تحریر : عمار چودھری تاریخ اشاعت     07-04-2015

پی ٹی آئی کی واپسی پر مرچیں کیوں لگیں؟

وہ جنہوں نے ہر قسم کی جھوٹی سیاست کی ‘ پیپلزپارٹی کے لیڈروں کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں کیں اور پیٹ پھاڑ کر لوٹا گیا پیسہ نکلوانے کے دعوے کئے اور بعد میں انہی کے ساتھ جھپیاں ڈالنے لگے‘ کل تحریک انصاف کے اراکین کی پارلیمنٹ میںواپسی پر انہیں مرچیں لگ رہی تھیں اور وہ یمن کی صورتحال اور قومی سلامتی پر بات کرنے کی بجائے طعنے دے رہے تھے کہ ڈی چوک میں جھوٹ اور الزام کی سیاست کرنے والے پارلیمنٹ میں کس منہ سے واپس آئے ہیں اور یہ کہ انہیں شرم آنی چاہیے کہ وہ اس اسمبلی کا حصہ بن رہے ہیں جسے وہ جعلی اسمبلی کہتے تھے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف جس طرح پی ٹی آئی ارکان پر برس رہے تھے‘ اس سے صاف نظر آ رہا تھا کہ پی ٹی آئی کا دھرنا تو ختم ہو گیا لیکن نون لیگ ابھی تک ڈی چوک کے ایک سو چھبیس دن کے دھرنے کی چوٹیں بری طرح محسوس کر رہی ہے۔ جس طرح دھرنے میں عمران خان نے حکمران جماعت کو بے نقاب کیا‘ ان کی کرپشن کے ہوشربا قصے بیان کئے اور جس طرح عوام کو جگایا‘ یہ سب نون لیگ کی برداشت سے باہر تھا۔ یہ دھرنا اس کی بچی کھچی ساکھ کو بھی برباد کر گیا ۔ بعض خواب نیند سے جاگنے کے بعد بھی اپنے اثرات باقی رکھتے ہیں۔دھرنا بھی نون لیگ کے لئے ایک ڈرائونے خواب سے کم نہیں تھا۔ اس خواب کے آفٹر شاکس نون لیگ کو برسوں محسوس ہوتے رہیں گے اور جب جب تحریک انصاف سے ان کا ٹاکرا ہو گا‘ یہ اسی طرح کلبلاتے‘ بلبلاتے اور تڑپتے رہیں گے جس طرح گزشتہ روز اسمبلی میں حکمران جماعت کے وزیر اور ارکان تڑپتے پائے گئے۔ خواجہ آصف پی ٹی آئی پر برہمی کے وقت یہ کیوں بھول رہے تھے کہ
ان کی جماعت خود چھ ماہ سے پی ٹی آئی کی ترلے منتیں کرتی آ رہی ہے کہ وہ اپنی جنگ سڑکوں کی بجائے پارلیمنٹ کے فلور پر لڑے اور اب یہ واپس آئے ہیں تو انہیں سچ اور اخلاقیات کے درس یاد آ گئے ہیں۔ اس کا تو یہ مطلب ہے کہ یا تو اس معاملے میں خواجہ آصف اور نون لیگ کی پالیسی مختلف تھی یا پھر یہ سب قیادت کے کہنے پر ہی کیا گیا لیکن ظاہر یہی کیا کہ یہ خواجہ صاحب کے ذاتی جذبات تھے۔ میں پوچھتا ہوں اس طرح خدا کا خوف وہ دلائے اور بی اماں وہ بنے جنہوں نے یہ سب خود کبھی نہ کیا ہو۔ میں کس کس بات کا ذکر کروں۔بچہ بچہ جانتا ہے کہ جن لوگوں نے سعودی عرب کی ضمانت پریہ دس سالہ معاہدہ کیا کہ ہم پاکستان واپس نہیں آئیں گے‘ سیاست میں حصہ نہیں لیں گے اور بعد میں یہی لوگ این آر او کی گائے کی دُم پکڑ کر پاکستان آ گئے اور جب ان سے پوچھا گیا کہ تم لوگ کسی ڈیل کے تحت جیل سے نکال کر سعودی عرب لے جائے گئے تو یہ ہر قسم کے معاہدے سے انکار کرتے رہے۔ اس وقت انہیں اخلاقیات اور سچ جھوٹ کے درس کیوں یاد نہیں آئے؟ جب میڈیا نے جلاوطنی معاہدے کے ثبوت دکھا دئیے تو کھسیانے ہو کر کبھی تین سال اور کبھی پانچ سالہ معاہدے کی بات کرنے لگے ۔ یہ کہہ کر دراصل وہ اپنے محسنوں کو کٹہرے میں کھڑا کر رہے تھے جس پر سعودی شہزادہ المقرن کو مجبوراً پاکستان آنا پڑا اور جب انہوں نے دس سالہ معاہدے کی کاپیاں ہوا میں لہرائیں تب
انہوں نے کیوں سعودی شہزاے کو چیلنج نہیں کیا کہ ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا ۔ پی ٹی آئی میں لاکھ خامیاں ہوں گی اور یہ سیاست کے دائو پیچ سے بھی ناواقف ہو گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف اور عمران خان کی کئی سیاسی غلطیوں کے باوجود اب بھی لوگ انہی سے اُمید
لگائے بیٹھے ہیں۔ سمجھ تو لوگوں کو حکمران جماعت کی نہیں آ رہی کہ جو پی ٹی آئی اگر سڑک پر دھرنا دے تب اُسے سکون نہیں ہے اور اسمبلیوں میں واپس آئے‘ تب اُس کے پیٹ میں بل اُٹھنے لگتے ہیں۔عمران خان شاید اس نظر سے پارلیمنٹ میں واپس آئے کہ جوہڑ گندا ہو جائے تو اُسے صاف کرنے کے لئے خود جوہڑ میں اترنا پڑتا ہے۔ پی ٹی آئی کی ان خوبیوں کو دراصل خواجہ آصف اور ان کی جماعت نے پی ٹی آئی کی کمزوریاں سمجھ لیا ہے۔ اسی لئے وہ گزشتہ
روز اسمبلی میں اپنا غبار نکالتے رہے۔ ان کے خیال میں پی ٹی آئی نے تشدد اور گالی کی سیاست کو فروغ دیا۔ میں پوچھتا ہوں اگر پی ٹی آئی نے تشدد اور گالی کے ذریعے اقتدار میں آنا ہوتا تو ڈی چوک میں ان کے لئے اس سے آسان کوئی راستہ نہ تھا۔ درحقیقت انہوں نے سو دنوں میں اتنے بڑے مجمعے کو جس طرح کنٹرول کئے رکھا‘ یہ انہی کا خاصا ہے اور یہ سب حکومت پر صرف دبائو بڑھانے کا انداز تھا بالکل اُسی طرح جس طرح کسی غریب کا مقدمہ اس وقت تک درج نہیں ہوتا جب تک وہ خود پر تیل چھڑک کر آگ نہیں لگاتا اور جب تک سڑک بلاک نہیں کرتا تو پھر پی ٹی آئی نے کیا غلط کیا؟ نون لیگ کے بقول اگر کوئی تیسری قوت اس میں شامل تھی تو پھر اس ساری کاوش کے بعد پی ٹی آئی کے حق میں کوئی نتیجہ بھی نکلتا۔ نون لیگ دراصل عمران خان کی صاف دلی اور سادہ لوحی سے ناجائز فائدہ اٹھاتی آ رہی ہے۔ جوڈیشل کمیشن کا قیام ہو یا چار حلقے کھولنے کا مطالبہ‘ یہ خود ہر قدم پر دھوکے اور جھوٹ کی سیاست کرتی رہی اور الزام پی ٹی آئی پر لگا دیا۔ کیا عوام پاگل ہیں جنہیں اتنا بھی نظر نہیں آتا کہ جس پیپلزپارٹی کے لیڈروں کو یہ سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں کرتے تھے‘ انہی کے ساتھ مل کر اس ملک کو لوٹنے میں لگے ہیں۔یہ قوم کو کیوں نہیں بتاتے کہ لندن کے میثاق جمہوریت میں یہی طے پایا تھا کہ جب ہماری حکومت ہو گی تو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا سربراہ تمہارا ہو گا اور تمہاری حکومت میںہمارا ہو گا اور کرپشن اور فراڈ کا کوئی بھی کیس آئے تو ہم تمہیں بچائیں گے اور تم ہمیں بچانا۔ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ گزشتہ روز عمران خان نے پارلیمنٹ میں آنے کا فیصلہ یمن کی صورتحال پر کیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ اس حساس مسئلے پر جس میں ذرا سی غلطی پورے خطے کو اپنی لپیٹ میںلے سکتی ہے‘ حکومت کوئی ایسا فیصلہ نہ کرے جس کا خمیازہ خطے کے کروڑوں عوام کو بھگتنا پڑے۔ ایسا ہی قدم انہوں نے قومی مفاد کی خاطر اس وقت اٹھایا تھا جب پشاور سانحہ ہوا اور انہوں نے پہلے شہر بند کرنے کی کال واپس لی اور پھر دھرناختم کیا۔ ایسا وہی کر سکتا ہے جس کے تمام اثاثے اور جینا مرنا اسی مٹی کے ساتھ ہو۔ افسوس کہ عمران خان کے ان تمام اقدامات کو ان کی کمزوری جانا گیا لیکن میں اتنا بتا دوں کہ اگر نون لیگ کے لیڈروں کی طرح عمران خان کے بھی سارے اثاثے برطانیہ ‘ دبئی اور دیگر ممالک میں ہوتے تو وہ کب کے حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجاچکے ہوتے۔ عمران خان کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ وہ پاکستانی ہیں‘ ان کا سب کچھ پاکستان میں ہے‘ ان کا کرپشن کا ایک کیس بھی نون لیگ پوری کوشش کے باوجود سامنے نہیں لا سکی۔ آج اگر عمران خان آصف زرداری بن جائیں‘ یہ مولانا فضل الرحمن کی طرح مفادات کا سودا خریدنا او ربیچنا سیکھ لیں‘ یہ بھی زرداری صاحب کی طرح حکمران جماعت کے نور نظر بن جائیں گے۔ نون لیگ کو کب سمجھ آئے گی کہ قومی سلامتی پر ذاتی مفادات کو قربان کرنا نہ تو تحریک انصاف کی کمزوری ہے نہ ہی عمران خان کی ناکامی۔دوسرے الفاظ میں عمران خان کا جھپٹنا‘ پلٹنا ‘ پلٹ کر جھپٹنا‘ ایک ایسی سٹریٹیجی ہے جو اپنے سارے اثاثے بیرون ملک رکھنے والوں‘ وطن سے فرار کے معاہدے کرنے والوں اور پھر یہ معاہدے جھٹلانے والوں کو کبھی سمجھ نہیں آئے گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved