تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     11-07-2015

ایک اور بے معنی ملاقات

پاک بھارت معاملات کو دیکھنے والے بیشتر ماہرین نے دونوں کے باہمی رابطوں کا ایک سانچہ بنا رکھا ہے اور وہ ان کے ہر سطح کے مذاکرات پر ایک ہی بات سوچتے ہیں کہ بات چیت کا موضوع مسئلہ کشمیر ہو گا۔ اس کے بعد اپنے اپنے خیالوں کی پتنگیں اڑاتے ہیں‘ پیچ لڑاتے ہیں‘ کنی مارتے ہیں اور پھر آخراپنی ڈور لپیٹ کے بغل میں دبا کر اپنی اپنی رہائش گاہوں کی طرف رخ کر لیتے ہیں۔ اب تو یہ سوچ لیا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم‘ وزرا یا وزارت خارجہ کے افسران جب بھی ملیں گے‘ کشمیر پر بات کریں گے۔ کوئی نتیجہ نکالے بغیر ملاقات ختم کر کے‘ کسی اگلی ملاقات کی امید میں اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں گے۔ اس بار بھی روس کے شہر اوفا میں ہونے والی کانفرنس کے دوران بھارتی وزیراعظم نے خصوصی فرمائش کر کے پاکستانی وزیراعظم سے آدھ گھنٹے کی ملاقات مانگی‘ جو ایک گھنٹے کے قریب جاری رہی۔ دونوں ملکوں کے باہمی معاملات کو جاننے والے اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ کشمیر کے تنازعے پر جو بھی اعلیٰ سطحی ملاقات ہو گی‘ اس میں ادھرادھر کی باتوں میں وقت نکل جائے تو اور بات ہے‘ ورنہ کشمیر پر ہونے والی گفتگو دو تین منٹ سے زیادہ وقت نہیں لیتی کیونکہ دونوں کے موقف بے لچک ہیں۔ دونوں نے ایک دوسرے سے بہت کچھ کہہ رکھا ہے‘ دونوں تین جنگیں لڑ چکے ہیں‘ دونوں نے اپنے عالمی تعلقات کی بنیاد پر سفارتی زور لگا رکھے ہیں‘ دونوں نے دہشت گردی کا سہارا لے کر ایک دوسرے کے حوصلوں کو پست کرنے کے حربے استعمال کر رکھے ہیں اور اب بھی جس کا دائو لگ جائے‘ کر گزرتا ہے اور کونسی نئی بات ہے جویہ دونوں کشمیر کے معاملے پر کریں گے؟ روس کے شہر اوفا میں کشمیر کے سوال پر ان دونوں کے باہمی مذاکرات کا موقع محل ہی نہیں تھا‘ نہ ہی ایسی کوئی ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی ہے‘ جس میں پاکستان اور بھارت کے دیرینہ تنازعے کا حل ڈھونڈنے کے لئے ان سارے ملکوں کے سربراہ اوفا کانفرنس میں شرکت کے لئے خصوصی پروگرام بنا کر آتے۔ میرے نزدیک اوفا کانفرنس نہ تو کشمیر کے موضوع پر تھی اور نہ ہی پاک بھارت تنازعے کے حل کی خاطر لگایا گیا میلہ تھا۔ یہ اور ہی بات پر تھی۔یہ اور ہی بات کیا ہے؟ 
پہلے کانفرنس کے شرکاء کی فہرست دیکھیں۔ اس میں روس ہے‘ بھارت ہے‘ افغانستان ہے‘ چین ہے اور بالواسطہ امریکہ بھی ہے۔ یہ سب کے سب اس وقت افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ یہ ملک خانہ جنگی کی صورتحال میں پھنسا ہوا ہے اور اس کی خانہ جنگی کے اثرات سے وسطی ایشیا‘ چین ‘ پاکستان ‘ روس ‘ بھارت‘ غرض اردگرد کے سارے ممالک دہشت گردوں کی شرپسندی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ کوئی کم‘ کوئی زیادہ۔اس خانہ جنگی کے سارے فریق آپس میں مذاکرات کے لئے بے شمار کوششیں کر چکے ہیں‘ لیکن کسی میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ کبھی کوئی فریق بات چیت سے انکار کر دیتا اور کبھی دوسرا فریق ایک ساتھ بیٹھنے سے منع کر دیتا۔ ان سے مذاکرات کے لئے ہر متعلقہ اور متاثرہ ملک نے اپنے طور پر بھی بھرپور کوششیں کیں اور دوسروں کی مدد سے بھی‘ لیکن مذاکرات کا اہتمام نہیں کر پائے۔ قطر کے واقعہ کے بعد بہت دنوں تک خاموشی رہی ‘ تو مایوسی کا ماحول پیدا ہونے لگا۔ وقفے کے بعد اچانک خبر آئی کہ پاکستان میں طالبان اورافغانستان کے مابین ایک ملاقات ہوئی ہے۔ بعد میں تفصیل آئی کہ میزبانی کے فرائض پاکستان نے انجام دیئے تھے۔ مذاکرات بڑے اچھے ماحول میں ہوئے‘ جو رات گئے تک جاری رہے۔ سحری بھی سب نے اکٹھے کی۔ اگلے روز خبر آ گئی کہ یہ مذاکرات نہ صرف کامیاب رہے بلکہ فیصلہ کیا گیا کہ انہیں جاری بھی رکھا جائے گا۔ 
اب ہم پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی ملاقات کی طرف آتے ہیں۔ ہمارے ہاں سارے تبصرے اسی موضوع پر ہوئے‘ جیسے یہ پاکستان اور بھارت کے مذاکرات ہوں۔ آیئے! ان مذاکرات کے اندر جا کر دیکھتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم 53منٹ کی میٹنگ میں جو مشترکہ اعلامیہ تیار کر کے لائے ‘ اس میں پاکستان اور بھارت کے باہمی معاملات کا کوئی ذکر نہیں۔ دہشت گردی ایک عام مسئلہ ہے۔ بھارتی وزیراعظم کو سارک کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان آنے کی دعوت دی گئی۔ واضح رہے‘ سارک کانفرنس‘ سارک ملکوں کی ایک علاقائی تنظیم ہے‘ جس کے کسی اجلاس میں دونوں ممالک کاباہمی تنازعہ زیربحث نہیں آ سکتا۔ اقتصادی راہداری کے منصوبے پر بات ہوئی‘ تو دونوں وزرائے اعظم نے اپنے اپنے موقف کو دہرا دیا۔ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی اس علیحدہ ملاقات کے چرچے بہت ہوئے۔ سارے تبصرے دو طرفہ مسائل اور تعلقات کے حوالے سے کئے گئے‘ کسی نے اس طرف توجہ نہیں دی کہ اس کانفرنس کا اصل مسئلہ کیا تھا؟ اس کا اہتمام کس لئے کیا گیا؟ جیسا کہ میں نے پہلے ہی یاد دلایا کہ شنگھائی تنظیم کے اس اجلاس کے شرکا سب کے سب جغرافیائی طور پر افغانستان کے پڑوسی ہیں اور جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ دنیا کے ہر ملک کا پڑوسی ہے‘ خصوصاً افغانستان کے مسئلے سے اس کی دلچسپی ہی نہیں وہ ایک فریق بھی ہے۔ بے شک وہ شنگھائی تنظیم کا 
حصہ نہیں‘ لیکن شنگھائی تنظیم کے حالیہ اجلاس میں جو موضوع بنیادی طور پر زیربحث ہے‘ وہ افغانستان کا ہی ہے۔ یہ ملک ایک بار پھر خانہ جنگی کی طرف بڑھتا نظر آ رہا ہے۔شرق اوسط کی بھڑکتی ہوئی بھٹی میں اگر افغانستان سے بہنے والا لاوا بھی داخل ہو گیا‘ تو پھر یوں سمجھ لیں کہ دنیا کی اقتصادی شہ رگ کوجنگ کے شعلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ صورتحال کسی کے لئے بھی قابل قبول نہیں۔ روس جو ابھی تک جنگ کے اثرات برداشت کر رہا تھا‘ اب خانہ جنگی مزید بھڑکی‘ تو وسطی ایشیا کے قریباً سارے ہی ملکوں میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھیں گے‘ جو روسی ریاستوں تک بھی پھیلیں گے۔ چیچنیا پہلے بھی دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ چین خود ان دہشت گردوں کا نشانہ بنا ہوا ہے اور اس کے اندر کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کی کمین گاہیں افغانستان میں ہیں۔ پاکستان نے اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کا صفایا کرنا شروع کر رکھا ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ بہت جلد پاکستان کی سرزمین دہشت گردوں سے پاک ہو جائے گی۔ شرق اوسط میں جو آگ بری طرح سے پھیلتی جا رہی ہے‘ وہاں امریکیوں کے گہرے مفادات ہیں۔ افغانستان میں آگ بھڑکی‘ تو شرق اوسط کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور ایران کے ساتھ معاہدے کے لئے امریکہ کے جو مذاکرات چل رہے ہیں‘ وہ ادھورے رہ جائیں گے اور جنگ کا دائرہ وسطی ایشیا سے ہوتا ہوا شرق اوسط اور جنوبی ایشیا تک پھیل جائے گا۔ جنوبی ایشیا میں بھارت سب سے بڑا ملک ہے اور دہشت گردی کی جڑیں خطے میں ہر طرف پھیلی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے والے بیرونی دہشت گردوں کا صرف پاکستان ہی میں رابطہ نہیں بلکہ وہ مشرق و مغرب‘ ہر طرف سے یلغار کریں گے اور بھارت تو ان میں سے ہر ایک کے نشانے پر ہو گا۔جنوبی بھارت کی سرحدیں مختلف نسلی گروہوں کی کارروائیوں کی لپیٹ میں ہیں۔ افغانستان اور وسطی ایشیا سے داخل ہونے والے دہشت گردوں نے ‘مقبوضہ کشمیر تک رسائی حاصل کر لی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں تربیت یافتہ نوجوان وطن کی آزادی کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں اور انہیں کوئی غیرمقامی جنگجو نہیں کہہ سکتا۔ وہ اسی سرزمین کے بیٹے ہیں اور ان کا حق آزادی ساری دنیا نے تسلیم کر رکھا ہے۔اگر آپ شنگھائی تنظیم کے حالیہ اجلاس کے اغراض و مقاصد کا جائزہ لیں‘ تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ یہ صرف پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کو ملانے کا بہانہ نہیں تھا۔ اس کی غرض و غایت اور تھی۔موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں ملکوں کے دوستوں نے ان کے وزرائے اعظم کو یکجا کرنے کی گنجائش بھی نکال لی۔ مگر سب کو معلوم تھا کہ ان کی ملاقات کا دوطرفہ مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔ میل ملاپ کا بہانہ البتہ ضرور میسر آ جائے گا‘مگر سب کو یقین تھا کہ ان کے دیرینہ اور پیچیدہ مسائل پر بات نہیں ہو گی۔ ان کے باہمی مسائل موجودہ سٹیٹس کو کی توڑ پھوڑ کئے بغیر حل نہیں ہو سکیں گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved