تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     03-04-2015

اپنا وطن

دوسروں کی آنکھ کا تنکا تاڑنے والے کیا اپنی آنکھ کا شہتیر ملاحظہ کرنا پسند کریں گے؟ وطن بھی کوئی چیز ہوتا ہے۔ خدا کے بندو، اپنا وطن! اپنا جو وفادار نہیں وہ کسی اور کا کیا ہو گا؟
وزیرِ اعظم نواز شریف نے اب تک اپوزیشن لیڈروں سے یمن کے بحران پر بات نہیں کی۔ عسکری قیادت سے مشورہ وہ کرتے رہے۔ سرکاری وفد ریاض سے لوٹ آیا ہے۔ خواجہ آصف کے بقول صورتِ حال اب پوری طرح واضح ہو چکی۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ میاں محمد نواز شریف سیاسی لیڈروں سے رابطہ کریں؟
اپوزیشن اور حکومت کے نقطۂ نظر میں اب زیادہ فرق نہیں۔ زرداری صاحب کی ''کل جماعتی کانفرنس‘‘ میں اگرچہ ایم کیو ایم، جمعیت علمائِ اسلام اور بی این پی عوامی کے سوا کوئی دوسری پارٹی شریک نہ ہوئی‘ اس کا اعلامیہ مگر متوازن ہے۔ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے اور مذاکرات سے مسئلہ حل کرنے پر زور دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی مگر یہ بھی کہا گیا ''عالمِ اسلام کے لیے سعودی عرب کی مرکزیت غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ اپنے کردار کا تعین کرتے ہوئے، اس امر کو ہمیں ملحوظ رکھنا چاہیے‘‘۔ زرداری صاحب نے یہ بھی کہا ''عمران خان سے مشاورت کے خواہش مند تھے مگر اس کا انحصار پی ٹی آئی پر ہے‘‘۔
جی نہیں، یہ حکومت کا کام ہے۔ قومی اتفاقِ رائے تشکیل دینا اپوزیشن کی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ میاں صاحب اب بھی آغاز نہیں کرتے تو یہ تعجب خیز ہو گا۔ شکوک و شبہات جنم لیں گے۔
اب پیچھے پلٹ کر دیکھنا چاہیے۔ ایسے بحرانوں میں حکمرانوں کو باوقار انداز اختیار کرنا چاہیے۔ وزیرِ اعظم اور وزیرِ دفاع کو ایسے جذباتی بیان جاری کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ اہمیت تو اس کی ہے
کہ سعودی عرب کے عدمِ استحکام کو ٹالنے کے لیے عملی طور پر کتنی امداد ہم مہیا کرتے ہیں۔ حکومت نے تو بالآخر احتیاط کا دامن تھام لیا۔ بعض علماء اور دانشوروں نے مگر تعصبات کے پھریرے اس طرح لہرائے کہ پاکستانی معاشرہ تقسیم ہوتا نظر آیا۔ پہلے ہی منافرت اور کشیدگی کارفرما ہے۔ جلتی پہ تیل ڈالنے کا مطلب کیا؟ جذبات کے بنے ہوئے لوگ کیا رہنمائی کے سزاوار ہو سکتے ہیں۔ خود کو انہوں نے بے نقاب ہی کیا کہ کچھ ایک اور کچھ دوسرے ملک کی تائید میں گلا پھاڑ پھاڑ کر چیختے رہے۔ اس طرح کہ گویا پاکستان نہیں، ایران یا سعودی عرب کے وہ وکیل ہیں۔
کل شام ایک اچھے بھلے دانشور کو چیختے سنا گیا کہ ایران کے خلاف ایک سنّی اتحاد بنایا جا رہا ہے۔ دو برس پہلے تہران میں ایرانی دانشوروں سے اس ناچیز نے پوچھا تھا: کس چیز نے آپ کو روک رکھا ہے کہ استنبول، جکارتہ، قاہرہ اور اسلام آباد میں اپنا موقف پیش کریں۔ ایک سوال کی جسارت مشہدِ مقدس میں ایرانی اخبار نویسوں سے کی: آخر کیا سبب ہے کہ آپ کے ہاں ایک لفظ بھی پاکستان کے حق میں کبھی شائع نہیں ہوتا؟ خراسان کے مدیرِ گرامی نے، جو انگریزی سے نابلد تھے، ارشاد کیا: عبدالمالک ریگی ایسے معاملات کی وجہ سے۔ حیرت سے میں نے کہا: مگر اسے تو ہم نے آپ کے حوالے کر دیا۔ فطری طور پر اب استفسار یہ ہو گا: یہ کیونکر ممکن ہوا کہ غیر معمولی طور پر مستعد ایرانی انٹلی جنس کے باوجود
عزیر بلوچ ایرانی پاسپورٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہا، امریکہ بھی جس کے ہوتے ہوئے کبھی نقب نہ لگا سکا۔
سعودی عرب نے پاکستان کے باب میں ایک فاش غلطی کا ارتکاب کیا ہے... اور مسلسل۔ ایک مکتبِ فکر کے خلاف نفرت پھیلانے والے ایک دوسرے مکتبِ فکر کے بعض مدارس کی مدد کی جاتی رہی۔ اس کے نتائج سنگین اور المناک ہیں۔ اگر کوئی اس حقیقت سے آنکھیںبند کرتا ہے تو اس کی انصاف پسندی کو داد دی جانی چاہیے۔ تجزیہ کار یہ حوالہ دینے میں حق بجانب ہیں لیکن پھر ایران کے باب میں‘ وہ چپ کیوں سادھ لیتے ہیں؟ کیا وہ کچھ خاص گروہوں اور تعلیمی اداروں کو روپیہ فراہم نہیں کرتا؟ بھارت کو پاکستان پر بعض معاملات میں ترجیح دینے کی پالیسی؟ چاہِ بہار کے راستے افغانستان جانے والی سڑکوں پر بھارتی سرمایہ کاری کو خو ش آمدید کہنے کا مطلب کیا ہے؟ کیا بعض خلیجی ریاستوں کی طرح یہ کراچی اور گوادر کو ناکام بنانے کی کوشش نہیں؟ کیا ایران کے باب میں پاکستان کا رویہ یہی رہا ہے؟ کیا ہم ان کے دفاعی اور معاشی مفادات پر ضرب لگانے کی سازشوں میں کبھی شریک ہوئے؟ جنداللہ کی طرف سے اندرونِ ایران کارروائی کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ کیا یہ واقعہ نہیں کہ مشرق میں بھارت اور مغرب میں افغان سرحد پر سنگین صورتِ حال کے بعد طویل ایران افغانستان سرحدوں کی نگہبانی کے وسائل ہم نہیں رکھتے۔ جاسوسی اور دہشت گردی سے ایرانی نقصانات تو پاکستان کا سواں حصہ بھی نہیں۔
ایران اور بعض عرب ممالک پاکستان میں ایک پراکسی وار لڑتے رہے۔ پاکستانی پریس اس کی نشاندہی کرتا رہا۔ حکومتوں نے اگرچہ کمزوری کا مظاہرہ کیا۔ ہمارے عرب اور ایرانی دوستوں کو وضاحت کرنی چاہیے کہ اگر پاکستان ایسی حماقت کا ارتکاب کرتا تو ان کا ردّعمل کیا ہوتا؟
یمن کی جنگ اصلاً مذہبی نہیں، دراصل فرقہ وارانہ بھی نہیں۔ یہ بڑی حد تک حصولِ اقتدار کی اندرونی جنگ اور کسی حد تک خطے میں اثر و رسوخ کی ایران عرب کشمکش کی مظہر ہے۔ سعودی عرب سے پاکستانی ہمدردی کی تین واضح وجوہ ہیں۔ اولاً‘ سعودی عرب میں جس خلفشار کا اندیشہ ہے، وہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو یکسر تباہ کر سکتا ہے۔ باقی ماندہ قرار بھی ختم ہو جائے گا۔ یوں امریکہ اور اسرائیل اپنے وحشیانہ مقاصد پورے کر سکیں گے۔ ثانیاً‘ مقدس مقامات خطرے میں پڑے تو بحران پورے عالمِ اسلام کو محیط ہو جائے گا۔ ثالثاً‘ ہر مشکل وقت میں سعودی عرب پاکستان کی مدد کو پہنچا ہے۔ لاکھوں پاکستانی ہر سال تین ارب ڈالر سے زائد سعودی عرب سے پاکستان بھیجتے ہیں۔ اسی قدر دوسرے عرب ممالک سے۔ اقوام کی اوّلین ترجیح ان کے اپنے مفادات ہوا کرتے ہیں۔ تحریکِ پاکستان سے لے کر اب تک پاکستان کے شیعہ عوام نے قومی مفادات کو ملحوظ رکھا ہے۔ وہ ان مکاتبِ فکر سے مختلف ہیں، جن کے بعض زعماء پاکستان کے جواز ہی کو چیلنج کرتے ہیں۔ ان کے بعض بھڑکیلے دانشوروں اور علماء کو بھی یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے۔ عربوں کے گیت گانے والوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستانی مزدوروں سے وہ کیا سلوک روا رکھتے ہیں۔
پاکستانی حکومت، سول سروس اور فوج کبھی مذہبی فرقہ واریت کا شکار نہیں ہوتی۔ فوج کے تین سپہ سالار اور تین حکومتی سربراہوں کا تعلق اثنا عشری مکتبِ فکر سے تھا۔ ان پر کبھی اس حوالے سے تنقید نہیں کی گئی۔ اللہ کا شکر ہے کہ برائے نام بھی نہیں۔ پاکستانی معاشرہ ایران اور عرب ممالک سے مختلف ہے۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک عرب شاہی خاندان کی حفاظت کرنے و الے فوجی دستے کو ہمیشہ کے لیے واپس بلا لیا تھا، جس نے کچھ خاص لوگوں کی موجودگی پر اعتراض کیا۔ ''ہم فرقہ پرست نہیں‘‘ انہوں نے کہا تھا۔ چیخ و پکار کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ زبان سے لگائے جانے والے زخم گاہے شمشیر سے زیادہ کاری ہوتے ہیں۔
ایران ہو یا عرب ممالک، آخری تجزیے میں پاکستانیوں کے وقار کو انہوں نے بہت کم ملحوظ رکھا ہے۔ فقط ہماری حکومتیں اس کی ذمہ دار نہیں بلکہ فرقہ پرست علماء اور دانشور بھی۔ دوسروں کی آنکھ کا تنکا تاڑنے والے کیا اپنی آنکھ کا شہتیر ملاحظہ کرنا پسند کریں گے؟ وطن بھی کوئی چیز ہوتا ہے۔ خدا کے بندو، اپنا وطن! اپنا جو وفادار نہیں وہ کسی اور کا کیا ہو گا؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved