تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     16-08-2015

بے وقت کی راگنی

رات کے وقت ایک جنگل میں 
چند الّو اداس بیٹھے تھے 
ایک بولا کہ رات لمبی ہے 
دوسرے نے کہا کہ چھوٹی ہے 
تیسرے نے کہا کہ چھوڑو بھی 
رات لمبی ہو‘ یا کہ چھوٹی ہو 
صبح صادق ضرور آئے گی 
ہم کو اندھا ضرور ہونا ہے 
خواب و خیال اور خواہشات کی دنیا آدمی بساتا ہے لیکن پھر حقائق کا سورج طلوع ہو کر نصف النہار تک پہنچتا ہے تو سچائی کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ زندگی آدمی سے آہنگ پیدا نہیں کرتی۔ آدمی کو زندگی سے ہم آہنگ ہونا پڑتا ہے۔ جانور اپنی جبلّتوں میں جیتے ہیں لیکن اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرتے۔ آدمی جبلّت سے مغلوب ہوتا ہے تو وحشت اس پر سوار ہو جاتی ہے۔ اس عظیم الشان کائنات میں، خالق نے جسے تنوع میں پیدا کیا، طاقت کے نشے میں سرمست جو کوئی من مانی کی آرزو پالتا ہے، آخر تھک کے گر پڑتا ہے۔ گزشتہ صدی کے چوتھے عشرے میں، ایشیا جب آزادی کے لیے کسمسا رہا تھا، اقبالؔ نے یہ کہا تھا ؎
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے 
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہو گا
کیسا عجیب منظر ہے کہ بچگانہ انداز میں افواجِ پاکستان کا مذاق اڑانے والے وفاقی وزراء پرویز رشید اور خواجہ آصف آج اس کے سب سے بڑے وکیل ہیں۔ مشاہداللہ خان کو مستعفی ہونا تھا۔ وہ جذبات سے مغلوب ایک آدمی ہیں۔ خود پسند اور دھڑے باز، ایک بے سمت میزائل۔ دوسروں کو پامال کرنے کے آرزومند آخرکار خود ہی اپنا نشانہ ہو گئے۔ جو کہانی انہوں نے بیان کی اور بعد ازاں جس سے مکرنے کی کوشش کرتے رہے، وہ یکسر غلط نہیں مگر یکطرفہ، یک رخی، ادھوری اور سطحی ہے۔ ثانیاً، اس وقت جب فوجی اور سول قیادت باہمی تعاون میں اپنی اور ملک کی بقا اور فروغ دیکھتی ہے، بے وقت کی راگنی انہوں نے چھیڑی، بے تکے اور بھدّے انداز میں۔ سیاست اعلیٰ مقاصد سے وابستگی ہے، حکمت ہے، خدمتِ خلق اور ریاضت ہے۔ سرکارؐ نے فرمایا: بنی اسرائیل کے انبیا ؑ سیاست کیا کرتے تھے۔ اس اعتبار سے کارِ حکمرانی پیغمبرانہ فضیلت کا کام ہے۔ ایثار اگر کارفرما رہے اور نظر مقصد پر ہو۔ کاروبارِ حکومت میں احتیاط اور سلیقہ مندی سب سے بڑی شرط ہے۔ ہمارے لیڈر مگر سیاست کے بنیادی تقاضوں سے بھی نا آشنا۔ گاہے اس انداز میں وہ بروئے کار آتے ہیں، گویا ملک اور معاشرے کو چراگاہ بنا دینا چاہتے ہیں۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ غیرملکی اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے ہمارے لیڈروں کی سٹّی گم ہو جاتی ہے۔ مشاہداللہ سے پہلے جنرل اطہر عباس اور اسد درّانی بھی یہی کارنامہ سر انجام دے چکے ہیں۔ 
پس منظر طویل ہے اور کالم کی تنگنائے اس کی متحمل نہیں۔ فوج نہیں، اقتدار منتخب سیاستدانوں ہی کو زیبا ہے۔ لوہے کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ انسانوں پر حکومت کرے۔ ہمارے رہنما مگر حقیقی سیاسی شعور سے بے بہرہ ہیں۔ خواہشِ اقتدار سے مغلوب، وہ ادراک نہیں رکھتے کہ حقیقی سول بالادستی کے لیے مضبوط اخلاقی بنیاد چاہیے‘ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے صادر کرنے والے مضبوط سول اداروں، پولیس، عدلیہ اور افسر شاہی کی، جمہوری سیاسی جماعتوں کی۔
میاں محمد نواز شریف کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے پاک فوج کے سربراہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ان سے عرض کیا تھا کہ دہشت گردی کا علاج مذاکرات نہیں۔ کرنا ہی ہوں تو ریاست اور آئین کی بالادستی ملحوظ رکھی جائے۔ ثانیاً‘ بھارت کے ساتھ بتدریج ہی تعلقات کی بہتری ممکن ہے، معقول سفارتی انداز میں۔ میاں صاحب نے حامد کرزئی اور بھارتی وزیرِ اعظم کو اپنی تقریبِ حلف برداری میں مدعو کیا۔ من موہن سنگھ نے گریز کیا۔ فوراً بعد پاکستان اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے والے نریندر مودی وزیرِ اعظم بنے تو ایک شہنشاہ کے انداز میں انہو ں نے سری لنکا، سکم، بھوٹان، بنگلہ دیش اور مالدیپ کی طرح پاکستان کے وزیرِ اعظم کو اپنی تاجپوشی کے موقع پر دہلی دربار طلب کیا۔ منتخب پاکستانی وزیرِ اعظم کو گریز کرنا چاہیے تھا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہ تقریب میں شامل ہو کر وہ فوراً ہی لوٹ آتے مگر انہوں نے دعوت قبول کر لی۔ عسکری قیادت کیا، کابینہ تک سے بعد میں ''مشورہ‘‘ کیا۔ صاحبزادے کو ساتھ لے گئے۔ بھارتی صنعت کاروں اور میڈیا کی ممتاز شخصیات سے بات چیت کرتے رہے، بعض کے بارے میں ہائی کمیشن کو مطلع کیے بغیر۔ حتیٰ کہ ایک صنعت کار کے گھر تشریف لے گئے، جو ہرگز ان کے شایانِ شان نہ تھا۔ عسکری قیادت میں اس پر ردّعمل تھا، بالکل اسی طرح، جس طرح ایک میڈیا گروپ سے آویزش کے ہنگام وزیرِ اعظم کے طرزِ عمل اور وزیرِ اطلاعات کے اس بیان پر ''غلیل نہیں، ہم دلیل والوں کے ساتھ ہیں‘‘۔ زخم پہ زخم کھا کر، قیمتی جانوں کی قربانی دے کر حکومت نے ہوش کے ناخن لیے، جب فوج نے تنگ آ کر خود سے ضربِ عضب کا آغاز کر دیا۔ جب اس نے کراچی کا امن بحال کرنے کے لیے آپریشن شروع کیا اور صوبوں میں اپیکس کمیٹیاں تشکیل دیں۔ خدا خدا کر کے امن واپس آنے لگا۔ امید کی کونپل ہی نہیں پھوٹی بلکہ ملک دلدل سے باہر آنے لگا۔ مدّتوں کے بعد امکان کا نخل ہرا ہوا ہے۔ بلوچستان بدل رہا ہے۔ قبائلی علاقے میں دہشت گرد پسپا ہیں۔ ضرورت سے کم ہی سہی مگر معیشت نمو پزیر ہے اور چینی سرمایہ کاری نے امکانات کے بے شمار دروازے کھول دیے ہیں۔ 
ذاتی حیثیت میں کچھ فوجی افسر بے قاعدگیوں کے مرتکب ضرور ہوئے لیکن عسکری قیاد ت ملوّث تھی اور نہ آئی ایس آئی بطور ایک ادارہ۔ اس نے دھرنے والوں کو مالی مدد فراہم کی اور نہ افرادی قوت۔ جن صاحب کے بارے میں شکایت تھی، ان کے باب میں فیصلہ وزیرِ اعظم اور چیف آف آرمی سٹاف نے مشورے سے صادر کیا۔ ہنگامے عروج پر تھے تو خود وزیرِ اعظم نے چیف آف آرمی سٹاف سے مدد مانگی۔ انہوں نے مفاہمت پیدا کرنے کی پُرخلوص کوشش کی مگر عمران خان ہوا کے گھوڑے پہ سوار تھے۔ حد سے زیادہ پُراعتماد اور 2013ء کے نواز شریف کی طرح سیاسی موسم کے تیوروں سے بے خبر۔ 
اب کی بار یومِ آزادی اس طرح آیا ہے، جیسے اچانک موسمِ بہار آئے۔ یکایک جیسے بادل امنڈ کر آئیں اور ابرِ کرم برسے۔ بلوچستان کے ایک ایک شہر میں جشنِ آزادی برپا ہوا، کل تک جس کا تصور بھی نہیں تھا۔ چمن اور کوئٹہ میں تحریکِ طالبان اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس نے تخریب کاری کے منصوبے بنائے تھے، صدر اشرف غنی کا جس پر کنٹرول نہیں۔ یہ منصوبے ناکام بنا دیے گئے۔ بلوچستان کے ایک ایک شہر میں شاندار اور محفوظ تقریبات ہوئیں۔ علیحدگی پسندوں اور ان کے بھارتی سرپرستوں کو خفت اٹھانا پڑی۔ کراچی میں فساد پھیلانے کی کوشش ناکام ہے۔ امید یہ ہے کہ ایم کیو ایم استعفے واپس لے گی اور آپریشن جاری رہے گا۔ اگر کچھ گرفتار شدگان بے گناہ ہیں تو وہ رہا ہونے چاہئیں اور آپریشن قانون کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ پیاسے اور مضطرب کراچی شہر میں آب رسانی کے منصوبے جلد مکمل ہونے چاہئیں۔ راولپنڈی اور لاہور کی طرح عوامی ٹرانسپورٹ کی سہولت بڑھنی چاہیے۔ دیہی اور شہری سندھ میں بلدیاتی الیکشن منعقد ہونے چاہئیں لیکن فسادیوں اور تخریب کاروں کا انشاء اللہ کوئی مستقبل نہیں۔ ایسے میں مشاہداللہ خان کو کیا سوجھی۔ خدا کا شکر ہے کہ وفاقی حکومت نے ہوشمندی سے کام لیا۔ حکمت اور بالغ نظری کا مظاہرہ کیا۔ ملک میں خوشحالی اور استحکام کا انحصار سول اور فوجی قیادت کے اتحاد میں ہے۔ یہ اصول مدّنظر رکھتے ہوئے کہ فوج کا کام سول حکومت کی امداد ہے، اس پر غلبہ نہیں۔ ایک طے شدہ منصوبے کے تحت بتدریج فوج کی واپسی اور سول کی بالاتری۔ آئین کی سربلندی اور اخلاقی احساس کے ساتھ۔ حالات بدلتے ہیں تو ذاتی اور اجتماعی حیات کے تقاضے بھی بدل جاتے ہیں مگر وہ جو بے خبر ہوتے ہیں اور جنہیں یاد دہانی کرانا پڑتی ہے۔ 
رات کے وقت ایک جنگل میں 
چند الّو اداس بیٹھے تھے 
ایک بولا کہ رات لمبی ہے 
دوسرے نے کہا کہ چھوٹی ہے 
تیسرے نے کہا کہ چھوڑو بھی 
رات لمبی ہو‘ یا کہ چھوٹی ہو 
صبح صادق ضرور آئے گی 
ہم کو اندھا ضرور ہونا ہے 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved