تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     10-06-2015

اہل برما کی حالت زار

برماکے مظلوم روہنگیا مسلمانوں کوکئی برسوں سے صرف ان کے مذہب کی وجہ سے انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہاہے ۔ ہزاروں کی تعداد میںمظلوم مسلمان بچوں اور بڑی تعداد میں نوجوانوں کو اذیتیں دے کر شہید کیا جا چکا ہے۔ مسلمان عورتوں کی بڑے پیمانے پر عصمت دری کی جا چکی ہے۔ بوڑھوں کی داڑھیاں لہو سے تربتر ہیں۔ مسلمانوں کو ہجرت کے لیے بھی راستہ میسر نہیں۔ مظلوم مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لینے کے لیے داخل ہونا چاہتے تھے لیکن ان کو اس کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ اس وقت دنیا بھر میں سمندر میںموجود واحدمہاجر کیمپ صرف انہی مسلمانوں کا ہے جو سمندر کی خطرناک لہروں کے درمیان موت وحیات کی کشمکش میں زندگی کے بچے کھچے دن گزار رہے ہیں۔ برما کے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے بھی خاموش ہیں۔ انسانی حقوق کی انجمنوں نے بھی اس حوالے سے چپ سادھ لی ہے۔انسانی حقوق کی یہ تنظیمیں شایداقلیتوں اور عورتوں کی حق تلفی کو ہی انسانی حقوق کی خلاف ورزی تصور کرتی ہیں۔ اسی لیے آج تک انہوں نے کبھی بھی کشمیری اور فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز مظالم پر آواز نہیں اُٹھائی ۔ اہل برما کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز مظالم کو پچھلے کئی برسوں کے دوران الیکٹرونک میڈیا پر بھی خاطر خواہ کوریج حاصل نہیں ہو سکی۔ برما کے مظلوم مسلمان بیچارگی کے عالم میں اپنی زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں اور دنیا بھر کے مسلمان اور اسلامی ممالک کے سربراہان ان کی حالت زار پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
قومی ریاستوں کے قیام نے امت کے دردمشترک اور قدر مشترک پر گہری ضرب لگائی ہے اور آج اگر کسی ایک مقام پر مسلمان مظلوم یا معتوب ہوں تو دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والے مسلمان اس لیے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو اس ظلم سے محفوظ ومامون سمجھتے ہیں۔ یہ خود غرضی اور نفسا نفسی اس حد تک آگے بڑھ چکی ہے کہ ایک ہی وطن اور ملک میں بسنے والے افراد بھی قومی‘ لسانی تقسیم اور اختلاف کی وجہ سے ایک دوسرے کے دکھ درد کو صحیح طریقے سے محسوس نہیں کرتے ۔
قرآن مجید کی سورت الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ بے شک مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اسی طرح حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ مسلمانوں کی مثال ایک جسد واحد کی مانند ہے کہ جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو باقی سارا جسم بھی اس درد کو محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے کسی شاعر نے خوب کہا تھا ؎
اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستان کا ہر پیرو جواں بے تاب ہو جائے
یہ جذبہ اخوت سر دست مسلمانوں میں نظر نہیں آرہا‘ اسی لیے کسی بھی مسلمان ملک نے اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اُٹھا نے کی کوشش نہیں کی۔ اسی طرح مسلمانوں کے اپنے نمائندہ ادارے جن میں سرفہرست او آئی سی ہے اس نے بھی اس مسئلے پر غوروغوض کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے ۔
امریکہ اور یورپی اقوام دنیا بھر میں مسیحیوں کے معاملات پر بڑی گہری نظر رکھتے ہیں۔ اسی لیے مشرقی تیموراور سوڈان کے وہ علاقے جہاں مسیحیوں کو غیر محفوظ سمجھا گیا‘ ان کو سیاسی طور پر علیحدگی دلوانے کے لیے فوری کردار ادا کیا گیا۔ اسی طرح داخلی سطح پر بھی کبھی سیاسی آزادی کے مطالبے کو نظر انداز نہیں کیا جاتا۔ انگلستان میں سکاٹ لینڈ کی علیحدگی سے متعلق استصواب رائے کے مطالبے کو فی الفور عملی جامہ پہنایا۔ اس کے برعکس کشمیر کے مسلمان تقریباً گزشتہ سات عشروں سے اپنی آزادی کے لیے برسرپیکار ہیں لیکن ان کے جائز مطالبے کو کلی طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔
روہنگیا مسلمان اٹھارویں صدی کے آخری حصے تک آزادی سے زندگی گزار رہے تھے اور ان کی اپنی حکومت تھی۔ برما نے جبراً ان کے علاقوں پر قبضہ کرلیا اور بتدریج ان سے مذہبی آزادیوں کو سلب کیا اوریہاں تک کہ ان سے جینے کے بنیادی حق کو چھین لیا گیا۔ یہ سب کچھ ان ایام میں ہوا جب کہ بنگلہ دیش کی قوم پرست لیڈر حسینہ واجد مسلمان رہنماؤں کو بلاسبب ظلم اور بر بریت کا نشانہ بنانے میں مصروف تھیں ۔ ان کا طرز عمل اس امر کی نشاندہی کر رہا تھا کہ وہ اپنے ملک کی سیاست سے ہر قسم کے مذہبی اثرات کو دور کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے یہ اقدامات برما کی مسلم کش حکومت کی بالواسطہ حوصلہ افزائی کا سبب بن رہے تھے۔
مظلوم کی آہ بے اثر نہیں ہوتی۔ گو ذرائع ابلاغ نے اس مسئلے کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا لیکن سوشل میڈیا نے ظلم وبربریت کو بڑی وضاحت اور شدومد سے بے نقاب کیا۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر کی مسلمان جماعتوں اورتحریکوں میں بیداری کی ایک لہر پیدا ہوگئی ۔ میرا بھی اس حوالے سے جماعۃ الدعوۃ کے ذمہ داران سے رابطہ ہوا اور ہم نے باہمی مشاورت سے اس بات کو طے کیا کہ اس مسئلے کو سنجیدگی کے ساتھ لینا چاہیے۔ گزشتہ خطبہ جمعہ کے بعد میں نے اور میرے بہت سے دوست احباب نے اس مسئلے پر رائے عامہ کو بیدار کرنے کی جستجو کی ۔ اتوار کے روز جماعت اسلامی لاہور نے اس حوالے سے کیمپ لگایا تھا ۔ جس میں برادر لیاقت بلوچ اور سیف الدین سیف کے علاوہ مجھے بھی مدعو کیا گیاتھا۔ اس احتجاجی کیمپ میں مقررین نے اپنے اپنے انداز میںـ مسئلے کے مختلف پہلوؤں کو واضح کیا اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر ہونا چاہیے ۔ میں نے بھی احتجاجی کیمپ سے خطاب کیا اور اہل مغرب اور عالمی اداروں کے دوہرے معیار کو واضح کیا اور علماء سے نمازوں میں قنوت نازلہ کا اہتمام کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اسی روز شام کے وقت مرکز لارنس روڈ پرتکمیل بخاری شریف کی سالانہ تقریب تھی ۔ حاضرین کے سامنے جہاں پر حجیت و اہمیت حدیث کے حوالے سے گفتگو ہوئی وہیں پر اہل برما کے ساتھ ہونے والے مظالم پر خصوصی دعا بھی کروائی گئی۔
برما کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر ہر صاحب دل بے قرار اور غم زدہ ہے ۔ غم زدہ اور بے بس مسلمانوں کے احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے میں نے بھی کچھ اشعار اہل برما سے اظہار یکجہتی کے لیے قلم بند کیے ہیں جنہیں نذر قارئین کرنا چاہتا ہوں ؎
کہرام ہے کہرام ہے
برما میں قتل عام ہے
برمیوں کے قتل پر اُمت خاموش ہے
پٹی ہے آنکھ پر اور دل بھی مدہوش ہے
غافل ہے مسلماں، سرمایہ پرست ہے
رنگیں مزاج ہے، محبت میں مست ہے
اللہ کو چھوڑ کر دنیا پرست ہے
سنت کو چھوڑ کر روایت پرست ہے
بھائی کے خون پر بھی زبان اس کی چپ ہے
نہ آنکھیں ہیں اس کی نم، نہ سینے میں دکھ ہے
برما کے مقتلوں کی کچھ تجھ کو خبر ہے
لہو بہہ رہا ہے لیکن اللہ کا ذکر ہے
کہنے کو بدھ مذہب امن کا سفیر ہے
چنگیز کا ہے خنجر، ہلاکو کا تیر ہے
بکری کی کھال میں وحشی حیوان ہے
دشمن ہے دین کا عہد کا ہامان ہے
کیوں پٹ رہا ہے مسلم، سر نہاں ہے
سبب زوال لوگو !تاریخ میں چھپا ہے
نہ غیرت فاروق کی ہے نہ حیدر کی تیغ ہے
نہ خالد کا طنطنہ ہے نہ ٹیپو سا شیر ہے
نہ ابن قاسم کی لپک ہے نہ طارق کی کاٹ ہے
نہ محمود کی تڑپ ہے ، نہ بابر کی دھاک ہے
بچے ہوئے یتیم ممتا نڈھال ہے
چہرہ زمین کا بھی صدمے سے لال ہے
بے جرم مجرموں کا ہم سے سوال ہے
اس ظلم وجبر پہ مسلم، کیا تیرا خیال ہے
کس منہ سے کریں دعا کہ رب تو علیم ہے
ہے سویا ہوا ضمیر اور جذبہ یتیم ہے
سر جھک چکا ہے میرا، دل صدمے سے چور ہے
شرمندہ ہوں میں ظہیر کہ محشر قریب ہے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved