تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     30-07-2015

سرخیاں‘ متن‘ ٹوٹا اور کیپٹن عطا محمد خاں

جو افسر کام کرے گا وہی پنجاب 
میں رہے گا... شہبازشریف 
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ ''جو افسر کام کرے گا وہی پنجاب میں رہے گا‘‘ جیسا کہ ہم دن رات کام کر رہے ہیں اور کافی عرصہ شورو غل مچانے کے بعد ہر کوئی اسی نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ اس کے علاوہ اور کوئی کام ہے ہی نہیں کہ ملک کے اندر اور بیرونی بینکوں میں اسی کام کا ڈنکا بج رہا ہے جبکہ افسروں کا کام صرف ہماری ہاں میں ہاں ملانا ہے اور جو یہ کام نہیں کرتا اسے مکھن میں سے بال اور دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال باہر کیا جاتا ہے تاکہ دوسرے بھی اس سے سبق حاصل کریں اور اپنی مرضی کے تبادلے اور ترقیاں حاصل کرتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''تمام سیکرٹری فیلڈ میں جایا کریں‘‘ اور کوشش کریں کہ ویگن پر جایا کریں جس سے شہرت بھی حاصل ہوتی ہے اور عوامی خدمتگار ہونے کا تصور بھی واضح ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''فائلوں کے پیٹ کاغذات سے بھرے ہوئے ہیں اور ہسپتال خالی پڑے ہیں‘‘ چنانچہ افسروں کو فائلوں کے ساتھ ساتھ اپنا پیٹ بھرنے کے علاوہ کام بھی کرنا چاہیے اگرچہ پیٹ بھر جائے تو کام کرنے کی بجائے آرام کرنے اور سستانے کو جی چاہتا ہے لیکن انہیں بھی ہماری طرح کوئی اچھی سی پھکی استعمال کرنی چاہیے جو بسیار خوری کا صحیح علاج ہے۔ آپ اگلے روز سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران خطاب کر رہے تھے۔ 
کوئی غلط فہمی میں نہ رہے‘ انقلاب کے لیے مکمل فٹ ہوں... طاہر القادری 
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ ''کوئی غلط فہمی میں نہ رہے‘ انقلاب کے لیے مکمل فٹ ہوں‘‘ البتہ ابھی انقلاب میرے لیے فٹ ثابت نہیں ہو رہا اگرچہ میرے فٹ ہونے میں کوئی شبہ نہیں؛ تاہم اگر ان فٹ ہو گیا تو دوبارہ واپس چلا جائوں گا اور باہر بیٹھ کر انقلاب کو فٹ کرنے کی کوشش کروں گا اور اگر حکومت نے اس دوران مجھے فٹ کرنے کی کوشش کی تو اللہ کا نام لے کر حسب سابق ایک بار پھر فٹ ہو کر باہر سدھار جائوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ''موجودہ حکمرانوں کے ہوتے ہوئے انصاف نہیں مل سکتا‘‘ اس لیے ان کے جانے کا انتظار کرنا پڑے گا اور اس دفعہ عمران خان بھی میرے ساتھ ہوں گے بلکہ ہو سکتا ہے کہ دونوں پارٹیاں اکٹھی کر کے ہم اس کا نام ''پاکستان انتظار پارٹی‘‘ رکھ دیں۔ ویسے بھی‘ وہ مزہ وصل میں کہاں جو انتظار میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''دھرنا ختم کرنے کے لیے کوئی ڈیل نہیں کی‘‘ بلکہ معاملہ مختصر بات چیت کے بعد کسی ڈیل کے بغیر ہی حل ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ''جب چاہیں گے پھر دھرنا دیں گے‘‘ اس لیے حکومت کو اپنی مذاکراتی ٹیم کو تیار رکھنا چاہیے تاکہ افہام و تفہیم کا یہ سلسلہ حسبِ دستور جاری رہے اور خاکسار سمیت حکومت کا کام بھی چلتا رہے۔ انہوں نے کہا کہ ''اس نظام کو ٹھکراتے ہیں‘‘ اور ہماری اس ٹھکراہٹ پر اسے خود ہی کسی طرف کو منہ کر جانا چاہیے۔ آپ اگلے روز اپنی رہائشگاہ پر کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے۔ 
سادگی! 
ایک اطلاع کے مطابق سعودی عرب میں وزیراعظم کی نواسی کے نکاح کے موقع پر حق مہر کی رقم صرف 32 روپے رکھی گئی جس سے ان مخالفین کا منہ بند ہوجانا چاہیے جو صاحبِ موصوف کی ملک کے اندر اور 
باہر دولت کا حساب لگاتے نہیں تھکتے کیونکہ اگر ان کے پاس واقعی اتنی دولت ہو تو وہ ایسی سادگی اور غریب طبعی کا مظاہرہ کیسے کر سکتے تھے۔ نیز اس خبر کو چار چاند لگانے کے لیے یہ خبر کافی ہونی چاہیے جس کے مطابق ان کے برادرِ خورد اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے حال ہی میں ویگن پر سفر کیا ہے اور غالباً مہنگی اور پُرتعیش گاڑیوں کا استعمال ختم کر دیا ہے۔ اس لیے کرپشن اور میگاکرپشن کے الزامات لگانے والوں کو سخت شرمندہ ہونے کی ضرورت ہے ورنہ کوئی اور مالدار آدمی ویگن میں سفر کر کے تو دکھائے بلکہ موصوف تو ایک بار ویگن سے بھی زیادہ عوامی سواری یعنی رکشے پر بھی سفر کر چکے ہیں لہٰذا ان ہر دو حضرات کی درویشی اور بدحالی کا اندازہ لگانے کے لیے آخر اور کس ثبوت کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ ع ایں کار از تو آید و مرداں چُنیں کُنند 
کیپٹن عطا محمد خاں 
جی او آر تھری میں کیپٹن صاحب ہمارے ہمسائے ہیں اور میرے فی الحال ماڈل ٹائون میں قیام کے باوجود حقِ ہمسائیگی کے اعتراف میں انہوں نے اپنا جو تازہ کلام عنایت کیا ہے‘ اس کے کچھ نمونے آپ کی تفننِ طبع کے لیے حاضر کر رہا ہوں: 
تُو آسماں پہ ابھی اور مت ستارے بنا 
زمین پر ہیں بہت ماہتاب ٹوٹے ہوئے 
مرا سوال تھا اس کی وفا کے بارے میں 
وہ دے رہا تھا مسلسل جواب ٹوٹے ہوئے 
وہ جو ایک ندی تھا‘ اس کو پیاس لگ گئی 
اس نے اک سوال کے سب جواب رکھ لیے 
ریت بھر کے آنکھ میں پیاس کا سفر کیا 
دھوپ تھر میں ڈھل گئی‘ سب سراب رکھ لیے 
نقش بنتے ہیں سرِآب مٹے جاتے ہیں 
لوگ آتے ہیں ٹھہرتے ہیں چلے جاتے ہیں 
اے جنوں دیکھ ہمیں ریت پہ ان پیروں سے 
رقص کرتے ہیں ترا نام لکھے جاتے ہیں 
خشک سالی کی ہوا تیز ہوئی جاتی ہے 
ہنس تالاب سے مانوس ہوئے جاتے ہیں 
کرنے پڑتے ہیں کئی کام ترے آنے پر 
اور کچھ کام ترے بعد کیے جاتے ہیں 
میں تو دور افق میں آنکھیں گاڑے ہوئے چلتا جاتا ہوں 
لیکن میرے پائوں کے نیچے سارا راستہ ٹھہر گیا ہے 
یہ روایت بھی چلی ہے مجھ سے 
یہ فریضہ بھی ادا مجھ سے ہوا 
آج کا مقطع 
بولا ہے ظفرؔ جھوٹ ہی لوگوں سے کچھ اتنا 
اب آئے گی کیا بات میں تاثیر ہماری 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved