تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     08-10-2015

مارک سیگل کی گواہی

بے نظیر بھٹو شہید کو نیویارک میں موصول ہونے والی جنرل مشرف کی مبینہ فون کال کی اتنی اہمیت نہیں جتنی اس مبینہ فون کال کی ہے جو محترمہ کو لیاقت باغ کی قتل گاہ میں کی گئی جس میں انہیں اپنا سر گاڑی کی روف ٹاپ سے باہر نکال کر''ہجوم‘‘ کو ہاتھ ہلانے کے لیے کہا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے انتہائی قریبی دوست، امریکی صحافی مارک سیگل نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج کو اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا: میری اور آصف علی زرداری کی موجودگی میں 25 ستمبر2007ء کو جنرل مشرف نے موبائل فون پر بے نظیر بھٹو کو مبینہ طور پردھمکی دیتے ہوئے کہا تھا، پاکستان میں آپ کی سلامتی کا انحصار میرے اور آپ کے تعلقات پر ہے۔ بے نظیر بھٹو نے مجھے ایک ای میل بھی کی، اگر پاکستان میں مجھے کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار جنرل مشرف ہوں گے۔ مارک سیگل کہتے ہیں: میری اور بے نظیر بھٹو کی دوستی پچیس برسوں پر محیط تھی، میں اور بے نظیر مشترکہ طور پر ایک کتاب بھی لکھ رہے تھے۔ اور یہ تو کسی کو بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ چوہدری پرویز الٰہی سمیت جنہیں بعد میں آصف علی زرداری نے اپنی حکومت میں ڈپٹی پرائم منسٹر بنایا تھا، تین افراد کو بی بی نے دوبئی سے پاکستان کے لئے روانہ ہوتے ہوئے اپنے ممکنہ قتل کی سازش کا براہ راست ذمہ دار قرار دیا تھا۔
ایسا لگ رہا ہے، محترمہ کے اصل قاتل نے خود کو مارک سیگل اور جنرل پرویز مشرف کے پردے میں چھپانے کی آخری کوشش کی ہے۔ محترمہ کے قتل کے بعد ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی مرکز، سندھ اور بلوچستان میں بر سر اقتدار آگئی جبکہ پنجاب میں میاں برادران کی حکومت قائم ہوئی اور انہوں نے جلسہ عام میں شہید بی بی کے قاتلوں کو انجام تک پہنچانے کا دعوی بھی کیا۔ کیا وجہ ہے کہ مرکزی حکومت اور سندھ میں طاقتور ترین ہونے کے با وجود کراچی کار ساز بم دھماکے اور محترمہ کے قاتلوں کو ڈھونڈنے کے لئے اقوام متحدہ اور سکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد لی گئی۔ انتہائی سادہ اور سامنے کی بات ہے کہ اس شخص کو پکڑ کر سامنے لایا جائے جو محترمہ کو قتل گاہ تک لے کر آیا، جس نے محترمہ کو مجبورکیا کہ وہ لینڈ کروزرکی روف ٹاپ کھول کر، وہاں ''پلانٹڈ ہجوم‘‘ کے نعروں کا جواب دینے کے لئے اپنا سر نکال کر کھڑی ہو جائیں۔ افسوس، ملک کی عظیم لیڈر کے قاتل کو ڈھونڈنے کے لئے غریب ملک کے اربوں روپے فضول قسم کی کارروائیوں میں ضائع کردیے گئے لیکن اس نکتے کی جانب کسی نے توجہ نہیں دی کہ وہ شخص تلاش کیا جائے جس نے انہیں کامیاب جلسے کے بعد ایک چھوٹے سے ہجوم کے سامنے گاڑی سے سر باہر نکالنے پر مجبورکر تے ہوئے قاتل کے سامنے کھڑا کر دیا۔
محترمہ کی گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ ایک اور بلٹ پروف گاڑی کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہر وقت ساتھ رکھی جاتی تھی۔ جب محترمہ اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ سے روانہ ہوئیں تو سیاہ رنگ کی ایک بلٹ پروف مرسیڈیز ان کی بلٹ پروف لینڈ کروزر کے پیچھے موجود رہی جس میں جنرل توقیر ضیا، سینیٹر فرحت اﷲ بابر اور رحمان ملک سوار تھے۔ لیاقت باغ کا جلسہ شام پانچ بجے کے قریب ختم ہوا اور محترمہ کو ان کی لینڈ کروزر میں بٹھایا گیا تو اس وقت سیاہ بلٹ پروف مرسیڈیز ان کی گاڑی سے کافی فاصلے پر تھی۔ بم دھماکہ ہونے کے بعد محترمہ خون میں لت پت ہوکرگاڑی میںگریں تو ڈرائیورکو راولپنڈی کے ایک سرکاری ہسپتال لے جانے کا کہا گیا، بم دھماکے کی وجہ سے محترمہ کی لینڈ کروزر کے چاروں ٹائر برسٹ ہو چکے تھے اس لئے کسی متبادل گاڑی کی ضرورت تھی لیکن بیک اپ گاڑی یعنی سیاہ بلٹ پروف مرسیڈیز موجود نہیں تھی۔ اس موقع پر ملک کی عظیم لیڈر کو جو موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھیں، ہسپتال لے جانے کے لئے پی پی پی کے ایک رکن کی گاڑی حاصل کی گئی لیکن اس وقت تک وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملی تھیں۔ صاف ظاہر ہے، اگر محترمہ اپنا سر لینڈ کروزر سے باہر نہ نکالتیں توگاڑی چونکہ بم پروف تھی اس لئے بم دھماکہ ہونے کے با وجود بچ جا تیں جیسے گاڑی میں دوسرے افراد محفوظ رہے۔
اب بھی وقت ہے، اس کیس کی تفتیش کسی روایتی تھانیدارکے سپرد کر دی جائے تو وہ ایک ہی دن میں اس شخص کو دنیا کے سامنے لے آئے گا جس نے محترمہ کی گاڑی پہلے قتل گاہ کی جانب مڑوائی اور پھر انہیں اپنا سر قاتل کے سامنے کرنے پر آمادہ کیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ پیپلز پارٹی نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں قاتلوںکو تلاش کرنے کی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی تو غلط نہ ہوگا۔ ایف آئی اے کا کوئی انسپکٹر یا پولیس کا کوئی تھانیدار ویڈیو میں ''ہجوم‘‘ کے چہرے پہچان کر جان سکتا ہے کہ یہ کون لوگ تھے اورکہاں سے لائے گئے تھے۔ چھوٹے سے ''ہجوم‘‘ کی شکل میں یہ لوگ گاڑی کا راستہ روکنے کے لئے اس لئے تو نہیں کھڑے کئے گئے تھے کہ قاتلوں کو محترمہ کا نشانہ لینے میں کوئی دشواری نہ ہو؟ 
لیاقت باغ راولپنڈی کے کامیاب اور پر جوش جلسے کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو روانہ ہوئیں تو ان کے ساتھ لینڈ کروزر میں گاڑی کے ڈرائیور جاوید الرحمان کے علاوہ ان کے ذاتی ملازم رزاق میرانی، مخدوم امین فہیم، ناہید خان، صفدر عباسی، سکیورٹی آفیسر ایس ایس پی میجر (ر) امتیاز وڑائچ، محترمہ کے ذاتی سکیورٹی انچارج خالد شہنشاہ (جنہیں اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد کراچی میں نا معلوم افراد نے قتل کر دیاتھا) موجود تھے۔ دیکھنا یہ ہے کہ محترمہ جلسے سے خطاب کرنے کے بعد طے شدہ روٹ سے ہٹ کر اچانک اس جانب کیوں گئیں جو ان کی قتل گاہ ثابت ہوئی؟ کیا گاڑی کا ڈرائیور ازخود انہیں اس طرف لے گیا یا گاڑی میں موجود کسی نے اسے اس جانب گاڑی لے جانے کے لئے کہا؟ یہ جاننا مشکل نہیں کہ کیا گاڑی میں موجود کسی شخص نے انہیں ''قتل گاہ‘‘ کی جانب جانے کو کہا یا کسی موبائل فون کال نے انہیں اس جانب بھیجا؟ اور اگر فون کال آئی تو وہ کس کی طرف سے تھی؟ باور کیا جاتا ہے کہ فون کرنے والی '' شخصیت‘‘ بخوبی جانتی تھی کہ محترمہ کے ساتھ بیٹھے سکیورٹی آفیسر میجر(ر) امتیاز وڑائچ کسی صورت میں محترمہ کو اپنا سرگاڑی سے باہر نکال کرکھڑے ہونے کی اجا زت نہیں دیں گے۔ اس لئے میں اصرار سے کہتا ہوں کہ نیویارک میں بی بی شہید کو موصول ہونے والی جنرل مشرف کی فون کال کی اتنی اہمیت نہیں جتنی اس فون کال کی ہے جو محترمہ کی گاڑی کو لیاقت باغ کی قتل گاہ تک لے آئی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved