تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     05-06-2015

ٹوٹے

کارگزاری
ایک اخباری اطلاع کے مطابق نیب نے اپنے قیام سے اب تک 262 ارب روپے ریکور کیے‘ اور‘ اسے نیب کی خصوصی کارکردگی کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے حالانکہ ریکوری کا طریق کار انتہائی شرمناک ہے اور جس کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے اور جو یہ ہے کہ مثلاً اگر کسی نے سرکاری خزانے سے ایک کروڑ روپے کا غبن کیا ہے تو اس سے پچاس ساٹھ لاکھ روپے پلی بارگین کے نام پر وصول کر کے اسے اس غبن کی کوئی سزا دیئے بغیر صاف چھوڑ دیا جاتا ہے جس میں نیب والوں کا اپنا کمیشن بھی شامل ہوتا ہے جبکہ جرم کی پردہ پوشی اور درگزر کی یہ ایک ایسی بھونڈی کوشش ہے جس سے یقینی طور پر ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے جو اس قسم کی وارداتوں میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ اگر مال ہضم ہو گیا تو ٹھیک ہے ورنہ اس میں سے کچھ حصہ واپس کر کے صاف بچ جائیں گے جبکہ ایسے جرائم کے بارے میں یہ طریق کار حکومتی رویے اور ذہن کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اول تو ایسے چور پکڑے ہی نہیں جاتے اور اگر پکڑے بھی جائیں تو جیل کی ہوا کھانے سے بچ جاتے ہیں جبکہ نیب کے اصل کام پر کسی کا فوکس نہیں ہے بلکہ اگر وہ کسی بڑے مگرمچھ کو ہاتھ ڈالنا بھی چاہے تو اس پر 'گوسلو‘ کی حکمت عملی آزمائی جاتی ہے اور اگر نیب کا کوئی سرپھرا چیئرمین مجرم کو اس طرح چھوڑنے یا کوئی رعایت دینے کو تیار نہ ہو تو اس کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے یا اسے عبرتناک انجام سے دوچار کیا جاتا ہے‘ طارق ملک جیسی جس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔
نوٹس پر نوٹس؟
ایک خبر کے مطابق پی ایم اے (پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن) نے وزیراعظم سے تقاضا کیا ہے کہ وہ پی ایم ڈی سی میں اقرباء پروری کا نوٹس لیں اور کہا ہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل میں اقرباء پروری سے ملک میں طبی تعلیم تباہی کے کنارے پر پہنچ چکی ہے اور ڈاکٹر برادری کو ہراساں کرنے کے عمل نے ڈاکٹروں کو اس ادارے سے بدظن کردیا ہے۔ ادارے میں رجسٹرار اور سیکرٹری کی حالیہ تعیناتیاں قواعد و ضوابط سے ہٹ کر کی گئی ہیں اور صورتِ حال یہ ہے کہ ایک ایگزیکٹو کونسل اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ادارے کے معاملات چلا رہی ہے اور اس کے تمام فیصلے غیر قانونی ہیں۔ یہ لوگ ڈاکٹروں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ یہ پی ایم اے والے بھی کیا سادہ لوگ ہیں جو یہ نہیں دیکھتے کہ وہ تقاضا کس سے کر رہے ہیں جبکہ ہر ایرا غیرا‘ نتھو خیرا بھی خوب اچھی طرح سے جانتا ہے کہ موجودہ حکومت اقرباء پروری کو ایک باقاعدہ حکمت عملی کے طور پر اپنائے ہوئے ہے جو سیاسی تقرریوں سے لے کر بیوروکریسی تک پھیلی ہوئی ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ اس کے بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں اور بہتر نتائج کا مطلب وہ نتائج ہوتے ہیں جو حکومت کی نظر میں بہتر ہوتے ہیں خواہ وہ کتنے بھی خوفناک کیوں نہ ہوں!
ملاوٹ!
خبر ہے کہ بھارت میں کھانے پینے کی اشیاء تیار کرنے والی ایک مشہور ملٹی نیشنل کمپنی کی تشہیر کرنے پر عدالت نے امیتابھ بچن‘ مادھوری ڈکشٹ اور پریتی زینٹا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنی کی مصنوعات کے ٹیسٹ کے دوران معلوم ہوا تھا کہ ان میں لیڈ کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ تھی جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ مقدمہ میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان تینوں نے بھاری معاوضے کے عوض ٹی وی اشتہارات میں کمپنی کی مصنوعات صحت کے لیے اچھی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ عدالت نے ان تینوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا۔ ملک عزیز میں کھانے پینے کی اشیاء سے لے کر ادویات تک کی تیاری میں جعل سازی کا بازار گرم ہے‘ حتیٰ کہ لاہور کے 60 فیصد عوام گندا پانی پینے پر مجبور ہیں لیکن حکومت تعلیم اور صحت جیسے شعبوں سے مجرمانہ غفلت اور لاپروائی برت رہی ہے۔ یہ لوگ فوڈ انسپکٹروں کو منتھلیاں دیتے اور چین کی بنسری بجاتے ہیں اور حکومت نے ایسا لگتا ہے کہ بھنگ پی رکھی ہے۔ لوگ ملاوٹ زدہ اشیاء کے استعمال سے بیمار ہو کر مر رہے ہیں اور حکومت اپنے محبوب میگا پراجیکٹس اور ان پر کروڑوں کی مہمیں چلانے ہی سے فارغ دکھائی نہیں دیتی۔
60 فیصد پاکستانی
ملک کی 60 فیصد آبادی فی کس دو ڈالر یومیہ سے نیچے رہ رہی ہے۔ یہ انکشاف سرکاری ادارے ڈرافٹ کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ایک سرکاری ادارہ ہے اور کوئی غیر سرکاری گپ نہیں ہے جبکہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب یہ کہتے نہیں تھکتے کہ پاکستان کے عوام ترقی کر رہے ہیں اور یہ کہ اس ترقی کا اعتراف بین الاقوامی اداروں نے بھی کیا ہے‘ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ ترقی اگر کہیں ہے بھی تو وہ اسی طبقے نے کی ہے جس کا تعلق خود حکمرانوں سے ہے جسے عوام کی ترقی سے موسوم کیا جا رہا ہے کیونکہ اگر عوام نے ترقی کی ہوتی تو وہ بھی محلوں میں رہ رہے ہوتے‘ ان کے اثاثے اور بینک اکائونٹس بھی بیرونی ملکوں میں ہوتے جبکہ ملک کی ایک بڑی اکثریت خطِ غربت سے نیچے اور جانوروں چھوڑ‘ کیڑوں مکوڑوں کی زندگی بسر کر رہی ہے جبکہ حکومت بھی انہیں انسان نہیں بلکہ کیڑے مکوڑے ہی سمجھتی ہے۔
سود و زیاں
ہمارے کرمفرما اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے کہا ہے کہ میاں افتخار حسین کی بے عزتی کا بدلہ مع سود لیں گے۔ ہمارے دوست اور کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی نے ایک بار اپنے رسالے ''نوائے پٹھان‘‘ میں لکھا تھا کہ ہم پٹھان یہودی النسل ہوتے ہیں۔ چنانچہ سود خوری کی وجہ مزید سمجھ میں آتی ہے۔ اپنے بھارتی دوستوں کی طرف سے محبت کی ترسیل میں بھی اگر دیر سویر ہو جائے تو ساتھ اس کا سود بھی موصوف طلب کرتے ہوں گے تاکہ اقتصادی راہداری کی راہ میں زیادہ سے زیادہ روڑے اٹکائے جائیں اور اسے ان کے بقول کالاباغ منصوبے کی طرح ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے حالانکہ پختونخوا ہی سے تعلق رکھنے والے واپڈا کے ایک ریٹائرڈ چیئرمین جناب شمس الملک بار بار دعوے کے ساتھ یہ کہہ چکے ہیں کہ کالاباغ ڈیم بننے سے نوشہرہ سمیت کسی شہر کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا جس کے بارے میں واویلا کر کے اس کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے جبکہ جس تھالی میں کھانا‘ اسی میں چھید کرنے والا محاورہ کسی نے یونہی وضع نہیں کر رکھا ع
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو
آج کا مطلع
دور و نزدیک بہت اپنے ستارے بھی ہوئے
ہم کسی اور کے تھے‘ اور تمہارے بھی ہوئے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved