانہ‘‘ خیالات و دلائل کے اظہار سے باز رکھنے کا فریضہ انجام دے!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved