تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     13-06-2015

ایک بار پھر کارگل

سابق صدر جنرل مشرف کے ایک حالیہ انٹرویو میں کارگل کا ذکر کیا ہوا کہ اس پر بحث کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا جس سے بہت سی نئی باتیں اور کہانیاں سامنے آنا شروع ہوئیں لیکن سب سے اہم نکتۂ اختلاف صرف ایک ہے کہ مشرف نے کارگل آپریشن پر وزیر اعظم نواز شریف کو اعتماد میں لیا تھایا نہیں۔ کچھ حقائق سامنے رکھتے ہوئے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سچ کیا ہے۔ جناب نواز شریف نے پاکستان کے 59 ویں یوم آزادی پرنا روے میں وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ جرنیلوں نے کارگل پر بریفنگ دیتے ہوئے کچھ اور بتا یا تھا لیکن جب اس پر عمل کیا گیا تو یہ کچھ اور نکلا‘ اس طرح مجھے گمراہ کیا گیا‘ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اس پر ایک کمیشن بنایا جائے۔ اپنے اس انٹرویو میں جناب نواز شریف نے کہا تھا کہ فوج کے جرنیلوں نے انہیں جوبریفنگ دی تھی ان کا کارگل آپریشن منصوبہ اس کے با لکل الٹ تھا۔ اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ''کفر ٹوٹا خد ا خدا کر کے‘‘ کیونکہ ماضی میں وہ ایک ہی رٹ لگاتے رہے ہیں کہ کارگل پر ہمیں کبھی بھی کسی قسم کی کوئی بریفنگ نہیں دی گئی تھی۔
جناب نواز شریف کا اصرار ہے کہ انہیں بتا یا کچھ گیا تھا اور عمل کچھ اور کیا گیا۔ اگر کوئی صاحب 12 جولائی 1999ء کے ملکی اور غیرملکی اخبارات سامنے رکھ سکیں تو امریکہ سے واپسی پر کارگل بارے اس وقت کے وزیر اعظم جناب نواز شریف کی ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر کی گئی نشری تقریر کی تفصیل کچھ یوں ہے: ''سری نگر سے کارگل تک کسی بھی سڑک کا کوئی وجود نہیں ہے اور دوسرا بھارت نے
کشمیر میں اپنی بحریہ کو اتار دیا تھا‘‘۔ اس سادگی یا لا علمی کے کیا کہنے۔ آپ انڈین نیشنل ہائی وے کا نقشہ سامنے رکھیں یا کسی بک سٹال پر دیکھ لیں تو اس میں صاف نظر آتا ہے کہ یہ سڑک سری نگر سے پہلگام اور زوجی لادرہ سے ہو تی ہوئی کارگل کے درمیان سے ہو کر لیہ اور سیا چن تک جاتی ہے۔ اور سوچیں کہ کارگل جنگ کے موقع پر جب ساری دنیا کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پاکستان اور بھارت میں جمع تھا‘ اس وقت پاکستان کے وزیراعظم اپنی نشری تقریر میں کارگل سے سری نگر تک کسی بھی راستے اور سڑک سے لا علمی کا اظہار کر رہے تھے۔ ان کی یہ تقریر سن کر ساری دنیا سوچتی ہو گی کہ پاکستان کا اپنے سب سے بڑے دشمن ملک کے ساتھ تقسیم کے وقت سے ہی کشمیر کا تنا زع چلا آ رہا ہے اور اس تنازع کی وجہ سے دونوں ملک تین خوفناک جنگیں بھی لڑ چکے ہیں‘ لیکن کشمیر پر دعویٰ رکھنے والے اس ملک کے وزیر اعظم کو دشمن ملک کے جغرافیہ کا ہی علم نہیں۔
جناب نواز شریف کی بحیثیت وزیر اعظم 12 جولائی 1999ء کی اس تقریر کے بعد یہی کہا جا سکتا ہے کہ کارگل پر کسی بھی بریفنگ سے ان کی لا علمی کی وجہ فوج کے جرنیل نہیں بلکہ کچھ اور ہے۔ اور شاید میاںصاحب کی یہی تقریر سن کر واشنگٹن پوسٹ اور نیو یارک ٹائمز نے لکھا تھا ''کارگل پر تمام بھا رتی دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں اور بھارتی ا ب بھاگ رہے ہیں لیکن پاکستان کی سویلین قیا دت خاموش تما شائی بنی ہوئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ لڑائی صرف پاکستانی فوج ہی کی ہے‘‘۔ ( یہ شمارے آج بھی ملا حظہ کئے جا سکتے ہیں)
ایک انٹرویو پر مبنی شائع شدہ ایک کتاب میں جناب نواز شریف فرماتے ہیں: '' جنرل مشرف بے چین تھے کہ کسی طرح کارگل کے معاملے کو جلدی سے نپٹائوں اور میں نے کارگل میں فوج کو شرمندگی سے بچا یا ‘‘۔ جناب نواز شریف کی اس بات پر اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں لکھوں گا۔ مئی‘ جون اور جولائی 1999ء کے ملکی اور غیر ملکی اخبارات ،بی بی سی، سی این این اور وائس آف امریکہ کی ریکا رڈنگ اپنے قارئین کے سامنے رکھ رہا ہوں‘ پڑھ کر خود فیصلہ کر لیں۔ (1)دو جون 1999ء کو نئی دہلی میں بھارت کے اس وقت کے آرمی چیف جنرل وی پی ملک اور ایک کور کمانڈر نے واجپائی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج زیادہ عرصہ مجاہدین اور پاکستانی فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔(2) کارگل میں بھارتی فوج کے ملٹری آپریشنل چیف جنرل جے جے سنگھ نے کہا کہ اب جنرل سرما (سردی) ہی ہمیں بچا سکتا ہے۔ (3)بھارت کے ہندو گروپ کے میگزین فرنٹ لائن کی 18جون 1999ء کی رپورٹ ہے کہ کارگل بھارت کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ (4)کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے کہا کہ کارگل سے بھارتی فوجیوں کے جو تا بوت آ رہے ہیں جنتا انہیں گنتے گنتے تھک گئی ہے۔ (5)بھارت کی پندرہویں کور کے کمانڈر جنرل کرشن پال نے 16مئی 99ء کو تسلیم کیا کہ پاکستانی ہمیں کارگل میں سخت نقصان پہنچا رہے ہیں۔ (6)گارڈین لندن نے جولائی میں لکھا کہ پاکستانی بہادر لوگ ہیں‘ بے خوف پاکستانیوں اور بد دل بھا رتیوں کو دیکھ کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کا اثر ختم ہو جا تا ہے۔ (7) کارگل میں تعینات بھارتی فوج کے ایک کرنل وکرم نے اپنے ایک پیغام‘ جسے وائس آف امریکہ نے ریکارڈ کر کے ساری دنیا میں نشر کیا‘ میں اپنے آپریشنل کمانڈر سے کہا کہ سخت برف با ری اور تیز ہوائیں چل رہی ہیں‘ جس کی وجہ سے ہم کوئی بھی چوٹی واپس لینے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ یہ چوٹیاں عمو دی ہیں اور ہما ری بم با ری سے ہما رے ہی فوجی مر رہے ہیں۔ (8)میاں صاحب کی 12جولائی کو ہونے والی تقریر کے بعد 16 جولائی 1999ء کو بی بی سی نے اپنی رپورٹ‘ جو تمام اخبارات میں شائع ہوئی‘ میں لکھا تھا ''فوجی لحاظ سے پاکستان کی کارکردگی شاندار تھی‘ اسے خارجہ محاذ پر شکست ہوئی‘‘۔
آج تک کسی نے سوچا ہے کہ جب ساری دنیا کا میڈیا اور بھارتی کما نڈر چیخ چیخ کر کارگل میں بھا رت کی شکست اور تبا ہی کا اعلان کر رہے تھے تو پھر جبری پسپائی کیوں ہوئی؟ یہ سب کیوں اور کیسے ہوا؟ کس نے کیا؟۔اس لیے کہ کچھ سیاستدان نہیں چاہتے تھے کہ کارگل‘ کشمیر اور سیا چن میں افواج پاکستان کو کسی قسم کی کوئی فتح حاصل ہو نے سے عوام اورفوج کا رشتہ اور مضبوط ہو جائے کیونکہ ایسی کوئی فتح کچھ مخصوص سیاستدانوں کے آئندہ شخصی عزائم کی راہ میں رکاوٹ ہوتی۔ سونیا گاندھی کے بقول جب کارگل سے بھا رتی فوجیوں کے تا بوت گنتے ہوئے بھارتی جنتا تھک گئی اور مجاہدین اور فوج نے ترتوک پوسٹ، جیڑی پوسٹ، راہتاں والی، کھیت،جنگلا اور جندر پوسٹوں پر قبضہ کر لیا تو سیاستدانوں کا ایک گروپ کہنا شروع ہو گیا کہ ابھی تک ہم سے ستمبر 1965ء کا بوجھ ہی نہیں سنبھا لا جا رہا‘ اگر اس فوج نے کارگل یا کشمیر میں کسی قسم کی کامیا بی حاصل کر لی تو ہم سیا ستدان کہاں جائیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اسی منصوبہ پر عمل کر تے ہوئے کارگل میں پاکستانی فوج کی دی گئی قربانیوں اور بھارت کی شکست کو دھندلانے کے ساتھ ساتھ اقوامِ عالم میں بھارت کے مقابلہ میں پاکستان کی پوزیشن کو متنا زعہ اور کمزور بنایا جا رہا ہے جبکہ یہی دشمن آئے روز دس سے بیس پاکستانیوں کا خون پی کر اپنے دن کا آغاز کرتا ہے!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved