تحریر : افضل رحمٰن تاریخ اشاعت     06-07-2015

انجام

پرور دگار کب کوئی فیصلہ کرتا ہے‘ اس بارے میں کچھ کہنا انسان کے بس کی بات تو نہیں مگر اللہ نے انسان کو جو عقل دے رکھی ہے اس کے تحت انسان اندازے لگانے سے باز نہیں آتا۔ امریکہ میں وہاں کی سپریم کورٹ نے پورے ملک میں ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت دینے کا جو فیصلہ کیا ہے اس پر میرے ایک دوست نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ اب امریکہ کی خیر نہیں۔ موصوف کا استدلال یہ ہے کہ قبل ازیں امریکہ میں ہم جنس پرستوں کو قانونی طور پر شادی کرنے یعنی مرد کو مرد کے ساتھ شادی کرنے اور عورت کو عورت کے ساتھ شادی کرنے کی اجازت کئی ریاستوں تک محدود تھی‘ لہٰذا اس گناہ کے ضمن میں امریکہ پر حجت قائم نہیں ہوتی تھی‘ لیکن اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس اجازت کا اطلاق پورے ملک پر ہو گیا ہے‘ اس لیے ان کے بقول اب حجت قائم ہو چکی ہے۔یہ محض انسانی عقل کا ایک اندازہ ہے۔ غیب کا علم صرف اللہ کی ذات کے پاس ہے۔
میں اسی کے عشرے میں امریکہ میں تھا۔ یہ وہ زمانہ ہے جب ہم جنس پرستی‘ ایڈز کے مرض کے حوالے سے خبروں کا موضوع بنی تھی۔ ہالی وڈ کے ایک معروف فنکار راک ہڈسن کا ذکر اخباروں میں آیا جنہوں نے اپنا ہم جنس پرست ہونا ظاہر کیا تھا۔راک ہڈسن کو ایڈز کی بیماری لاحق تھی اور اتنے خوبصورت اور وجیہ شخص کا اس بیماری نے جو حال کیا وہ ان کے پرستاروں کے لیے ایک المیہ تھا۔ یہ وہ دور تھا جب عام لوگ ایڈز کو ہم جنس پرستی سے جوڑتے تھے؛ تاہم بعدازاں یہ بات غلط ثابت ہوئی۔ اس کے باوجود بھی مجھے یاد ہے کہ اسی کے عشرے میں امریکہ بھر میں ہم جنس پرستی کو عمومی طور پر معیوب سمجھا جاتا تھا۔
اب محض دو تین عشروں بعد کیا حالات ہو گئے ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ کتنی سرعت سے ہم جنس پرستی کا ناسور امریکی معاشرے میں سرایت کر گیا ہے اور اس زور شور سے کہ اب امریکی میڈیا میں کم از کم کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ Gaysاور Lesbiansکے بارے میں کوئی منفی کلمہ ہی کہہ دیا جائے۔
امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے تحت لاس اینجلس میں ولیمز انسٹی ٹیوٹ قائم ہے جو امریکہ بھر میں ہم جنس پرستی کا حساب رکھتی ہے۔ اس انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ میں تین لاکھ نوے ہزار ایسے جوڑے رہ رہے ہیں جن میں مرد نے مرد کے ساتھ اور عورت نے عورت کے ساتھ باقاعدہ شادی کر رکھی ہے۔ یہ لوگ امریکہ کی پچاس میں سے ان چھتیس ریاستوں میں رہتے ہیں جہاں سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہی ہم جنس پرستوں کو باہمی شادی کی اجازت تھی۔ اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بقیہ چودہ ریاستوں میں بھی ہم جنس پرست باہمی طور پر شادی کر سکیں گے۔ ان چودہ ریاستوں میں ولیمز انسٹی ٹیوٹ کے اعداد شمار کے مطابق ستر ہزار ایسے جوڑے موجود ہیں جو باہمی شادی کرنا چاہتے تھے مگر اجازت نہیں ملتی تھی‘ ظاہر ہے کہ یہ تمام اب شادی کے لائسنس حاصل کر لیں گے۔ یہ تو صورتحال ان ہم جنس پرستوں کی ہے جو باقاعدہ شادی شدہ ہیں یا شادی کرنے والے ہیں‘ ان کے علاوہ کافی تعداد ایسے ہم جنس پرستوں کی بھی ہے جو Living Togetherکی کیٹگری میں آتے ہیں۔ گویا مرد مرد کے ساتھ اور عورت عورت کے ساتھ اسی طرح رہ رہے ہیں جس طرح امریکہ میں مرد اور عورت بغیر شادی کیے بطور boy friendاور girl friend کے رہتے ہیں۔
ولیمز انسٹی ٹیوٹ کا اندازہ ہے کہ امریکہ بھر میں دس لاکھ کے قریب ہم جنس پرستوں کے جوڑے اس وقت موجود ہیں۔ یہ وبا جتنی تیزی سے پھیل رہی ہے اس بارے میں کوئی اعداد و شمار موجود نہیں ہیں مگر گزشتہ دو تین عشروں میں بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ امریکہ میں 20 لاکھ نفوس کھلم کھلا ہم جنس پرستی کو قبول کر چکے ہیں۔
امریکہ کی آبادی اس وقت32کروڑ کے قریب ہے۔ 32کروڑ میں 20لاکھ افراد آبادی کا ایک فیصد سے بھی کم ہیں‘ لہٰذا ہم جنس پرست امریکہ میں آبادی کے لحاظ سے انتہائی معمولی تعداد میں ہیں‘ لیکن ان لوگوں کا امریکی معاشرے میں اثر ان کی تعداد کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ اس کی کافی وجوہ ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ مذہب سے دوری کو باور کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں ڈیمو کریٹک پارٹی جو کہ اندازاً آدھے امریکہ کی نمائندہ ہے۔ ہم جنس پرستوں کے جذبات کی انسانی بنیادوں پر قدر کرنے کی دعوے دار ہے اور آزاد خیال لوگوں کی ترجمان بنتی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ کے نو ججوں پر مشتمل فل کورٹ نے ہم جنس 
پرستوں کی شادی کے حق میں جو فیصلہ دیا ہے وہ اکثریتی فیصلہ ہے جس میں پانچ جج اس فیصلے کے حق میں تھے جبکہ چار نے اس کی مخالفت کی تھی۔ جسٹس انتھونی کینیڈی نے اکثریتی ججوں کا یہ فیصلہ تحریر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ جو ہم جنس پرست باہمی طور پر شادی کرنا چاہتے ہیں وہ شادی کے Institutionکو نقصان پہنچانا نہیں چاہتے بلکہ وہ اپنی زندگیاں اس طرح جینا چاہتے ہیں کہ اپنے ہم جنس پرست ساتھی کی یادوں کو خراج عقیدت پیش کر سکیں۔سپریم کورٹ کے جن پانچ ججوں نے ہم جنس پرستوں کی شادی کے حق میں فیصلہ دیا ہے وہ Liberalججز باور کئے جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ان کو سپریم کورٹ میں امریکہ کی ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدور ہی نے نامزد کیا ہو گا۔
بہرحال اس وقت امریکہ میں اس مسئلے پر رائے عامہ کی صورتحال یہ ہے کہ تقریباً ملک کی نصف کے قریب آبادی ان قوانین کے حق میں ہے جو مرد کو مرد سے اور عورت کو عورت سے شادی کی اجازت دیتے ہیں جبکہ آبادی کے ایک تہائی سے کچھ زیادہ لوگ ان قوانین کے مخالف ہیں۔ پیو ریسرچ سنٹر نے جو ہمارے ہاں بھی سروے کرنے میں مصروف ہے‘ مئی2015ء میں سروے کیا جس کے مطابق 57فیصد امریکی ہم جنس پرستوں کی باہمی شادیوں کے حق میں ہیں۔جو لوگ امریکہ میں ان شادیوں کے مخالف ہیں ان میں کافی لوگ تو مذہبی بنیاد پر ہم جنس پرستی کے مخالف ہیں مگر ایسے لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جنس 
پرستوں کی شادیوں کے نتیجے میں مستقبل میں بچوں کی فلاح و بہبود پر بہت برا اثر پڑے گا۔ ان لوگوں کا استدلال ہے کہ مرد اور عورت کی شادی والا جوڑا ہی بچوں کی بہترین پرورش کر سکتا ہے۔ یہ لوگ الزام عائد کرتے ہیں کہ ملک کی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستوں کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے بچوں کی پرورش متاثر ہونے کا خیال نہیں رکھا اور ثابت کیا ہے کہ ان کو بالغ لوگوں کے مفادات زیادہ عزیز ہیں۔
یہ صورتحال ہے امریکہ میں ہم جنس پرستی کی کہ 32کروڑ کی آبادی میں سے اندازاً 20لاکھ افراد کھلم کھلا اس کا شکار ہو چکے ہیں۔ ماحول ایسا بن گیا ہے کہ ہم جنس پرستی کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ امریکہ میں بڑے بڑے نام ہیں جو اعلانیہ ہم جنس پرست ہیں۔ شو بزنس میں بھی یہ لوگ کافی تعداد میں موجود ہیں۔ان حالات میں امریکہ کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہمارے جس دوست نے اندازہ لگایا ہے کہ اب امریکہ پر حجت قائم ہو چکی ہے اور اب ان کے بقول اللہ ان کی رسی مزید دراز نہیں کرے گا‘ وہ اس بات پر بہت خوش ہیں کہ زمبابوے کے صدر رابرٹ مگابے نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکہ کی مذمت کرتے ہوئے غصے میں آ کر امریکی صدر اوباما سے امریکی قانون کے مطابق شادی کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا ہے۔
یہودیت ہو‘ عیسائیت ہو یا اسلام ہو ان تینوں اہم ترین مذاہب میں ہم جنس پرستی کی یکسر کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن مغربی ممالک جو کہ اپنے آپ کو Judeo Christionتہذیب کے وارث کہتے ہیں‘ ہم جنس پرستی کی حوصلہ افزائی پر تلے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کا کیا انجام ہو گا اور کب ہو گا یہ تو دنیا بنانے والے کو معلوم ہے لیکن جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ انجام اچھا نہیں ہو گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved