تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     18-03-2015

عُذرِ گناہ…

عزیز القدر قمر رضا شہزادؔ نے جو غزلیں مجھے ارسال کی تھیں‘ ان کے ہمراہ یہ خط بھی تھا:
قابلِ احترام ظفر اقبال صاحب‘ تسلیمات۔ امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔
مجھے آج بھی اس امر کے اعتراف میں کوئی عار نہیں کہ عہدِ موجود میں آپ اردو غزل کے وہ بڑے شاعر ہیں جو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے بل بوتے پر سلطنتِ شعر پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ آپ کو نہ تو کسی خاص گروپ کی حمایت حاصل ہے اور نہ ہی آپ نے کوئی ایسا حلقہ تشکیل دیا ہے جو ہمہ وقت آپ کی خوشامد میں مگن رہے۔ آپ کل بھی بڑے بڑے جغادریوں سے ٹکراتے رہے ہیں اور آج بھی آپ کو کسی کی پروا نہیں ہے۔
آپ نہ تو کسی کے عہدے سے مرعوب ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی کی دولت آپ کو خرید سکتی ہے۔ آپ تو محض اچھے شعر کے قتیل ہیں اور یہ آپ کو جہاں سے بھی ملے کھل کر داد دیتے ہیں۔ اور ہاں‘ آپ کی داد سند کا درجہ رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ کے نہ ماننے والے بھی اس کے منتظر رہتے ہیں۔
آپ اردو غزل کے وہ بڑے شاعرہیں جو اپنی عمر رسیدگی کے باوجود آج بھی تروتازہ غزلیں کہہ کر ادبی حلقوں کو حیران و پریشان کر رہے ہیں۔ خدا آپ کو سلامت رکھے۔
آپ کا عقیدت مند‘ قمر رضا شہزاد
20 یاسمین وِلا بالمقابل تویوتاشوروم‘ بوسن روڈ ملتان۔
میں اس تحسین و تعریف کا مستحق نہیں ہوں کیونکہ من آنم کہ من دانم۔ اس عزیز نے میری ہی فرمائش پر اپنی 21 غزلیں مجھے بھجوائی تھیں جو 127 اشعار پر مشتمل ہیں اور جن میں سے میں اپنی ڈھب کے سات ہی شعر نکال سکا تھا (جو میں نے اپنے کالم میں درج کر دیئے تھے) اور جب سے اور جہاں تک میں قمر رضا شہزاد اور اس کی شاعری کو جانتا ہوں‘ میری پریشانی سمجھ میں آ سکتی ہے۔ کالم شائع ہونے کے بعد سے اب تک مجھے موصوف کا کوئی فون یا ردعمل موصول نہیں ہوا ہے جس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ وہ میرے اس تبصرے پر خاصے ناخوش و ناراض ہیں۔ میری جو نام نہاد صفات انہوں نے اپنے خط میں گنوائی ہیں‘ ان سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ میں اپنی رائے ظاہر کرتے وقت کوئی لگی لپٹی رکھنے کا قائل نہیں ہوں۔ اگر ان کی تحریر واقعتاً سچے جذبات کی عکاس ہے تو انہیں سمجھ لینا چاہیے تھا کہ میرا یہ عمل کسی تعصب یا لاگ لپٹ سے حسبِ معمول ہٹ کر ہے اور میرا تبصرہ ان کی بہتری کے لیے تھا۔
جس طرح کوئی کلاس بیٹسمین کبھی کم سکور یا صفر پر بھی آئوٹ ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس کی کلاس میں کوئی فرق آ گیا ہے۔ اسی طرح ایک اچھا بھلا شاعر بھی ایسی صورتِ حال سے دوچار ہو سکتا ہے۔ اور‘ شاعر کو یقینا پتہ چل جاتا ہے کہ اس کی شاعری میں وہ اگلی سی بات اور تازگی نہیں رہی تو اسے چاہیے کہ کچھ عرصے کے لیے ہاتھ ذرا روک لے اور اس وقت تک انتظار کرے جب تک کہ اس کے کلام میں وہ اگلا سا رنگ دوبارہ نہیں آ جاتا‘ اور نہ ہی ایسی کسی رائے کا بُرا ماننا چاہیے۔ میرے اپنے کئی مہربان دوستوں نے مثلاً شمس الرحمن فاروقی نے لکھا کہ ظفر اقبال اپنی اچھی شاعری کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر شمیم حنفی کا تبصرہ یہ تھا کہ ظفر اقبال کی شاعری میں وہ اگلی سی بات نہیں رہی جبکہ ڈاکٹر تبسم کاشمیری نے لکھا کہ ظفر اقبال کی شاعری رو بہ زوال ہے تو میں نے اس کا برا ماننے کی بجائے اپنی تحریروں میں کئی جگہ ان کا حوالہ دیا۔ میں ان کی رائے سے بے شک متفق نہ ہوں گا لیکن میں نے خندہ پیشانی سے اس کا استقبال کیا کہ اس کا انہیں حق حاصل تھا۔ لہٰذا قمر رضا شہزاد کو اپنی شاعری کے ساتھ ساتھ اپنی ناپسندیدگی کے اس رویے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
مجھے یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہو سکتا ہے کہ میرے اپنے منہ کا ذائقہ ہی اتنا خراب ہو کہ مجھے اس شاعری نے زیادہ متاثر نہ کیا ہو جس صورت میں قمر رضا شہزاد کو الٹا میرے ساتھ ہمدردی ہونی چاہیے؛ تاہم اگر اس شاعر کے ساتھ میرا ایک قلبی تعلق نہ ہوتا تو میں اس صورتِ حال کو نظرانداز بھی کر سکتا تھا۔ اسی لیے میں اپنی مایوسی اور عدم اطمینان کا اظہار کیے بغیر نہ رہ سکا‘ یہ تصور کرتے ہوئے کہ قمر رضا شزاد بھی مجھے ایک سچا خیرخواہ سمجھتے ہوئے میری باتوں پر بیزار ہونے کی بجائے ان پر غور کرنے کی زحمت اٹھاتا کیونکہ یہ باتیں اس کے فائدے کے لیے لکھی گئی تھیں۔
اگرچہ اس کی شاعری میں ایسے اشعار کی کثرت نہیں ہے لیکن تعلّی زدہ اشعار بھی مل جاتے ہیں‘ مثلاً:
میں اسی لیے کسی معرکے میں نہیں رہا
کوئی مجھ سا میرے مقابلے میں نہیں رہا
مل ہی جائے گا مجھے کوئی پرکھنے والا
لعل ہوں اور کسی گڈری میں چھپایا ہوا ہوں
تعلّی کم و بیش ہر شاعر کے کلام میں کم یا زیادہ ہوتی ہے‘ میں خود بھی اس سے مبرا نہیں ہوں گا‘ اگرچہ شہزاد احمد نے مجھے ردِّ تعلّی کا شاعر قرار دیا تھا۔ بہرحال اپنی تعریف کرنا شاعر کا نہیں بلکہ دوسروں کا کام ہے جبکہ شاعر کو عجز و انکسار کا مظاہرہ کرنا چاہیے کہ انکساری اللہ تعالیٰ کو بھی پسند ہے۔ بلکہ یہ تو آٹو پیروڈائیزیشن کا زمانہ ہے۔ چنانچہ خود توصیفی کی بجائے کبھی اپنا مذاق بھی اُڑا کر دیکھ لینا چاہیے کہ ایک عمدہ شاعر کو یہ کام زیب ہی نہیں دیتا کہ 'ہمچو ما دیگرے نیست‘ کا تاثر ابھار کر خوش ہوتا رہے۔
میں نے اپنی بزرگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جو یہ سطور لکھ دی ہیں تو مقصد یہ نہیں کہ اسے عُذرِ گناہ بدتر از گناہ کے کھاتے میں ڈال دیا جائے کیونکہ خلوصِ نیت سے کیا ہوا کام ہمیشہ ہی اچھے نتائج پیدا نہیں کرتا۔
آج کا مقطع
خریدنا نہیں‘ کچھ میں نے بیچنا ہے‘ ظفرؔ
رُکا ہوا ہوں جو بازار سے گزرتے ہوئے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved