تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     13-06-2015

نیند کیوں ’’پیٹ‘‘ بھر نہیں آتی؟

کوئی کہتا ہے کہ ہم عقل کو حیران اور آنکھوں کو خیرہ کردینے والی ٹیکنالوجیز کے دور میں جی رہے ہیں۔ کسی کا اندازہ یا خوش فہمی ہے کہ ہم زندگی کو زیادہ سے زیادہ پُرآسائش بنانے کے دور میں زندہ ہیں۔ کسی کا خیال ہے کہ یہ علم کا زمانہ ہے۔ بعض ایسے بھی ہیں جو اِسے جہالت کے دور سے تعبیر کرتے ہیں۔ ہمیں ایسی تمام باتیں پڑھ کر بہت ہنسی آتی ہے، بلکہ ہماری ہنسی چُھوٹ جاتی ہے۔ اور ہنسی بھلا کیوں نہ چُھوٹے؟ یہ زمانہ علم کا ہے نہ جہالت کا۔ ہم سے پُوچھیے، ہم بتاتے ہیں۔ ہم اور آپ‘ نام نہاد ماہرین اور ماہرانہ آراء پر مبنی اُن کی پیش گوئیاں بھگتنے کے دور میں جی رہے ہیں! فی زمانہ ہر موضوع اور ہر معاملے کے اِتنے ماہرین پائے جاتے ہیں کہ ورائٹی دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ یوسفی صاحب نے لکھا ہے کہ جن امراض سے کسی دوا کے بغیر بھی نجات پائی جاسکتی ہے اُن کے لیے ہومیو پیتھی سے زیادہ کارگر طریق علاج کوئی نہیں! ماہرین کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ اِس وقت ہر اُس موضوع یا شعبے کے ماہرین موجود ہیں جن کے لیے ماہرین کی چنداں ضرورت نہیں! مغربی دنیا میں یہ ٹنٹا اِس حد تک بڑھ چکا ہے کہ لوگ دن بھر ماہرین کے آن لائن مشوروں ہی میں الجھے رہتے ہیں۔ سبزی خریدنی ہو تو ماہرین سے مشورہ، کپڑے استری کرنے ہوں تو ماہرین سے مشورہ، سیر و تفریح کے لیے نکلنا ہو تو ماہرین سے مشورہ۔ ماہرین نہ ہوئے، امرت دھارا ہوئے کہ جس میں بہتے چلے جائیے۔ کچھ عرصے کے بعد مارکیٹ میں ایسے ماہرین بھی آجائیں گے جو یہ بتائیں گے کہ کسی بھی معاملے میں بہتر رہنمائی کے لیے کن ماہرین سے مشورہ کیا جائے!
پاکستانی معاشرے کی ایک بنیادی خصوصیت، بلکہ کمال یہ بھی ہے کہ یہ ماہرین کے مشوروں پر عمل کے بغیر جی رہا ہے اور رَج کے جی رہا ہے۔ ویسے تو خیر بے عملی کسی اعتبار سے قابل تعریف خصوصیت نہیں مگر ماہرین کے مشوروں کے حوالے سے پائی جانے والی بے عملی کو ہم اللہ کے خاص کرم سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ وہ بچانے والی ذات جب کسی کو مکمل تباہی سے بچانے پر آتی ہے تو ایسے ہی معجزے دکھایا کرتی ہے!
پاکستانی معاشرے کی حد تک یہ بات درست ہے کہ ماہرین جس موضوع پر کوئی رائے دیتے ہیں اُسے لوگ پامال کرنے لگتے ہیں۔ مثلاً ایک زمانے سے ماہرین سگریٹ کے نقصانات کے حوالے سے خاصے افسانوی انداز سے انتباہ کرتے آئے ہیں۔ اِس کے جواب میں سگریٹ پینے کا رجحان دن بہ دن توانا تر ہوتا گیا ہے۔ سگریٹ کے حوالے سے ماہرین جو انتباہ وقتاً فوقتاً جاری کرتے رہتے ہیں اُسے غلط ثابت کرنے اور نیچا دکھانے کے لیے لوگ 24 گھنٹے میں تیس چالیس سگریٹ پُھونکتے ہیں۔ اور (ماہرین پر) ستم بالائے ستم یہ کہ ایسا کرنے والے 70 سال سے زیادہ کی عمر بھی پاتے ہیں۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ سگریٹ پینے سے عمر گھٹتی ہے تو پھر لامحالہ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ یہ لوگ اگر سگریٹ پینے کے عادی نہ ہوتے تو ڈھائی تین سو سال ضرور زندہ رہتے!
نیند بھی ایک ایسا موضوع ہے جسے ماہرین نے جی بھر کے پامال کیا ہے۔ نیند کے حوالے سے ہر دور میں ایسی ایسی بے پَر کی اڑائی گئی ہے کہ پڑھیے تو ہنستے ہنستے غنودگی سی طاری ہونے لگتی ہے! بہت سے لوگ نیند کے بارے میں کوئی بھی ایسی ویسی خبر پڑھ کر یا تو بے خوابی کا شکار ہوجاتے ہیں یا پھر ضرورت اور گنجائش سے زیادہ سونے لگتے ہیں۔ ہر دو صورتوں میں ماہرین کو کچھ فرق پڑتا ہے نہ ان کا کچھ بگڑتا ہے جو زیادہ یا کم سوتے ہیں۔ ہاں، ہمیں اور آپ کو دلچسپ خبریں ضرور پڑھنے کو مل جاتی ہیں۔
ماہرین نے اب یہ کہتے ہوئے ہم پاکستانیوں کو ڈرانے کی کوشش کی ہے کہ جس طور کم سونا خطرناک ہے اُسی طرح زیادہ سونا بھی انسان کو موت کے نزدیک لے جاتا ہے۔ خبر ہے کہ ماہرین نے کم و بیش 10 برس کی تحقیق کی روشنی میں یہ بات بتائی ہے۔ ہمارے خیال میں ماہرین نے اپنا اور تحقیق میں حصہ لینے والے رضا کاروں کا وقت ضائع کیا۔ ہم سے پوچھتے تو ہم عشرے بھر کی تحقیق کو زحمت دیئے بغیر ایک منٹ میں حرفِ آخر ٹائپ کی رائے دے دیتے۔ کوئی تَعلّی یا خود پسندی پر محمول نہ کرے تو ہم عرض کریں کہ زیادہ سونے سے نہ صرف یہ کہ انسان موت کی طرف نہیں جاتا بلکہ دیکھا گیا ہے کہ نیند اُس کے لیے اکسیر بن کر ابھرتی ہے! کم از کم مرزا تنقید بیگ کے حوالے سے تو ہم یہ بات بلا خوفِ ترید کہہ سکتے ہیں۔
مرزا نے دیگر اصولوں پر بھلے ہی سودے بازی کی ہو مگر نیند کے معاملے میں انہوں نے کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی! سرکاری ملازمت کے 30 سالہ دور میں مرزا نے نیند کو یوں گلے لگائے رکھا جیسے یہ ان کی کارکردگی اور سروس بک کا حصہ ہو! ہم جب بھی ان سے ملنے دفتر پہنچے تو انہیں خواب خرگوش کے مزے لُوٹتا پایا۔ ابتداء میں دفتر کے ساتھی انہیں دیکھ کر رشک کرتے تھے مگر پھر جلد ہی وہ حسد کی منزل تک پہنچ گئے۔ مرزا چونکہ اللہ کے بندے ہیں اور اللہ صمد یعنی ہر بات سے بے نیاز ہے اِس لیے مرزا میں بھی عجب انداز کی بے نیازی در آئی ہے۔ وہ جب تک سرکاری ملازمت میں رہے، کبھی کسی بات کی پروا نہیں کی اور بے نیازی سے اپنے معمولات کے مطابق دن کو رات اور رات کو دن کرتے رہے!
جب تک مرزا سرکاری ملازم رہے ان میں ایک ''خوبی‘‘ قابل رشک حد تک برقرار رہی۔ یہ کہ نیند کے حوالے سے کوئی خواہ کچھ کہے، وہ بُرا نہیں مانتے تھے اور اپنے دفتری معمول پر غنودگی طاری نہیں ہونے دیتے تھے۔
کہاں ہیں وہ ماہرین جو زیادہ سونے والوں کو موت کی وعید سناتے پھرتے ہیں؟ مرزا کو تو ہم نے ضرورت سے کم از کم پچاس فیصد زائد نیند لیتے ہوئے دیکھا ہے مگر ان کا تو کچھ بھی نہیں بگڑا بلکہ جی بھر کے سونے سے اُن کی آنکھوں کی چمک بڑھ جاتی تھی، حواس زیادہ توانا ہوکر موت کا سامنا کرنے میں بھرپور معاونت کے لیے میدان میں آجاتے تھے!
ماہرین نے نیند اور موت کے حوالے سے جو انتباہ کیا ہے وہ کسی اور معاشرے میں ضرور کارگر ہوگا، پاکستانی معاشرے میں ہرگز نہیں۔ یہاں تو وہی زیادہ کامیاب، صحت مند اور موت سے دور ہیں جو نیند سے زیادہ قریب ہیں۔ نیند نے پورے معاشرے کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے اور سب مست و شاد ہیں۔ لگتا ہے سب نے طے کر رکھا ہے کہ فی الحال تو انٹا غفیل رہ کر عملی زندگی کی تلخیوں سے منہ کا ذائقہ خراب نہیں کریں گے۔ ماہرین نے نیند کے نقصانات یا فوائد کے بارے میں کیا کہا ہے اِس پر بھی غور ضرور فرمایا جائے گا مگر بیدار ہونے پر!
مرزا غالبؔ نے کہا تھا ؎
موت کا ایک دن معیّن ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟
ماہرین کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ غالبؔ تھے جو رات بھر نیند نہ آنے کا شِکوہ کرتے تھے۔ ہم ''پیٹ بھر‘‘ نیند پر یقین رکھتے ہیں! زیادہ سونے پر موت سے ڈرانے والے ماہرین کو کیا معلوم کہ ہمارے ہاں لوگ دن کا کھانا کھاکر کمر سیدھی کرنے کے نام پر بھی دو ڈھائی گھنٹے ٹھکانے لگانے کا ہنر جانتے ہیں! اور کوئی بھی دیکھ سکتا ہے کہ اِس سے ہمارا کیا بگڑ گیا، ہم کون سے مرگئے۔ یہاں تو لوگ روزانہ بارہ گھنٹے سوکر بھی زندہ ہیں اور اگر کوئی پرکشش ترغیب ہو تو نیند کا دورانیہ بڑھانے کے لیے بھی تیار ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved