تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     17-10-2015

ایک نئے میثاق کی ضرورت

میثاقِ جمہوریت کی طرز پر، آج ملک کو ایک عہد نامہ جدید کی ضرورت ہے۔
میں جانتا ہوں کہ میثاقِ جمہوریت کے ساتھ بہت سی تلخ یادیں وابستہ ہیں۔ اس کے سوئِ استعمال پر سیاست دان تنقید کا ہدف بنے اور صحیح بنے۔ اس کے باوجود، اس کی افادیت مسلمہ ہے۔ معاہدوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے لیکن ان کا اخلاقی پہلو مسلسل تذکیر کا باعث بنتا ہے۔ ایک معاہدے کی جزوی خلاف ورزی سے یہ لازمی نہیں ہوتا کہ مستقبل میں معاہدوں کا باب بند کر دیا جائے۔ فرد یا سماج اگر ماضی کے اسیر ہو جائیں توارتقا رک جاتاہے۔ بے نمازیوں کا طرزِعمل اگر دلیل بن جائے تو موذن کا کردار ختم ہو جائے۔
نئے میثاق سے مراد نیا آ ئین نہیں۔ خلفشار کی اس فضا میں یہ بحث بے وقت کی راگنی ہوگی۔ علامہ اقبال سے بڑھ کر کون اجتہاد کا علم بر دار ہو گا لیکن 'خطبات ‘میں انہوں نے ایک عجیب بات فرمائی۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ایک قوم وحدت کی تلاش میں ہو تو اس وقت اجتہاد سے زیادہ تقلید کی ضرورت ہو تی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اُن باتوں پر تاکیدِ مزید جن پر اتفاق مو جود ہے۔ اجتہاد، اگر ذہنی بلوغت نہ ہو تو انتشار کا امکان بڑھا دیتا ہے۔ وجہ واضح ہے۔ بناؤ اور بگاڑ کے مرحلے پر نئی راہوں کی تلاش مشکل ہوتی ہے اور عوامی ذوق تقلید کا خوگر ہوتا ہے۔ نئے میثاق سے میری مراد وہ عارضی عہد نامہ ہے جس سے سیاسی حرکیات کا تعین ہو۔
میثاق ِ جمہوریت نے اِس اتفاقِ رائے سے جنم لیا تھا کہ آمریت ہر صورت میں نا قابلِ قبول ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس مقصد کی حد تک، یہ معاہدہ کامیاب رہا۔ آصف زرداری صاحب کو کسی فوجی آ مر نے نہیں، عوامی رائے نے اقتدار ہی نہیں سیاست کی مسند سے بھی ہٹا دیا۔ اگر فوجی مداخلت ہوتی یا اُن کے خلاف قبل از وقت اقدام کیا جاتا تو ان کے سر پر آج مظلومیت کی چادر ہو تی اورپیپلز پارٹی ملک بھر میں شامِ غریباں کا منظرپیش کر رہی ہوتی۔ اب مگر اُس کے سر پرکوئی ردا نہیں اور کوئی اسے مظلوم ماننے پر بھی آ مادہ نہیں۔ یہی جمہوریت کا کمال ہے۔ مسترد افراد کی اس فہرست میں مسلسل اضافہ ہو سکتا ہے اگر یہ تسلسل برقرار رہے۔ اس کے لیے میثاقِ جمہوریت کا ایک خاموش کردار ہے جسے سراہنا چاہیے۔
نیا میثاق تین نکات پر مشتمل ہونا چاہیے:
1۔ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ چو نکہ سیاسی استحکام ہے، اس لیے کوئی جماعت احتجاج کو مستقل سیاسی طرزِ عمل نہیں بنائے گی۔ اپنی بات کہنے کے لیے میڈیا، پارلیمان اور عدالت کے دروازے پر دستک دی جائے گی۔ آج میڈیا پوری طرح آزاد ہے، کم از کم سیاست دانوں پر تنقید کے باب میں۔ عدالتوں میں ججوں کے تقرر کاا یک ایسا نظام وجود میں آ چکا جس میں سیاسی مداخلت کم و بیش ختم ہو گئی ہے۔ اس نظام کی تشکیل کا سہرا ڈاکٹر بابر اعوان کے سر ہے۔ وزیر قانون کی حیثیت سے انہوں نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایک ایسا نظام بنایا جس کے تحت جج حضرات کی تقرری کے معاملے میں پارلیمان سے لے کر ریٹائرڈ ججوں اور بارکونسلزتک، تمام سٹیک ہولڈرز کواعتماد میں لیا گیا۔ انہیں اس کے لیے اپنی پارٹی کی طرف سے بھی مزاحمت کا سامنا رہا مگر وہ یہ کر گزرے۔ یوں آج ہمارے پاس ایک قابلِ بھروسہ عدالتی نظام مو جودہے۔ آج سیاسی جماعتیں مل کر یہ فیصلہ کریں کہ 2018ء تک وہ اپنی بات کہنے کے لیے ان فورمز کا سہارا لیں گی اور ملک میں کوئی اضطراب پیدا نہیں کریں گی۔ اس سے امکان ہے کہ معیشت کا پہیہ رواں رہے گا اورلوگ بھی ہیجان کی اُس فضا سے نکل پائیں گے جو پورے سماج کو ذہنی مریض بنا رہی ہے۔
2۔ کرپشن کے خاتمے کے لیے ایک ایسا نظام وضع کیا جائے گا جس میں سب کی رائے شامل ہو۔ یہ بات تو واضح ہو گئی کہ مو جود ادارے، اس کام میں جزوی طور پر ہی کامیاب رہے ہیں۔ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ کرپشن کے مقدمات میں صرف وہی لوگ سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں جوکم وسیلہ ہوں یا جن کی کرپشن کی ایک حد ہو۔ لامحدود کرپشن اور باوسیلہ مجرم ہمیشہ بچ جا تے ہیں۔ اس پر سب جماعتوں کو مل کر سوچنا چاہیے کہ ایسے مجرموں کو کیسے سزا دی جائے۔ جرم اور سیاسی عصبیت کو کیسے الگ کیا جا ئے؟
3۔ ریاستی نظام کیسے عامۃ الناس کے مسائل کا قابلِ بھروسہ حل پیش کرے۔ ہم تعلیم، صحت اور دوسرے معاملات پر کیسے نظر رہ سکتے ہیں کہ ان معاملات میں سرکاری وسائل کا درست استعمال ہو۔ اسی ضمن میں پولیس کے کردار کی تشکیلِ نو بھی بہت اہم ہے۔ ان کاموں کا اصل مینڈیٹ منتخب عوامی نمائندوں کے پاس ہے۔ اس مینڈیٹ کو برقرار رکھتے ہوئے، سب کو مل کر کوئی ایسا حل سوچنا چاہیے کہ ان معاملات میں بد انتظامی یا بد دیانتی کا امکانات کم سے کم ہو جا ئیں۔ اس کے لیے سول سوسائٹی اور میڈیا کو بھی شریک کیا جا سکتا ہے۔
حکومت اِن امور پر ایک میثاق کی تشکیل کے لیے ایک قومی کانفرنس بلائے۔ اس میں سیاسی قیادت کے ساتھ میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی شریک کیا جا ئے۔ یہ بات طے کر دی جائے کہ اتفاق ِ رائے سے وجود میں آنے والا میثاق2018ء کے عام انتخابات تک نافذ العمل ہوگا۔ اگر آج چند بنیادی معاملات پر اس نوعیت کا اتفاقِ رائے پیدا نہ ہو سکا تو اس کا نتیجہ عدم استحکام اور خلفشار ہے۔ عدم استحکام ان امکانات کو برباد کرد ے گا جو ہمیں ایک بہتر مستقبل کی امید دلا تے ہیں۔ اس سے خود جمہوری نظام خطرات میں گھر جائے گا۔ احتجاج پسندوں کو شاید اس کا اندازہ نہیں کہ ہیجان جیسے جیسے بڑھے گا، یہ تمام اہل ِسیاست کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔2018ء سے پہلے عام انتخابات کی ہر کوشش کا حاصل میرے نزدیک سیاسی نظام کا خاتمہ ہے۔ اس کے شواہد ہر اس آ دمی کو دکھائی دے رہے ہیں جس کی آنکھیں کھلی ہیں۔ اگر لوگ نوازشریف کا متبادل کسی سیاست دان کو نہیں، ایک جنرل کو سمجھتے ہیں تو اس کا مطلب کیا ہے؟
یہ استحکام کیوں ضروری ہے؟ اسے ہر بات پر کیوں ترجیح ہے؟ سب سے بڑی ضرورت ضربِ عضب ہے۔ اس کی کامیابی کے لیے لازم ہے کہ ریاست کی ساری توجہ اس پر مرتکز ہو۔ لوگوں کو اندازہ نہیں کہ کیسے مذہبی انتہا پسندی کے اثرات دیہات تک پہنچ چکے ہیں اور کہاں کہاں دہشت گردوںکی پناہ گاہیں مو جود ہیں۔ حکومت کی تردید کے باوجود، داعش کی مو جودگی کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر مستزاد افغانستان کی حکومت کا مخالفانہ رویہ۔ ایسی فضا میں اگر پولیس اور سکیورٹی کے ادارے سیاسی ہیجان کو قابو میں رکھنے اور ضمنی انتخابات کے لیے وقف رہیں گے تواس سے وہ یک سوئی متاثر ہو گی جودہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے لازم ہے۔
اسی لیے ملکی مفاد کا تقاضا ہے کہ اہلِ سیاست اس وقت استحکام کو ترجیح دیں۔ استحکام کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ حکومت کو من مانی کی اجازت دے دی جائے۔ استحکام کے لیے صرف یہ لازم ہو نا چاہیے کہ تنقید اور بہتری کے عمل کو اس نظام کے تابع کر دیا جائے جو قابلِ بھروسہ ہے۔ اس کے لیے ریاست اورسماج کے اداروں پر انحصار کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو آگے بڑھ کر ایک میثاقِ استحکام کی تجویز پیش کر نی چاہیے اور اس کے لیے فضا بنا نی چاہیے۔ اگر اس نے بھی اپوزیشن والا لب و لہجہ اپنا لیا توپھر صورتِ حال کو سنبھالنے کے لیے کوئی میدان ِسیاست سے نہیں،کہیں اور سے آئے گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved