تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     21-06-2015

عزت سادات کی قیمت ‘صرف ایک ہار ؟

سوچتا ہوں ہار نام کا زیور پیپلز پارٹی کے لیڈروں کی کیوں کمزوری ہے‘ وہ جس کے لیے کوئی بھی خطرہ مول لینے کو تیار رہتے ہیں۔ پہلے بینظیر بھٹو پر الزام لگا کہ انہوں نے ایک لاکھ اسی ہزار ڈالر کا ہار تحفے میں لیا۔ سابق صدر جناب زرداری نے کچھ ماہ پہلے سوئس حکومت سے کہا‘ وہ ہار جو اس کے قبضے میں ہے واپس کیا جائے کیونکہ وہ اس کے قانونی مالک ہیں۔ ایک سوئس وکیل کو جو ماضی میں حکومت پاکستان کی طرف سے زرداری اور بینظیر کے مقدمات میں پیش ہوتے رہے‘ اس کی بھنک پڑی تو اس نے حکومت پاکستان کو خط لکھا‘ اگر وہ چاہتے ہیں تو وہ اعتراض داخل کر سکتے ہیں‘ یہ ہار زرداری کو نہیں ملے گا۔ اس وقت کے سیکرٹری قانون بیرسٹر ظفراللہ سوئس وکیل کا خط لے کر وزیراعظم نواز شریف کے پاس گئے تو نواز شریف مسکرائے اور کہا‘ بالکل یہ ہار پاکستان کی جائیداد ہے کیونکہ لوٹی ہوئی دولت سے خریدا گیا تھا‘ لہٰذا سوئس وکیل سے کہیں وہ اس ہار پر حکومت پاکستان کا دعویٰ کرے۔ ایک طرف ہار پر ملکیت کا دعویٰ کرنے کا گرین سگنل دیا تو دوسری طرف زرداری کو رائے ونڈ بلا لیا کہ آپ سے سیاسی مشورے کرنے ہیں اور بیس ڈشوں کی تیاری کا حکم دے دیا۔ اسے کہتے ہیں سیاست!
خیر‘ وزیراعظم سے اجازت ملنے کے بعد بیرسٹر ظفراللہ نے سوئس وکیل کو لکھا کہ وہ حکومت پاکستان کی طرف سے اعتراض داخل کر دیں۔ سوئس وکیل کو ڈالروں میں ادائیگی بھی کی گئی۔ جونہی زرداری کیمپ کو پتا چلاث تو انہوں نے خبر چلوادی کہ ان کا ہار سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی انہوں نے وہ ہار سوئس حکومت سے مانگا ہے۔ تاہم اصل معاملے کی تصدیق کے لیے وہ دستاویزات میں نے خود دیکھیں جو وزارت قانون کے پاس موجود ہیں اور حیران ہوا کہ ہم کیسے پکڑے جانے پر مکر جاتے ہیں ۔
فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کی بیگم صہبا مشرف کو بھی سعودی عرب میں ہیروں کا سیٹ، زیور، نیکلس اور سونے کی چوڑیاں تحفے میں ملیں‘ وہ بھی اپنے گھر لے گئیں۔
خیر سے اب ایک نئے ہار کی کہانی سامنے آئی ہے۔ ترکی کی خاتون اول نے دورہ پاکستان کے دوران سیلاب زدگان کی مدد کے لیے اپنے گلے سے ہار اتار کر دے دیا کہ اسے بیچ کر مظلوموں کی مدد کی جائے۔ اس ہار کے بارے میں پتا چلا کہ وہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو پسند آگیا تھا اور وہ انہوں نے دو لاکھ روپے دے کر اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے کہ ترکی کی خاتون اول نے سیلاب زدگان اور مصیبت کے شکار غریبوں کے لیے نقد پیسے دینے کے بجائے وہ ہار ہی کیوں اپنے گلے سے اتار کر دیا؟
ترک خاتون اول کے اس عمل کو سمجھانے کے لیے مجھے ایک واقعہ سنانا پڑے گا جو مجھے میرے ایک کزن نے سنایا جو ان دنوں ترکی میں موجود تھے اور شاید اس واقعہ کے چشم دید گواہ بھی ۔ 2005ء میں جب بڑے پیمانے پر زلزلہ آیا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہوئے تو دنیا بھر میں پاکستان کے لیے عطیات اکٹھے کرنے کا عمل شروع ہو گیا۔ ترکی میں پاکستانی سفارت خانے نے بھی عطیات جمع کرنے شروع کیے۔ جہاں بہت سارے پاکستانیوں نے عطیات دیے وہاں ترک مرد و خواتین بھی سفارت خانے کے سامنے ایک قطار میں لگ کر عطیات دیتے رہے۔ ایک دن ایک خاتون سفارت خانے آئی‘ کافی دیر قطار میں لگنے کے بعد جب اس کی باری آئی تو اس نے کھڑکی پر بیٹھے پاکستانی افسر کے سامنے گلے میں پہنے ہوئے تمام سونے کے زیورات اتارے اور اس کے حوالے کر دیے۔ افسر حیران ہوا تو وہ خاتون بولی‘ یہ میری طرف سے پاکستانی قوم کے لیے عطیہ ہیں۔ افسر بولا: آپ کا جذبہ سر آنکھوں پر لیکن ہم زیورات عطیے میں نہیں لے سکتے۔ اس پر وہ ترک خاتون بولی‘ آپ کو یہ لینے ہوں گے۔ افسر نے کہا‘ آپ انہیں بیچ کر ہمیں پیسے دے دیں جو ہم فنڈ میں جمع کر دیں گے۔ ترک خاتون بولی‘ نہیں آپ کو یہ زیورات ہی لینے ہوں گے۔ آپ انہیں بیچ کر پیسے فنڈ میں جمع کرادیجیے گا۔ افسر کی حیرت دیکھ کر وہ خاتون بولی‘ دراصل ہمیں اپنی درسی کتابوں میں پڑھایا جاتا ہے کہ جب خلافت عثمانیہ کا زوال شروع ہوا اور ترکوں کی حالت بہت خراب ہوئی اور وہ دربدر ہوئے تو اس وقت برصغیر کی مسلمان خواتین نے اپنے زیور ترکی بھیجے تھے۔ عورت ہونے کے ناتے مجھے علم ہے کہ عورت کے لیے اپنے بچوں کے بعد دنیا کی سب سے قیمتی چیز زیور ہوتے ہیں۔ ہم آج تک پاکستانی خواتین کے اس جذبے سے متاثر ہیں۔ انہوں نے ہمارے دکھ کا احساس کیا۔ اپنے قیمتی زیورات تک ہمیں بھجوائے۔ میں بھی چاہتی تو ان زیورات کو بیچ کر آپ کو دوسروں کی طرح نقد پیسے دی سکتی تھی‘ لیکن میں اس لیے اپنے زیورات گلے میں پہن کر آئی ہوں اور یہاں جمع کرانا چاہتی ہوں تاکہ پاکستانیوں کو پتا چلے کہ اگر ہندوستان کی مسلمان خواتین نے مشکل وقت میں ترکوں کے لیے اپنے زیورات اتار کر بھیجے تھے تو آج ترک خواتین بھی اپنے زیور اتار کر اپنے پاکستانی بھائیوں کی مشکل میں مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس خاتون نے یہ کہہ کر گلے میں پہنے تمام زیورات اتارے اور کھڑکی پر چھوڑ کر چلی گئی۔
وزیراعظم گیلانی اور ان کی ٹیم کو سمجھنا چاہیے تھا کہ ترک وزیراعظم کی بیگم کیوں نقدی کی بجائے ایک ہار تحفے میں دے رہی تھیں۔ وہ چاہتیں تو پیسے بھی دے سکتی تھیں۔ ہم یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ ترکی کی خاتون اول نے بھی دوسروں کی طرح اپنے درسی نصاب میں پڑھ رکھا ہوگا کہ کیسے ہندوستان کی مسلمان خواتین نے ترکوں کو اپنے زیورات بھجوائے تھے۔ ترک آج تک پاکستانی قوم کی عزت کرتے ہیں۔ اگر دنیا میں کہیں پاکستانیوں کی تھوڑی بہت عزت کی جاتی ہے تو وہ ترکی ہے۔ اس کا پس منظر یہی ہے۔ ان کی نسلوں کو پڑھایا گیا کہ ہندوستان سے کیسے زیورات بھیجے گئے تھے۔ پاکستان مشکل میں تھا تو ترک وزیراعظم کی بیگم اور خود ترک وزیراعظم نے یہی سوچا ہوگا کہ اس وقت انہیں علامتی طور پر ہار پیش کرنا چاہیے تاکہ پاکستانی اس احساس کو سمجھ سکیں کہ ترکوں کے لیے زیورات کی قربانی صرف ہندوستان کی مسلمان خواتین دینے کا حوصلہ نہیں رکھتی تھیں بلکہ آج کی ترک خواتین بھی اپنے گلے سے زیورات اور ہار اتار کر دے سکتی ہیں۔
خاتون اول کو یہ ہار اپنے گلے سے اتار کر جو دلی مسرت ہوئی ہوگی اس کا اندازہ شاید ہم لوگ نہیں کر سکتے‘ اس لیے کہ اب پیسہ اور بے ایمانی ہمارا کلچر بن گیا ہے۔ ترک خاتون اول کو محسوس ہوا ہوگا کہ اس نے شاید ترک نسلوں پر ہندوستان کی خواتین کا قرض اتار دیا ہے۔ کتنی مطمئن ہوئی ہوں گی۔
ہمیں اگر احساس ہوتا اور ترکوں کے ان جذبات کی قدر کرتے تو ہم اس ہار کو محفوظ کر کے رکھتے اور فخر سے دوسروں کو دکھاتے کہ کیسے ترکی کی خاتون اول نے اپنا قیمتی ہار پاکستانیوں کی محبت میں دیا تھا۔ کوئی میوزیم ہوتا جہاں ایسی چیزیں اپنی آنے والی نسلوں کو دکھاتے اور اپنے بچوں کو بھی اس طرح پڑھاتے جیسے ترکی میں آج تک ہندوستان کی خواتین کی قربانی کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے۔
مجھے ذاتی طور پر دکھ ہے کہ میرا یوسف رضا گیلانی سے اچھا تعلق رہا ہے۔ میں انہیں ایک اچھا انسان سمجھتا ہوں۔ انہوں نے اپنے بیٹے علی حیدر کے اغوا کے بعد بہت تکلیف سہی ہے۔ جتنی مشکلات انہوں نے جیل میں دیکھی تھیں وہ بہت کم لوگوں نے دیکھی ہوںگی۔ خدا نے انہیں مشکلات کے بعد عزت دے کر وزیراعظم
بنایا۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ اس عہدے کی عزت کرتے۔ ایک دو بار انہیں منہ پر کہا کہ کرپشن کی کہانیاں ان کے قد کاٹھ کو کم کریں گی۔ سب کچھ پیسہ نہیں ہوتا ۔ کتنے بڑے بڑے امیر لوگ مرگئے، مٹی میں مٹی ہوگئے، آج انہیں کوئی نہیں جانتا۔ تاریخ بڑی بے رحم چیز ہے‘ یہ کسی کو نہیں بخشتی۔ مرنے کے بعد عزت زندہ رہتی ہے‘ دولت نہیں۔
شاید گیلانی صاحب نے دل میں کہا ہو گا‘ چھوڑیں جی‘ پانچ برس جنرل مشرف کی جیل میں بیٹھ کر کیا ملا؟ بچوں کی فیسوں کے لیے گھڑیاں تک بیچنی پڑگئی تھیں۔ اب موقع ملا ہے تو جو جی چاہتا ہے کر لو۔ وہ بھول گئے کہ جیل میں ہی عزت سے بیٹھ کر انہیں وزیراعظم کا عہدہ ملا تھا۔ ایمانداری کی بات ہے‘ یوسف رضا گیلانی خدا کی طرف سے دی گئی اس عزت کو نہیں سنبھال سکے اور اس عہدے کے ساتھ جڑی توقعات پر بھی پورے نہیں اترے۔
معلوم نہیں کیوں اپنے منہ میاں مٹھو بننے کو جی چاہ رہا ہے۔ مجھے بھی سعودی عرب میں وفد کے ساتھ ایک لاکھ بیس ہزار روپے کی گھڑی تحفے میں ملی تھی۔ اس وقت کے سیکرٹری کابینہ رئوف چوہدری جو آج کل وفاقی محتسب ٹیکس ہیں کے حوالے کر دی کہ توشے خانے میں جمع کرادیں ۔ رئوف چوہدری نے کہا‘ قانون کے تحت آپ سولہ ہزار روپے دے کر ایک لاکھ بیس ہزار روپے کی گھڑی رکھ سکتے ہیں۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا‘ اگر ایسا قانون ہے تو وہ غلط ہے۔ یہ گھڑی ریاست کی ہے، میری نہیں ۔
سید یوسف رضا گیلانی صاحب کو اس سے بڑی مثالیں قائم کرنی چاہیے تھیں ۔ کاش وہ کبھی تاریک اور طویل اندھیری رات میں اس پر سوچ سکیں کہ انسان کی زندگی میں وزیراعظم کے عہدے سے بڑی عزت کیا ہوسکتی ہے؟ بیس کروڑ انسانوں میں سے وزیراعظم بننے کے بعد کیسی دولت ، کیسی لالچ،کیسا بھتہ ، کیسا سوئس اکائونٹ، کیسا محل، کیسے ہار اور کیا قارون کا خزانہ... سب کچھ ہیچ ہے!
چلیں مان لیتے ہیں‘ پاکستان میں وزیراعظم کے عہدے کی قیمت دو تین لاکھ روپے کا ہار ہوسکتی ہے‘لیکن کیا عزت سادات کی قیمت بھی صرف ایک ہار... ؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved