تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     11-09-2015

گلگت میں چھ ستمبر

اس بار میں 6ستمبر کے سلسلے میں گلگت و بلتستان جا پہنچا۔ بلتستان کے صدر مقام سکردو سے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر شنگریلا گیا۔ ہماری زمین پر جن خوبصورت مقامات کو جنت ارضی کے قطعات کہا جاتا ہے، شنگریلا ان میں سرفہرست ہے۔ 
قاری محمد یعقوب شیخ کے ہمراہ میں آج شنگریلا کے حسن کو دیکھنے نہیں آیا، نہ اس کی خوبصورت جھیل کے کناروں پر ٹہلنے آیا۔ آج میں صرف اس لئے یہاں آیا کہ بلتستان کو فتح کرنے والے بریگیڈیئر اسلم کی قبر پر ان کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کروں کہ جنہوں نے انتہائی بہادری کے ساتھ بلتستان فتح کیا اور پھر شنگریلا میں ڈیرے ڈال کر اپنے بیٹے عارف کو کہا کہ میری قبر شنگریلا کی چوٹی پر بنانا، فاتح بریگیڈیئر نے مذکورہ چوٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس چوٹی سے دریائے سندھ کی سیدھ میں مجھے وہ راستہ نظر آتا ہے جہاں بالآخر اللہ کی راہ میں پاک فوج کے شیر چلیں گے اور مقبوضہ کشمیر کو فتح کریں گے۔ شنگریلا میں بریگیڈیئر اسلم کے فرزند ارجمند محترم عارف صاحب ہمارا استقبال کر رہے تھے اور مذکورہ گفتگو کرتے ہوئے ہمیں اس چوٹی پر لے آئے تھے جہاں بریگیڈیئر اسلم، جو ایئرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کے بڑے بھائی ہیں، اپنی قبر میں آرام فرما ہیں۔
ہمیں سکردو سے گلگت جانا ہے جو دریائے سندھ کے کنارے کنارے کوئی پانچ گھنٹے کا سفر ہے مگر اس بار ہم نے ایک لمبے راستے کا انتخاب کیا ہے۔ یہ راستہ دنیا کی چھت کہلاتا ہے۔ اسے دیوسائی کا میدان کہا جاتا ہے۔ یہ میدان سمندر کی سطح سے سولہ ہزار میٹر بلند ہے۔ اتنی بلندی پر یہ دنیا کا واحد میدان ہے، جہاں ندی نالے بھی ہیں اور پھر ایک ننھا منھا سا دریا بھی۔ شیوسر کے نام سے جو جھیل ہے وہ بھی بے حد حسین ہے۔ خود رو پھولوں اور سبزے کی جو بہتات ہے وہ الگ ایک حسن اور نکھار ہے۔ ہم نے اس میدان کو اپنی جیپ پر کوئی چار گھنٹوں میں عبور کیا۔ اس میدان میں چھوٹی بڑی پہاڑیاں ایسا منظر پیش کرتی ہیں جیسے دنیا کی چھت پر ایک منی اسلام آباد بننے کی گنجائش ہو۔ چشموں کے صاف شفاف بہتے پانی کے نالے پر ہم کچھ دیر رک گئے۔ دوپہر کا کھانا ہمراہ تھا مگر جو ہلکی پھلکی ہوا چل رہی تھی انتہائی سرد تھی۔ میرے تو دانت بجنے لگ گئے۔ یہاں سردیوں میں 20فٹ تک برف پڑ جاتی ہے۔ گرمیوں کے کوئی چار مہینے یہ میدان برف سے خالی ہوتا ہے اور بہار دیتا ہے۔ بلتستان میں ہم وادی شگر میں سیاچن کے دامن کو بھی چھو کر آئے اور اب دیوسائی کے میدان میں کھڑے تھے۔
میں سوچوں میں گم تھا کہ امریکہ جو ہم سے دوستی کی بات کرتا ہے، چھ ستمبر کی جنگ میں بھی اس کا کردار یہ تھا کہ ہماری فوج اور حکومت کو یقین دلاتا رہا کہ بھارت اپنی لڑائی کو کشمیر میں محدود رکھے گا، بین الاقوامی بارڈر کو پار نہ کرے گا لیکن اندر کھاتے انڈیا کے ساتھ پروگرام یہی بنا چکا تھا کہ بھارت لاہور اور سیالکوٹ کے بارڈر پر جارحیت کرے گا۔ اسی امریکہ نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں انڈیا کو شہ دی کہ وہ سیاچن پر قبضہ کر لے‘ چنانچہ وہاں سالہا سال سے پاکستان اوربھارت کے مابین جنگ ہو رہی ہے۔ ہماری فوج کی ہر یونٹ سیاچن میں دشمن کے سامنے محاذ آرائی کے تجربے سے گزر چکی ہے۔ امریکہ کیسا مکار ہے کہ دوسری جانب وہ پاکستان سے دیوسائی کا میدان مانگ رہا تھا تاکہ یہاں اپنی ایئرفورس کا ہیڈ کوارٹر بنائے اور چین پر نظر رکھے اور اس کے سر پر بیٹھ جائے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان اپنے ایک دوست نما دشمن کو ایک خوبصورت ترین اور وسیع و عریض چھت مہیا کرے جو میٹھے پانی، جھیل اور چشموں سے مالا مال علاقے میں براجمان ہو جائے اور اس کے جگری دوست چین کو پریشان کرے۔ انڈیا کو کھیل کھیلنے دے اور اپنے پائوں پر کلہاڑیاں مارتا چلا جائے؟
دیوسائی کے میدان میں ایک نہیں، کئی رن وے بن سکتے ہیں، ایک شہر آباد ہو سکتا ہے۔ میں جگہ جگہ دیکھ رہا تھا، پاکستان کے سبز ہلالی پرچم لہرا رہے تھے اور سکیورٹی فورسز کے جوان خیمے لگائے یہاں موجود تھے۔ آج حالات بدل گئے ہیں، امریکہ نے جو خواب دیکھے تھے ان کی تعبیر الٹی ہو رہی ہے۔ دیوسائی کا میدان آنے والے کل میں آپریٹ ہو گیا تو انڈیا سیاچن میں ٹھہر نہ سکے گا۔ یہاں کی ٹھٹھرتی ہوا میں‘ میں چاروں طرف دیکھتے ہوئے سیاچن کی جانب رخ کر کے کچھ ایسا ہی سوچتا چلا جا رہا تھا۔ شیوسر کی میٹھی اور گہری جھیل‘ اس قدر گہری کہ اس کے نیچے چشمے جاری ہیں۔ اس کے کنارے سے آگے بڑھ رہا تھا، اترائی اتر رہا تھا اور ایک اور آنے والے تابناک ستمبر کی صبح دیکھ رہا تھا۔ تین چار گھنٹے مزید لگے ۔ہم ''استور‘‘ سے اور ''جگلوٹ‘‘ سے ہوتے ہوئے شاہراہ ریشم پر گامزن ہو گئے تھے۔ چین نے اس قدر تیزی سے کام کیا ہے اور کام ہو رہا ہے کہ وسیع و عریض سڑک بن چکی ہے اور کارپٹ ہے۔ پہاڑوں کی سائیڈ پر جو دیوار بنائی گئی ہے وہ اس قدر بلند اور خوبصورت ہے کہ میں تو عش عش کر اُٹھا۔ پاکستان میں ہم نے سب سے خوبصورت پہاڑی سڑک جو بنائی ہے وہ مری کا موٹر وے ہے۔ وہاں پہاڑ کی سلائیڈنگ کے لئے رکاوٹ کھڑی کرتے ہوئے جو دیوار بنائی وہ کنکریٹ کی بنائی مگر چینی ماہروں نے جو دیواریں بنائی ہیں وہ مضبوطی اور خوبصورتی میں کہیں اعلیٰ اور خوبصورت ہیں۔
گلگت شاہراہ ریشم پر واقع علاقے کا صدر مقام ہے، وزیراعلیٰ اور گورنر ہائوسز بھی یہیں ہیں۔یہاں سے 80کلومیٹر کے فاصلے پر ایک نئی جھیل معرض وجود میں آ چکی ہے، اس لئے کہ چند برس پہلے دریائے گلگت پر عطا آباد کے مقام پر پورا پہاڑ دریا میں آن گراتھا، اس سے علاقے کا حسن بھی بڑھ گیا ہے۔ چین کے انجینئروں نے دن رات ایک کر کے پہاڑ میں سے سرنگ نکال کر سڑک کا راستہ بھی بنا دیا ہے‘ سرنگ کی لمبائی کوئی سات کلومیٹر ہے۔ یوں جھیل کے قدرتی نظارے بھی اور سرنگ کے ذریعے شاہراہ ریشم کی بحالی ایک بڑی کامیابی ہے۔ ویسے سڑک خنجراب تک مکمل ہو چکی ہے۔ 
لاہور کینٹ کا انفنٹری روڈ کہ جس سے ذرا سے فاصلے پر حضرت پیر سید ہارون گیلانی صاحب کا دولت خانہ ہے، اس دولت خانے سے مجھے اور جناب قاری یعقوب صاحب کو آواز آئی کہ اس بار چھ ستمبر کے حوالے سے پروگرام گلگت میں ہے جس کا عنوان ہے ''ہم سب پاکستان ہیں‘‘ روپل ہوٹل میں شاہراہ ریشم پر ایک آواز بلند ہو رہی تھی کہ گلگت سے گوادر تک ہم سارے پاکستانی لوگ اب ایسے جذبے سے سرشار ہیں کہ ہر پاکستانی ایک پاکستان ہے، پورے پاکستان کا نمائندہ ہے۔ کمال یہ تھا کہ اس کانفرنس میں ہر مسلک کا نمائندہ تھا۔ ہر مکتب فکر کا نمایاں اور موثر لیڈر تھا۔ گلگت و بلتستان کے دانشور ، سیاستدان، شاعر، علماء اور مقامی بیوروکریسی کے نمائندے بھی تھے، ریٹائرڈ فوجی افسر بھی اور تاجر بھی۔ مہمان خصوصی گلگت و بلتستان کے سپیکر جناب فدا محمد حسین ناشاد تھے اور سب یہی کہہ رہے تھے، ''ہم سب پاکستان ہیں‘‘۔
میری باری آئی تو میں نے عرض کی، محرومی کی بات کرنا اور شکوہ کرنا انسان کی عادت اور فطرت ہے۔ بچہ اپنی اس فطرت کا اظہار ماں باپ سے کرتا ہے۔ ماں باپ جس قدر ہو سکے محرومیوں کا ازالہ بھی کرتے رہتے ہیں اور سمجھدار بچہ حاصل بھی کرتا ہے، تقاضا بھی کرتا رہتا ہے مگر ماں باپ سے محبت بھی کرتا ہے اور اپنے گھر سے بھی پیار کرتا رہتا ہے۔ ہم سب پاکستان ہیں اوراپنے گھر میں ہمارا کردار بھی یہی ہونا چاہئے۔ اور اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے حضورﷺ کو دیکھیں کہ جب مکہ فتح کیا اور مال غنیمت ملا تو نو مسلموں کو خوب مال دیا۔ انصار کہنے لگے! اللہ کے رسولﷺ مکہ سے نکال دیئے گئے، ہمارے پاس تشریف لائے، ہماری تلواروں کی دھاروں سے خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں، آج مکہ فتح ہوا تو وہ جنہوں نے حضورﷺ کو نکالا تھا، ان کو مال مل گیا، ہم محروم رہ گئے۔ حضورﷺ کو پتہ چلا تو انصار کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا تم خوش نہیں ہوتے کہ لوگ مال مویشی لے کر گھروں کو جائیں گے اور تم لوگ اللہ کا رسول لے کر مدینہ جائو گے۔ سب خوشی سے رونے لگ گئے اور کہنے لگے ہم خوش ہیں۔ اے اللہ کے رسولﷺ اے کاش! محرومی کی بات کرنے والوں کو میرے حضورﷺ کے نقشِ پا پر چلنے والا کوئی حکمران مل جائے جو ایسی بات کہہ سکے، تب میں نے چھ ستمبر کی رات کو جنرل راحیل شریف کا خطاب سنا، معاشی راہداری پر پختہ عزم کو دیکھا، ہر دم تیار کا تیور دیکھا، آنکھوں کے اٹھنے کا انداز دیکھا تو بے ساختہ زبان سے نکلا، وہ موجود تو ہے جس کا انتظار تھا۔ اب سماں یہی آئے گا کہ آنے والا ہر محروم کو اسی طرح گلے سے لگائے گا جس طرح ماں اور باپ لگاتا ہے۔ ہاں ہاں! اسی طرح جس طرح میرے حضورﷺ نے انصار کو گلے سے لگا کر فرمایا تھا، سارے جہان کے لوگ میری قمیص ہیں اور انصاریو! تم محمدؐ کی بنیان ہو۔ خنجراب سے گوادر تک اے پاکستانیو! ذرا ایثار بھی کر کے دیکھو کہ عطا آباد کی جھیل سے گوادر کے سمندر کے بعد ایک حوض کوثر بھی ہے، ذرا اس پر بھی نظر رہے کہ چھ ستمبر اور ضرب عضب کے شہیدوں کی تو بس اسی پہ نظر تھی اور میرے حضورﷺ نے انصار سے یہی فرمایا تھا'' ملاقات تک صبر‘ کہ تم کو دیکھے میری نظراور پاس ہو حوض کوثر۔‘‘

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved