تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     20-06-2015

پاک افغان اعتماد

خبر ہی ایسی تھی کہ حاسدین اور مخالفین کیلئے تسلیم کرنا تو بہت دور کی بات سننا بھی گوارہ نہ ہوا اور وہ تلملا کر رہ گئے۔ انہیں ایسا لگا کہ قرآن پاک کے سائے تلے یہ دونوں ملک اور ان کے عوام اگر ایک ہو گئے اور ان کے درمیان سالوں کی عیاریوں اور چالاکیوں سے پیدا کی گئی غلط فہمیوں اور دشمنیوں کے پردے ایک ایک کر کے چاک ہونے لگے تو اس کی خونِ مسلمان چاٹنے کی دیرینہ شیطانیت بھسم ہو کر رہ جائے گی اور پھر چانکیہ کے چیلے نے ان دو مسلمان بھائیوں کے درمیان پھر سے شک کی دیوار کھڑی کرنے کیلئے شیطانی حرکات شروع کر دیںتاکہ نئے افغان صدر اشرف غنی کے دل میں پاکستان کے بارے میں جنم لینے والی نیک خواہشات کو پھلنے پھولنے سے پہلے ہی اکھاڑ دیا جائے۔
پاکستان اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیوں کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے کے معاہدے پر دستخط کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ دو مسلم ممالک میں دہشت گردی کی روک تھام اور اس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان پیدا کی گئی سالہا سال کی ان بد گمانیوں اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی جانب ایک بہت بڑا بریک تھرو تھا۔ یہ ایک معاہدہ نہیں بلکہ اس خطے میں ان دو مسلم ممالک کے عوام کی ترقی، خوش حالی اور مضبوطی کی راہ پر بڑھنے کی جانب روشنی اور امید کی ایک کرن ہے اورروشنی سے ڈرنے والے اس سے نفرت کرنے والے‘ اس سے بھاگنے والے اس روشنی کو بجھانے کے درپے ہو چکے ہیں۔ روشنی سے ڈرنے والا روشنی سے بھاگنے والا بھارت یہ کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ دو ہمسایہ مسلمان ملک ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہیں‘ دونوں کے عوام خوش حالی اور امن کی زندگیاں گزارنے لگیں اور وہ کدورتیں اور عداوتیں جو بھارت نے ان کے درمیان کھڑی کی تھیں ایک ایک کر کے مسمار ہو نا شروع ہو جائیں۔
امریکی چھتری تلے چمن اور طورخم سے قندھار اور جلال آباد تک حامد کرزئی کے دس سالوں میں بچھائے گئے کانٹے چننے میں وقت تو لگے گا لیکن یہ اٹل حقیقت افغان اور پاکستانی قیا دت کو جان لینی چاہئے کہ امریکی افواج کی مکمل واپسی کے بعد دونوں ملکوں کی سلامتی اور خوش حالی اس امن سے ہی منسلک ہے جو دونوں ممالک کے باہمی اعتماد کی صورت میں سامنے آئے گااور ایک دوسرے کی سرحدوں کا احترام ہی باہمی اعتماد کو فروغ دے گا۔ ایک ہی تیر سے دو شکار کرنے والا بھارت اچھی طرح جانتا ہے کہ ایک دوسرے سے 1600 کلو میٹر تک جڑے ہوئے ایک خدا اور ایک رسولؐ کو ماننے والے اگر ایک ہو گئے اور ایک دوسرے کے دکھ درد کا مداوا کرنے لگے تو پھر آگے چل کر ایک دوسرے کے ہاتھوں کو تھام کر ہر مشکل پر قابو پانے کے قابل ہو جائیں گے۔ اگر پاکستان نے افغانستان کو سول، ملٹری اور اقتصادی سہولیات کی مشاورت اور تکنیک فراہم کرنا شروع کر دی تو جو خوشی، خلوص اور چاہت ان دو ملکوں کے عوام کے دلوں میں پیدا ہو گی وہ انہیں ترقی کی طرف لے جائے گی کیونکہ جب افغانستان کے مسلم بھائی اپنے ہم مذہب ملک میں پوری آزادی سے تربیت حاصل کریں گے تو انہیں روحانی سکون بھی حاصل ہو گا۔
افغانستان کاصدر منتخب ہونے کے بعد پاکستان کے ذکر پرجب صدر اشرف غنی کے ہونٹوں پر خود بخود ایک پُراعتماد اور چاہت سے لبریز نرم نرم مسکراہٹ سامنے آنا شروع ہوئی تو نئی دہلی کی دنیا اجڑنا شروع ہو گئی۔ چانکیہ کے چیلے محسوس کرنے لگے کہ اگر آگے بڑھ کر اس تعلق کو مضبوط ہونے سے روکا نہ گیا تو نئی دہلی کا افغانستان میں رکھا گیا '' پہیہ‘‘ الٹا گھوم سکتا ہے۔ جب افغانستان آرمی کے کمانڈر انچیف ہاشم پاکستان ملٹری اکیڈیمی کاکول کی پاسنگ آئوٹ پریڈ میں بطور مہمان خصوصی شریک ہونے کیلئے پاکستان پہنچے تو نئی دہلی تلملا اٹھا اور افغانستان کے آرمی چیف ابھی کاکول کی پریڈ گرائونڈ پہنچنے ہی والے تھے کہ بھارتی را نے جلال آباد کی سب سے مصروف مارکیٹ کے ایک بینک کے سامنے اپنی تنخواہیں وصول کرنے کیلئے آئے ہوئے افغان فوجیوں اور شہریوں کو خود کش حملوں کی زد میں لے لیا‘ جس سے تیس سے زائد افغان مسلمان شہید ہو گئے۔نئی دہلی کی جانب سے کی گئی اس واردات کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کی سرحد سے قریب ترین جلال آباد کے پشتون علاقے میں افغان فوجیوں کو نشانہ بنانے کا الزام طالبان کے سر ڈال کر افغان فوج کے دلوں میں پاکستان کے خلاف غصہ پیدا کیا جائے‘ لیکن افغان حکومت اور اس کے فوجی سربراہ بھارت کی سازش کی تہہ تک پہنچ چکے تھے اس لئے بھارت کا یہ وار ناکام ہو گیا۔
پاکستان اور افغانستان کی پریمیم انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے معاہدے سے نئی دہلی اور افغانستان میں قدم جمائے ہوئے ان کے سیا سی اتحادیوں کو بھی یقین ہونے لگا ہے کہ اب ان کی سیا ست اور شکارگاہوں کے راستے بند ہونے جا رہے ہیں اس لئے ان سب کی دن رات ایک ہی کوشش ہے کہ کسی طرح اس معاہدے کو اس قدر ناکارہ بنا دیا جائے کہ اس کی افا دیت ہی نہ رہے چنانچہ اس وقت افغانستان کی پارلیمنٹ کے وہ اراکین‘ جن کے منشیات کی سمگلنگ سمیت تمام کاروباری مفادات نئی دہلی سے وابستہ ہیں‘ پاک افغان تاریخی معاہدے کو‘ جس سے دونوں ملکوں کے عوام کی خوشحالی اور باہمی مفادات وابستہ ہیں‘ منسوخ کرانے میں نئی دہلی کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں اور حالات و شواہد سے ثابت ہوتا جا رہا ہے کہ لبنان، شام، عراق اور دوسرے مسلم ممالک کے بعد داعش کے نام سے مسلمانوں کو کمزور کرنے والا اسرائیلی لشکر بھارت کی مدد کیلئے افغانستان پہنچ چکا ہے کیونکہ نئی دہلی کیلئے سب سے تکلیف دہ عمل پاکستان اور افغانستان کے درمیان مستقبل میں فوجی تعاون بڑھنے کے امکانات ہیں۔
عالمی برادری کی بہت بڑی اکثریت نے اس پاک افغان معاہدے پر جس خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ وہ اسے سبو تاژ کرنے کی نئی دہلی کی کوششوں کو یہ کہتے ہوئے ناپسند کر رہے ہیں کہ اس سے خطے اور عالمی امن کو پھر سے خطرات لا حق ہوجائیں گے‘ جس کے اثرات پورے یورپ سمیت مشرق وسطیٰ سے مشرق بعید تک محسوس کئے جاتے ہیں۔ دوہا قطر میں طالبان کے ساتھ افغان حکومت کے مذاکرات کی نا کامی کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ افغان عوام ، طالب علموں، دانشوروں کو سوچنا ہو گا کہ پاکستان‘ جہاں ان کے خون کے رشتے ہیں، آپس کی برادریاں ہیں، مذہبی اور لسانی تعلقات ہیں اس پر بھارت اور داعش کو کیسے ترجیح دی جا سکتی ہے؟ جو مسجدوں کو شہید کرتا ہے، گائے کا گوشت کھانے والوں کا سخت دشمن ہے‘ جہاں حرام حلال کی کوئی تمیز نہیں اور جو افغانستان میں صرف اس لئے دلچسپی رکھتا ہے کہ یہاں بیٹھ کر ہمارے ہم مذہب اور ہمسایہ ملک کے خلاف سازشیں کرے، اس کی فوج اور شہریوں پر حملے کرے اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہمارے ہی رشتہ داروں کو اپنی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھائے ۔اس لئے ان سب کو ایک آواز ہو کر حامد کرزئی اور اس کے ٹولے کی سازشوں کو ناکام بناناہو گا کیونکہ یہ وہ نوشتۂ دیوار ہے جس میں صاف اور واضح حروف میں لکھا ہوا ہے کہ ''پاکستان اور افغانستان میں امن اور باہمی گرمجوشی کے تعلقات نہ صرف دونوں ملکوں کے عوام کیلئے بلکہ علا قائی اور عالمی امن کیلئے بھی بنیا دی حیثیت رکھتے ہیں۔ افغان عوام کو کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے سوچنا ہو گا کہ اگر کبھی افغانستان پر کوئی مصیبت آئی یا اس کے عوام پر کوئی برا وقت آیا تو ہمیشہ کی طرح ان کی پناہ گاہ پشاور اور کوئٹہ ہے نہ کہ ہزاروں میل دور واقع نئی دہلی اور ممبئی!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved