تحریر : ڈاکٹر لال خان تاریخ اشاعت     20-05-2015

چین دوستی؟

مودی کے دورۂ چین پر یہاں کے کچھ چین نواز حکمران تلملا سے گئے ہیں۔اب یہ تو پتا نہیں کہ بھارت چین دوستی ہمالیہ سے اونچی ہے یا نیچی لیکن جیبوں سے گہری ضرور معلوم ہوتی ہے۔ مرزا غالب کے بقول:
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے 14مئی کو شروع ہونے والے دورۂ چین میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ ان کی آئو بھگت اس سے کم نہیں تھی جس کاا ہتمام پاکستان کے حکمرانوں نے چینی صدر کے دورۂ پاکستان کے دوران کیا تھا۔ مودی نے چین کے ساتھ 22 ارب ڈالر کے 26معاہدے کئے۔اس سے قبل ستمبر 2014ء میں چینی صدر شی جن پنگ کے دورۂ بھارت کے دوران 20ارب ڈالر کے منصوبوں پر دستخط ہوئے تھے۔ کل ملا کر بھارت چین تجارتی معاہدوں کی مالیت 42ارب ڈالر بنتی ہے جو 46ارب ڈالر کے پاک چین معاہدوں سے زیادہ دور نہیں ہے۔ ان دوستیوں میں بھی اس سے زیادہ فرق شاید نہیں ہے۔ 
مسکراہٹ کے تبادلے، قومی ترانوں کی دھنیں، گارڈ آف آنر، لڑاکا جہازوں کی سلامی وغیرہ۔ بیرونی سربراہانِ مملکت کے دوروں کے دوران ہر جگہ ایک سے تماشے ہی ہوتے ہیں۔ یہ درحقیقت عوام کو حکمرانوں کے جاہ و جلال سے مرعوب کرنے اور ان کی نفسیات کو مائوف کرنے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے بڑی کمرشل فلموں سے بھی زیادہ اخراجات کئے جاتے ہیں، محنت کشوں کی پیدا کردہ دولت کو بے دریغ اڑایا جاتا ہے۔
یہ دورے حکمران طبقے کے کاروباری معاملات کا حصہ ہوتے ہیں جنہیں ''ملک و قوم‘‘ کی دوستی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس دوستی کی لفاظی اور نعرہ بازی کروانے کے لئے شاعر اور دانش وروں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ ڈھونگ رچایا جاتا ہے کہ یہ ''منصوبے‘‘ عوام کی ترقی اور فلاح کے لئے ہیں۔کبھی شرمندۂ تعبیر نہ ہونے والے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ اس فریب میں محروم طبقات کو اس حد تک غرق کر دیا جاتا ہے کہ وہ تلخ حقائق کا سامنا کرنے سے ہی کترانے لگتے ہیں۔ 
ؔ''پاک چین دوستی‘‘کے کتنے چرچے ہیں‘ لیکن پھر چین کے حکمرانوں کی جانب سے پاکستان دشمنی کی سیاست کرنے والے نریندر مودی کا شاندار استقبال اور اس کے دورے کو ذاتی ''ٹچ‘‘ دینا، کچھ اور ہی بتاتا ہے۔ مودی کی اس حد تک پزیرائی کی گئی کہ اس کو شی جن پنگ نے اپنے آبائی قصبے میں مدعو کیا۔ وہاں اس کا روایتی ثقافتی انداز میں خیر مقدم کیا گیا جس کے بعد ہی دو طرفہ ''مذاکرات‘‘ بیجنگ میں شروع ہوئے۔ اس نجی و سرکاری ملن کا حتمی مقصد دونوں ممالک کے سرمایہ داروں کے لین دین اور معاشی اشتراک کو مستحکم کرنا تھا۔مختلف ممالک کے حکمرانوں کے درمیان طے پانے والے مشترکہ اقتصادی مفادات کے معاہدے درحقیقت ان ''اقوام‘‘ کے اکثریتی عوام کے لئے استحصال میں اضافے کے فرمان ہوتے ہیں۔ ہر ''قوم‘‘ میں بالادست، درمیانے اور محنت کش طبقے کی شکل میں کئی قومیں بس رہی ہوتی ہیں۔محنت کش اور حکمران طبقے کے مفادات متضاد اور متصادم ہوتے ہیں۔طبقاتی سماج میں ''قومی مفادات‘‘آخری تجزئیے میں حکمران طبقے کے مفادات ہوتے ہیں۔
ہندوستان کے 125کروڑ انسانوں میں سے 80کروڑ ویسے ہی معاشی سائیکل سے باہر ہیں جن کی زندگی میں ان معاہدوں سے کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ 2008ء میں عالمی سرمایہ داری کے مالیاتی کریش کے بعد سے دنیا کا 68فیصد جی ڈی پی رکھنے والی یورپ اور امریکہ کی منڈیاں مسلسل سکڑ رہی ہیں۔ ان منڈیوں کے انہدام سے چینی معیشت کی شرح نمو 14فیصد سے گر کر 25سالوں کی کم ترین سطح 6.8فیصد پر آگری ہے اور مزید گراوٹ کے امکانات حاوی ہیں۔ جنوبی افریقہ کے بعد امارت اور غربت کی سب سے بڑی خلیج چین میں موجود ہے اور یہ معاشی بحران ہر روز اس ملک کے محنت کشوں کے صبر کا امتحان لے رہا ہے۔اس پولیس سٹیٹ میں ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں میں شدت آتی جارہی ہے اور خوفزدہ چینی حکمران سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں کہ خسارے کی سرمایہ کاری سمیت ہر حربہ استعمال کر کے عوامی قہر سے بچا جاسکے۔ یہ حکمرانوں کا خوف ہی ہے جس کے تحت چین کی ''داخلی سکیورٹی‘‘ کا بجٹ بیرونی دفاع سے بھی زیادہ ہے۔ بحران سے نکلنے کی اس 'فرسٹریشن‘ میں کون سی دوستی اور کیا دشمنی؟
ادھر بھارت کے کارپوریٹ سرمائے کو اپنے بحران کا سامنا ہے۔ مودی چین جاتے ہوئے بیان دے کر گیا ہے کہ ''چین دنیا کی پیداواری فیکٹری ہے اور ہم اس کا سیلز دفتر بن سکتے ہیں۔‘‘دونوں ممالک کا سرمایہ دار طبقہ تاریخی طور پر متروک، معاشی طور پر کرپٹ اور سیاسی طور پر رجعتی ہے۔ ان کا نظام مر رہا ہے جس کے پیش نظر یہ معاہدے زیادہ گنجائش پیدا نہیں کر سکیں گے۔ تعمیراتی ٹھیکوں اور لین دین کے ان معاہدوں کی حیثیت چند قطروں سی ہے جس سے بلند شرح منافع کی پیاس مٹنے والی نہیں۔ 
ویسے بھارت اور چین کی فوجی اشرافیہ خوش ہوگی نہ ہی اسلحہ ساز کمپنیاں ان معاہدوں کو پسند کریں گی۔ چین بھارت کا محاذ ہو یا پاک بھارت دشمنی، بڑی جنگوں کا وقت شاید گزر گیا ہے لیکن اسلحہ ساز کمپنیوں اور فوجی اشرافیہ کو مسلسل تنائو اور بعض اوقات حالت جنگ کی صورتحال بہرحال درکار ہے۔ مودی کے اس دورے سے اس تنائو اور عوام پر اس کو مسلط رکھنے کے طریقہ حکمرانی کو کچھ ٹھیس ضرور پہنچے گی۔ کھلی جنگ کے امکانات کم و بیش معدوم ہونے کی وجہ سے جنگی شعبے میں زیادہ منافع ممکن نہیں ہے لہٰذا تجارتی معاہدوں اور تعمیراتی منصوبوں کے ذریعے شرح منافع کو بڑھانے کی ناکام سعی کی جارہی ہے۔
اس سارے کھلواڑ کے لئے منافقت کا جو فن استعمال کیا جارہا ہے اسے ''سفارتکاری‘‘ کہا جاتا ہے۔ سفارتکاری کی اس فنکاری سے ایسا فارمولا ایجاد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے دوستی اور دشمنی کا کوئی ملغوبہ تیار کیا جا سکے، تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ عسکری شعبے سے بھی منافع خوری کا عمل جاری رہے۔ اس فارمولے کے تحت کبھی کوئی سرحدی جھڑپ کروا دی جاتی ہے یا پھر متنازع علاقے پر ملکیت کی بڑھک لگائی جاتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ''مختلف سطحوں پر مذاکرات‘‘بھی جاری رہتے ہیں۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ دوستیاں اور دشمنیاں حکمرانوں کے مالی مفادات کے لئے ہی ہیں۔ حب الوطنی، قومی سالمیت، غیرت، جنگی جنون، حتیٰ کہ مذہبی تعصبات کے عفریت کو ابھارنا بھی انہی پالیسیوں کا حصہ ہے۔
بھارت ایک سیکولر جمہویت اور ''سوشلسٹ‘‘ آئین کا واویلا کرتا ہے جہاں دائیں بازو کی مذہبی بنیاد پرست پارٹی اقتدار میں ہے۔دنیا کی '' سب سے بڑی جمہوریت‘‘کے چھوٹے حکمران بھی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے معاملات میں ''را‘‘ کے ہی مرہون ہیں۔ لیکن اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ چین میں ''کمیونسٹ پارٹی‘‘ کی حکومت ہے جو ''کمیونسٹ‘‘ہے نہ پارٹی بلکہ مافیا سرمایہ دار ٹولے کا ایک گینگ ہے۔ بھارت کے ''سیکولر‘‘ حکمران ہوں یا پھر نریندر مودی جیسے مذہبی جنونی ، سب کے سب سرمائے کے دلال ہی ہیں۔ چین کے حکمرانوں نے کمیونزم کو جتنا بدنام اور ذلیل و رسوا کیا ہے اتنا شاید سٹالن نے بھی نہ کیا ہوگا۔ چینی کھرب پتیوں کے اس ''کمیونزم‘‘ نے دنیا بھر میں مارکسزم اور سوشلزم کی جتنی رسوائی کی ہے اس کے سامنے سوویت یونین کے ٹوٹنے اور دیوار برلن کے گرنے کے واقعات بھی ماند پڑ جاتے ہیں۔ 
یہ سب کچھ اس وقت ہورہا ہے اور تب تک ہی ہوسکتا ہے جب تک چین کا محنت کش طبقہ ایک اور سوشلسٹ انقلاب کے لئے تاریخ کے میدان میںنہیں اترتا۔دوسری طرف مودی کا اقتدار بھارت میںرد انقلاب کا وہ تازیانہ ثابت ہو سکتا ہے جو انقلابی سرکشی کو جنم دے گا۔ چین میں بکھری صنعتی ہڑتالیں اور احتجاجی مظاہرے اگر ایک تحریک میں یکجا ہوتے ہیں تو محنت کش عوام ان ''کمیونسٹ‘‘ حکمرانوں کو بتائیں گے کہ کمیونزم ہوتا کیا ہے۔ چینی سرمایہ داروں کا ایسا عبرت ناک انجام ہو گا کہ آئندہ کسی کو انسانی نجات کے سچے نظرئیے کی تضحیک کی جرأت نہ ہوگی! 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved