تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     07-07-2015

وقت کتنا بدل گیا؟

سپریم کورٹ بارہا حکومت کو این جی اوز کی طرف متوجہ کر رہی ہے لیکن ابھی تک اس کے کان پر جُوں تک نہیں رینگی۔ہمارے پڑوس میں کسی بھی غیر ملکی این جی او کو وہ آزادی حاصل نہیں‘ جو پاکستان میں ہے۔پاکستان میں عوامی حلقے بار بار مطالبہ کر رہے ہیں کہ غیر ملکی این جی اوز کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر‘ ان کے دائرہ کار کا تعین کیا جائے اور جن کی سرگرمیاں قومی مفادات کے منافی ہوں‘ ان پر پابندی عائد کی جائے۔بھارت اب تک بے شمار این جی اوز پر پابندی لگا چکا ہے۔ بھارت جن این جی اوز کو اپنے دفاتر کھولنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیتا ہے‘ وہ پاکستان میں آکر اپنا ہیڈ کوارٹر قائم کر لیتی ہیں اور جن اعتراضات کی بنا پر‘بھارت انہیں قبول نہیں کرتا‘پاکستان میں دفتر کھول کر وہ انہی سرگرمیوں کا آغاز کر دیتی ہیں۔ اس کی ایک مثال ناروے سے فنڈز لینے والی ایک این جی او ہے۔بھارت میں جب اسی این جی او نے کام شروع کرنے کی اجازت مانگی تو تحقیقات کے بعد‘ یہ بات بھارتی حکومت کے علم میں آئی کہ ناروے سے آنے والے فنڈز‘ اصل میں امریکی ہیں اور جہاں براہ راست امریکی سرمائے پر چلنے والی این جی او کو اجازت دینے سے انکار کیا جاتا ہے‘ وہاں دوسرے ملکوں کے ذریعے‘ امریکہ کو کام کرنے کا راستہ مہیا کر دیا جاتا ہے۔ایک غیر ملکی این جی او کا پس منظر بتاتے ہوئے سینئر بھارتی صحافی‘ کلدیپ نائر نے مجھے بتایا تھا کہ آپ کے ہاں‘ جو این جی او ہمہ گیر سرگرمیاں کر رہی ہے‘بھارت نے اسے اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔وہاں سے مایوس ہو کر‘ ناروے کے نمائندوں نے ایک ایسے پاکستانی صحافی کی خدمات حاصل کیں‘ جسے پاکستانی میڈیا میں خاطر خواہ پذیرائی حاصل نہیں تھی۔ اس این جی او کا موضوع سارک ممالک تھے خصوصاً پاکستان اور بھارت‘ اس کے مرکزی اہداف تھے۔فنڈز کی اتنی فراوانی ہوئی کہ مختلف صحافیوں کو بھاری معاوضوں پر ملازمتیں دے دی گئیں۔
شروع میں تو اس این جی او نے ڈرتے ڈرتے قدم آگے بڑھایا مگر اس نے دیکھا کہ پاکستان کے ارباب اقتدار نے‘ جو شہرت کے بھوکے ہوتے ہیں‘ اس این جی او کی سرپرستی شروع کر دی ہے۔جنرل پرویز مشرف کوآزاد میڈیا میں کوریج نہیں ملتی تھی۔میڈیا کے اصل فنانسروں نے امریکی ذرائع سے ‘جنرل مشرف کو اس این جی او کی سرپرستی کے لئے کہا اور مشرف ان دنوں سیاست میں داخل ہونے کی تیاریاں کر رہے تھے۔انہیں میڈیا میں اپنے لئے لابی درکار تھی۔ان کی طرف سے‘ اس این جی او کی سرپرستی شروع کر دی گئی۔مشرف یا اس این جی او کے امریکی سرپرستوں کی ایما پر‘اس این جی او کاسربراہ‘بھارت کی طرف متوجہ ہوا۔ چونکہ وہ خود صحافی رہ چکا تھا اور اپنی اسی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ‘بھارتی میڈیا میںاثر و رسوخ پیدا کرنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں کے حکام‘حکومتی عہدیداروں سے تعلقات بنانے میں کامیاب ہو گیا۔ ترقی پذیر ملکوں کے حکمران ہمیشہ میڈیا کو اپنا حامی دیکھنا چاہتے ہیں۔وہ براہ راست اس پر اپنا کنٹرول تو قائم نہیں کر سکتے لیکن جہاں انہیں کسی غیر سرکاری تنظیم کی خدمات دستیاب ہوتی ہیں‘ وہ اس کی سرپرستی شروع کر دیتے ہیں۔ بھارتی حکمرانوں کو اچھی طرح علم ہے کہ اس این جی او کا پس منظر کیا ہے؟ لیکن وہ اپنے مقاصد کے تحت‘ اس کی سرپرستی کرتے ہیں اور اس این جی او کا فائدہ اٹھا کر‘ پاکستان میں اپنی لابی بناتے ہیں۔گویا پیسہ امریکہ کا اور کام بھارت کے۔یہ بھی خیال کیا جا سکتا ہے کہ بھارت اور امریکہ ‘ برصغیر میں ملتے جلتے سیاسی مقاصد رکھتے ہیں۔ا س لئے انہوں نے خود اس این جی اوکو بھارت میں اپنا مرکزی دفتر قائم کرنے کی اجازت نہیں دی لیکن ایک پاکستانی این جی او کی حیثیت سے اسے کھلی سرگرمیوں کی سہولتیں مہیا کر دیں۔
بھارت پاکستانی صحافیوں کو ویزے دینے میں سخت پالیسی رکھتا تھا لیکن جب سے یہ این جی او وجود میں آئی‘ یہ ایک طرح سے بھارتی سفارت خانے کی مددگار بن گئی۔اس این جی او کی مدد سے‘ایسے پاکستانی صحافیوں کو بھی بھارت کے ویزے ملنے لگے‘جنہیں بھارتی سفارت خانے میں ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا۔شروع میں بھارتی اسٹبلشمنٹ سے قریبی تعلق رکھنے والے نامور بھارتی صحافی بھی اس کی تقریبات میں حصہ لیتے رہے لیکن جیسے جیسے انہیں حقائق کا علم ہوتا گیا‘ وہ کنارہ کشی اختیار کرتے گئے۔ یہی صورت حال پاکستان میں ہے لیکن اس این جی اونے پاکستان کے ارباب اقتدار کی قربت حاصل کر لی‘ جس کے نتیجے میں اسے کھل کھیلنے کا موقع مل گیا۔جتنے بھارتی صحافی اس این جی او کے لئے کام کرتے ہیں‘ ان کی اکثریت باقاعدہ اپنی حکومت کی ہدایات کے تحت‘ کام کرتی ہے اور جو سینئر صحافی شروع میں اس کی تقریبات میں شرکت کرتے تھے‘ وہ اب الگ ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ یہی صورت حال پاکستان میں ہے۔ خصوصاً جانی پہچانی بھارتی لابی کے لوگ تو باقاعدہ اس این جی او کے کارکن بنے ہوئے ہیں۔جب سے پاکستان میں پرائیویٹ میڈیا چینلز کی نشریات شروع ہوئی ہیں‘ اس این جی او کو وسیع ذمہ داریاں مل گئی ہیں۔ ہوسکتا ہے فنڈز میں بھی اضافہ ہو گیا ہو کیونکہ اس این جی او نے نجی چینلز میں کام کرنے والے‘ بعض صحافیوں کو خفیہ طور سے باقاعدہ تنخواہ دار ملازم رکھ لیا ہے۔اب وہ صحافی دو جگہ سے تنخواہیں لے کر‘ خوش حال زندگی گزارنے لگے ہیں۔ وہ جو سیاسی لائن دیتے ہیں‘ اس کے لئے انہیں براستہ ناروے‘ ہدایات ملتی ہیں اور پاکستانی میڈیا اسی لائن پر چلنا شروع کر دیتا ہے۔اس این جی او نے پاکستانی میڈیا میں ایک بہت بڑا نیٹ ورک تیار کر کے‘ اپنے آقائوں کا کام آسان کر دیا ہے۔
اس قسم کی این جی او ز کوپاکستان میں حسابات ٹھیک رکھنے میں ہر طرح کی سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں۔بہت سی آڈٹ فرمیں ‘جو امریکی اور اس کے اتحادیوں کی کمپنیوں کے لئے کام کرتی ہیں‘ خاص این جی اوز کے لئے بطور خاص آڈٹ رپورٹیں تیار کرتی ہیں۔ان آڈٹ کمپنیوں کی ہدایات کے مطابق‘ فنڈز آتے ہیں۔ اخراجات کا حساب کتاب مقامی قوانین کے تحت رکھا جاتا ہے لیکن جس مقصد کے لئے فنڈز مہیا کئے جاتے ہیں‘ ان کے لئے رقوم کی فراہمی کے متعدد راستے نکالے جاتے ہیں۔ مثلاً ایک این جی او کے بارے میں مجھے معلوم ہوا کہ ڈونراپنے خصوصی مقاصد کے تحت‘ این جی او کے اکائونٹ میں منتقل ہونے والی رقم کے ایک بڑے حصے کے نام پر بھاری رقوم کے خالی چیک پر این جی او کے مجاز ملازمین سے دستخط کرا لیتے ہیں اور وہ رقوم امریکی خفیہ ایجنسیوں کے کارندے وصول کر کے اپنی پیشہ وارانہ ضروریات پوری کرتے ہیں۔مجھے بعض باخبر لوگوں نے بتایا ہے کہ این جی اوز کے نام پر‘پاکستان میں بھاری رقوم خفیہ مقاصد کے لئے استعمال کی جاتی ہیں ۔ اگر حکومت ان کا سراغ لگانا چاہے تو اسے قانون میں رہ کر‘ انتہائی احتیاط سے تیار کیا گیا ریکارڈ دکھا دیا جاتا ہے اور بیرونی فنڈنگ کا پتہ چلانا ممکن نہیں رہتا خصوصاً امریکہ سے براہ راست آنے والی رقوم پر جب سے کڑی نظر رکھی جا رہی ہے‘فنڈز ‘خفیہ طریقوں سے ''ضروری ‘‘اخراجات کے لئے این جی اوز کے ذرائع سے پہنچائے جاتے ہیں اور یہ کام اتنے بڑے پیمانے پر ہور ہاہے کہ ملک کے کونے کونے میں مختلف این جی او کے ذرائع سے لائی ہوئی رقوم‘جہاں امریکہ چاہتا ہے‘وہاں پہنچا دی جاتی ہیں۔ امریکہ کی این جی اوز کے ذریعے زیادہ توجہ میڈیا‘تعلیم اور سماجی رابطوں پر صرف کی جاتی ہیں۔عرصہ ہوا میں نے ایک کتاب پڑھی تھی‘ جس میں سی آئی اے کے ایک سابق خفیہ ایجنٹ نے بتایا تھا کہ جب ہم نے شروع شروع میں نوآزاد ملکوں کے اندر‘ اپنے لئے ایجنٹ رکھنا شروع کئے تو ہم بہت ڈرڈر کے کام کرتے تھے اور ہمارے لئے کام کرنے والے خود بھی خوفزدہ رہتے تھے لیکن ساٹھ کے عشرے میں خوف کی یہ فضا ختم ہو چکی تھی اور حالت یہ ہو گئی تھی کہ اعلیٰ درجے کے سرکاری افسر اور حکومت کے وزیر‘ براہ راست ہمارے پاس آدھمکتے تھے اور بلاتکلف پیش کش کرتے تھے کہ ہم آپ کے لئے کوئی بھی خدمت انجام دینے کو تیار ہیں۔پہلے ہمیں ایجنٹ ڈھونڈنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اب یہ حال ہو گیا ہے کہ ایجنٹ خودہمارے دفتروں میں آکر ‘اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔اس وقت میں کتاب کا یہ باب پڑھ کر‘بہت بڑے راز کو جان لینے کے زعم میں مبتلا ہو گیا تھا۔ آج تو جو جتنی بڑی کرسی پر بیٹھا ہے‘ وہ کسی نہ کسی انداز میں انہی طاقتوں کا خیر خواہ ہے‘ جو کسی زمانے میں اپنے لئے ایجنٹ ڈھونڈا کرتی تھیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved