تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     09-03-2015

فرقہ واریت کی نئی دستک؟

جناب وزیراعظم کو ریاض سے بلاوا کیوں آیا؟کیافرقہ واریت کی نئی لہر پاکستان کی سماجی فصیلوں سے ٹکرانے والی ہے؟ ان دونوں سوالات میں باہمی تعلق کیا ہے؟
مشرقِِ وسطیٰ نئے بحران کی زد میں ہے۔ نئی صف بندی ہورہی ہے۔طاقت کا نیا کھیل شروع ہو چکا اور مفادات کا تصادم ایک نئے منظرنامے کی صورت گری کر رہا ہے۔کہنے کو یہ سب کچھ 'نیا‘ ہے لیکن دراصل بہت پرا نا ہے۔نئے صرف' اداکار‘ ہیں،تھیٹر نہیں۔ابنِ آ دم جن جبلی تقاضوں کے ہاتھوں مغلوب رہا ہے، ان میں ایک طاقت کی بے پایاں خواہش بھی ہے۔اسی خواہش کے لیے وہ دلائل تراشتا اوراسی کے زیرِ اثر اقدام کرتا ہے۔سیاست ازل سے طاقت کا ایک کھیل ہے ۔اس آتش کدے کوروشن رکھنے کے لیے مذہب، نسلی عصبیت،ترقی کا خواب،مفاد، آزاد ی کی نیلم پری،ہر شے کو ایندھن بنا یا جا تا رہا ہے۔یہ کام اب بھی ہونے جارہا ہے۔پاکستان کو دیکھنا ہے کہ اس نے اپنے مفاد کا تحفظ کیسے کر نا ہے۔
سعودی عرب، ایران،اسرائیل، ترکی اورداعش ،اصل کر دار یہی ہیں۔یہ چاروں اپنی طاقت کو کسی سرحد تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔وہ اس دائرے کو بڑھانا چاہتے ہیں۔یہ ڈور اس طرح الجھ گئی ہے کہ اس کا سرا ملنا مشکل ہو رہا ہے۔داعش بیک وقت ایران اور سعودی عرب کے لیے خطرہ ہے۔داعش شیعہ مخالف قوت ہے اور اہلِ تشیع کی سیاسی قوت کا مرکز ایران ہے۔یوں ایران کے لیے داعش براہ راست خطرہ ہے۔ دوسری طرف داعش سعودی عرب کے لیے بھی خطرہ ہے کیونکہ وہ عالمی خلافت کی علم بر دارہے اوربادشاہت کو نہیں مانتی۔ایران کے باب میں سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل ایک صفحے پر ہیں۔ سعودی عرب کے لیے مشکل یہ ہے کہ ایران کی کامیابی اس کے حق میں ہے نہ داعش کی۔
ایران کے لیے بھی انتخاب آسان نہیں ہے۔وہ شیعہ شناخت کے ساتھ اس خطے میں اپنا اثر بڑھانا چاہتا ہے۔بحرین کی اکثریت شیعہ ہے۔سعودی عرب کے سرحدی علاقے میں شیعہ بڑی تعداد میں آباد ہیں۔پڑوس میں یمن ہے جہاں ان دنوں شیعہ قبیلہ اقتدار پر قبضہ کر چکا ہے۔حزب اللہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔شام کے علوی شیعہ بشا رالاسد بھی ایران کے اتحادی ہیں۔ ایرانی اثر و رسوخ کی اساس خالصتاً مسلکی بلکہ فرقہ وارانہ ہے اور وہ اسے ہی بطور سیاسی قوت استعمال کر رہا ہے۔سعودی عرب اس کے مقابلے میں،کیا سنی عصبیت کو استعمال کر سکتا ہے؟کیا اس باب میں ترکی اور مصر اس کے معاون ہوں گے جو سنی اکثریت کے حامل ہیں؟کیا یہ امکان مو جود ہے کہ بالا ٓخر مشرقِ وسطیٰ کی سیاست واضح مفہوم میں دو مسلکی بلاک میں تقسیم ہو جا ئے؟
اب ایک نظر امریکی کانگرس سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی غیر معمولی تقریر پر ڈال لیجیے۔اس تقریر کا مرکزی خیال ایران کا ایٹمی پروگرام اور اس باب میں صدر اوباما کی پالیسی پر تنقید تھا۔اس سے پہلے خود امریکی کانگرس میں کسی غیر ملکی سربراہِ حکومت نے امریکی صدر کے بارے میں اس لب و لہجے میں کلام نہیں کیا۔کانگرس میںجس طرح سے اسرائیلی وزیر اعظم کی پزیرائی ہوئی، وہ بھی غیر معمولی تھی۔یہ اس عالمی دباؤ کا اظہار تھا ،ایران کو آج جس کا سامنا ہے۔ایران کے معاشی حالات اپنی جگہ نا گفتہ بہ ہیں۔تیل کی قیمتوں میں کمی نے اسے بہت نقصان پہنچا یا ہے۔سعودی قیادت کا ایک خیال یہ بھی ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں اسی طرح کم رہیں تو ایران کے لیے اپنی معیشت کو سنبھالا دینا مشکل ہوگا۔ایران کا بجٹ اس تخمینے پر کھڑا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 121ڈالر فی بیرل ہو۔یہ قیمت اِس وقت کم و بیش پچاس ڈالر فی بیرل ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے کہ وہ اس معیشت کے ساتھ کیا اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی آب یا ری کر سکے گا؟اس کے پاس اب ایک ہی راستہ ہے: مذہب کاسیاسی استعمال۔ اور اسی عصبیت کی بنیاد پر علاقائی سیاست کو آگے بڑھا نا۔سعودی عرب اور دوسری قوتوں کے پاس اس کا توڑ کیا ہو سکتاہے؟ اپنی مسلکی عصبیت کا سیاسی استعمال۔توکیا نئی فرقہ وارانہ صف بندی کا آغاز ہو نے والا ہے؟
وزیر اعظم نوازشریف سمیت، ترکی اور مصر کے سربراہان حکومت کے دورہ سعودی عرب کو اس زاویے سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ اس کا معاشی استحکام بڑی حد تک سعودی عرب پرمنحصر ہے۔مزید یہ کہ شریف خاندان سعودی فرماں روائوں کا زیرِ احسان ہے۔اہم سوال یہ ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی نئی صف بندی میںپاکستان کو کوئی متحرک کردار ادا کرنے کے لیے کہا جا تا ہے توکیا ہماری مو جودہ قیادت اس کی مزاحمت کر پائے گی؟اس سے متصل سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہو تا ہے تو کیا پاکستان کوفرقہ واریت کی نئی لہر کا سامنا نہیں کر نا پڑے گا؟ہم سب جانتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی قوتوں نے یہاں نظری اور عملی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔نظری سطح پر لوگوں کے جذبات کو ابھارنے کے لیے پورا سامان موجود ہے اورسیاسی مہم جوئی کے لیے معاشی وسائل کی بھی کمی نہیں۔ کیا ہمیں ایسے امکانا ت کا ادراک ہے؟
یہ سوال صرف ریاستی سطح پر ہی نہیں،سماجی سطح پر بھی زیرِ بحث آ نا چاہیے۔یہ محض خارجہ پالیسی کا نہیں،ہمارے لیے سماج کا بھی ایک مسئلہ ہے۔اس ملک میں صرف شیعہ سنی تقسیم نہیں ہے، وزیر داخلہ کے بیانات کے باوجود،داعش کا ہم نوا ایک موثر گروہ بھی مو جود ہے۔یہ گروہ اس وقت مسلمانوں کی عالمی خلافت کا پرچار کر رہا ہے۔اس کے لیے مذہبی کتابوں سے حوالے دیے جارہے ہیں اور عالمی خلافت کے قیام کو ایک دینی فریضہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس نظریے کی عملاً علم بردار کوئی قوت اگر ہے تو وہ داعش ہے۔نظری سطح پر اس مقدمے کو مضبوط کرنے کا مطلب داعش کو فکری توانائی فراہم کر نا ہے۔پاکستان میں یہ کام اعلانیہ ہو رہا ہے۔اس کے لیے کالم لکھے جارہے ہیں اور ذرائع ابلاغ پر ایک گروہ شدومد کے ساتھ اسے پیش کر رہا ہے۔مجھے حیرت ہے کہ ان حالات میں بھی لوگ قیامِ خلافت کی بحث کو بے وقت کی راگنی سمجھتے ہیں۔مجھے خدشہ ہے کہ یہ معاملہ اگر مزید آگے بڑھتا ہے تویہ مسلمانوں کے اس دور کی طرف مراجعت ہو گی جب امت تین فرقوں میں بٹ گئی تھی۔سنی، شیعہ اور خوارج۔اس وقت بھی اس تقسیم کے اسباب سیاسی تھے اور آج بھی سیاسی ہیں۔اُس وقت بھی سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کو استعمال کیا گیا، آج بھی کیا جا ئے گا۔
ہمارے لیے اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان کوفرقہ واریت کی اس نئی لہرسے کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟ اس کا پہلا مر حلہ تو مسئلے کا ادراک ہے۔جب تک ہم اس کی شدت کو محسوس نہیں کریں گے، ہم کسی حل کے لیے سنجیدہ نہیں ہوں گے۔ نظامِ صلوٰۃ کاا علان یہ بتا رہا ہے کہ ہماری حکومت اس معاملے کو کس سطحی انداز میں دیکھ رہی ہے۔پاکستان کو مذہب کے نام پر کسی نئے فساد سے بچا نے کے لیے یک سوئی کی ضرورت ہے۔اس کے لیے ریاست کے ساتھ سماج کو بھی متحرک ہونا ہو گا۔یہ یک سوئی پہلے فکری سطح پر پیدا ہوگی اور پھر کسی حکمتِ عملی میں ڈھلے گی۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved