تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     04-11-2015

راہِ محبت میں پہلا قدم

ہم صرف اندازہ لگا سکتے ہیں۔ فیصلہ اسے صادر کرنا ہے، جو نیتوں کا حال جانتا ہے۔ باایں ہمہ عارف نے یہ کہا تھا: راہِ محبت میں پہلا قدم ہی شہادت کا قدم ہوتا ہے۔ 
الیکشن 2013ء کے فوراً بعد ایک انتہائی اہم شخصیت سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا: میں نے کہا تھا، آپ کو مایوسی ہو گی۔ ''مایوسی کیسی؟‘‘ میں نے کہا: بے شمار غلطیوں کے باوجود گھوڑا ریس میں دوسرے نمبر پر آ گیا۔
تین چیزیں ہیں، جن سے ابلیس آدمی کو روکتا ہے۔ سرگرمِ عمل ہونے سے، توکّل سے اور امید پالنے سے۔ آدم زاد کو وہ گوشہء عافیت میں پڑا رہنے کی تاکید کرتا ہے۔ تازہ خیالات سے فرار اختیار کرنے پر!
برادرم خورشید ندیم کے کالم کا پہلا جملہ میں نے پڑھا‘ اور شام کے لیے اٹھا رکھا۔ جی ہاں! سو فیصد مجھے یقین ہے کہ ملک کو ایک نئی سیاسی جماعت کی ضرورت ہے۔ صرف مجھ ناچیز ہی کو نہیں، بہت سے دوسرے غور و فکر کرنے والوں کو بھی۔ یہ عرصہ انہوں نے وساوس کی یورش میں ضائع نہیں کر دیا۔ پیہم وہ ریاضت کرتے رہے۔ ہر صاحبِ ادراک سے مشاورت اور اب اقدام کا وقت آ پہنچا ہے۔
میں اس جماعت کا ٹھیکیدار بالکل نہیں بنوں گا، جس طرح کبھی کپتان کا بن گیا تھا۔ خورشید ندیم اور دوسرے آزاد لوگ جو رائے دیں گے، وہی مان لینی چاہیے۔ حیاتِ اجتماعی میں تقلید شاید بدترین گناہ ہے۔ آدمی اپنے خیال کو کسی کے خیال سے بدل نہیں سکتا۔ ہاں مگر، آوازِ خلق ہی نقارہء خدا ہوتی ہے۔ کسی مقدمے کی غیر ضروری وکالت اسے مستحکم نہیں کر سکتی۔ اپنی تقدیر کا فیصلہ وہ خود کریں گے۔
اچھے لوگ ہیں۔ سیاست میں آنے کے وہ آرزومند نہ تھے اور نہ ان میں سے کوئی قیادت کا مدّعی ہے۔ اتفاقِ رائے سے اپنا لیڈر انہوں نے اس شخص کو چنا، آخری وقت تک جو انکار کرتا رہا۔ وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ سال بھر کے بعد نئے رہنما کو موقع ملنا چاہیے۔ اجتماعی دانش کو برسرِ کار آنا چاہیے۔ جس قدر جلد ممکن ہو، نچلی سطح تک پارٹی کے تمام عہدیدار منتخب ہوں گے۔ ان میں ثروت مند بھی ہیں مگر فیصلہ یہ ہے کہ پارٹی کو زیادہ تر عوامی چندے سے چلایا جائے گا۔ کارکن پارٹی کو اپنا سمجھیں اور ترجیحات طے کریں، اوّل روز سے جن کی تربیت کا آغاز کر دیا جائے گا اور جاری رہے گا۔ 
سیاست کیا ہے؟ ایثار، ریاضت اور حکمت۔ اس جماعت کی بنا رکھنے والے پندرہ برس سے عرق ریزی میں مصروف تھے۔ تعلیم، صحت، افسر شاہی، پولیس، دہشت گردی، بجلی، گیس اور سرمایہ کاری پر درجنوں مطالعے (Studies) وہ مرتب کر چکے۔ کسی بھی امریکی اور یورپی تھنک ٹینک سے وہ کم معیار کے نہیں۔ میدانِ عمل میں وہ پہلے ہی اتر چکے۔ تشہیر سے گریز مگر کئی موبائل طبّی یونٹ قصور اور لاہور کے اضلاع میں جاری ہیں۔ کوٹ ادّو اور میرپور سندھ میں سیلاب زدگان کے لیے دو دیہات انہوں نے آباد کیے ہیں، جہاں ایک شخص بھی بے روزگار نہیں‘ سب بچّے سکول جاتے ہیں اور اپنے مکانوں کے وہ خود مالک ہیں۔ اپنے تمام فیصلے ان دیہات کے مکین خود کرتے ہیں۔ عطیات دینے والے ان کے سرپرست نہیں، ساجھی اور شریک ہیں۔ سارا بوجھ انہوں نے خود اٹھایا۔ اندرونِ ملک کسی سے مدد مانگی اور نہ بیرونِ ملک۔ 
مواخات سے اکتسابِ نور کرنے والے ڈاکٹر امجد ثاقب کی طرح وہ اعتدال پسند لوگ ہیں۔ ان سے امید وابستہ کرنے کی یہی ایک بنیاد ہے۔ دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ۔ کاروباری ادارے چلانے والے یا ممتاز نجی اداروں کے اہم منصب دار۔ عصرِ رواں کے تقاضوں سے ہم آہنگ۔ ڈاکٹر شعیب سڈل اور جمیل یوسف ایسے متعدد ماہرین ان کے مددگار ہیں۔ ریلوے، پی آئی اے، سٹیل ملز، ہر ناکام سرکاری منصوبے کی انہوں نے چھان پھٹک کی ہے۔ ہر وہ شخص، جو ان سے ملا، اس نے انہیں قابلِ اعتبار پایا؛ حتیٰ کہ پروفیسر احمد رفیق اختر نے، جن کے دروازے سبھی پر کھلے رہتے ہیں۔ سبھی سیاسی پارٹیوں کے رہنما جن کی خدمت میں حاضر ہوتے اور رہنمائی طلب کرتے ہیں۔
وہ فرشتے نہیں۔ کوئی جینئس بھی ان میں نہیں۔ کوئی قائدِ اعظم اور ابراہام لنکن تو کیا، کوئی عمران خان بھی نہیں۔ بس یہ کہ خود پہ انہیں ناز نہیں۔ اپنے حصے کا قرض وہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی تلاش میں ہیں، ہر سطح پر جو زمامِ کار سنبھال سکیں۔ پروفیسر صاحب کی سرپرستی کا انحصار ان کے طرزِ عمل پر ہو گا۔ اجلے رہے تو پہلے دن بارہ پندرہ لاکھ ووٹر ان کی پشت پر ہوں گے؛ حتیٰ کہ فوج در فوج خلقِ خدا امڈ آئے۔ 
ان میں کوئی کبھی سینیٹر تھا، نہ قومی اور صوبائی اسمبلی کا ممبر۔ ایسے لوگ مگر ان سے آملنے کو بے تاب ہیں۔ اپنی قسمت کا فیصلہ وہ خود کریں گے۔ اگر دوسروں کی طرح لیڈری چمکانے اور اپنی انائوں کو گنے کا رس پلانے کی کوشش کی تو گردِ راہ ہو جائیں گے، جیسا کہ ادنیٰ لوگ ہمیشہ ہو جایا کرتے ہیں۔ دل جمعی، یکسوئی اور خلوص کے ساتھ راہِ راست پر چلتے رہے تو سرخرو ہی نہیں، تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہوں گے۔ کب سے قوم ان کے انتظار میں ہے، جو خون پسینہ بو سکیں۔ ہوئی تو ان کی نہیں، یہ اس سماج کی ظفر مندی ہو گی کہ انحصار اسی پر ہے۔ 
امید ہے کہ مہاتیر محمد اور ترکوں کی طرح دیرپا منصوبہ بندی پہ وہ انحصار کریں گے۔ تصادم، تلخی اور جلد بازی سے بچنا ہو گا۔ تحریکِ انصاف کے باب میں بالخصوص۔ ممکن ہے کہ یہ ہجوم ان سے سبق سیکھے اور اپنی ترجیحات از سرِ نو طے کر سکے۔ شاید ایسے میں تعاون بھی ممکن ہو۔ اوّلین انتخاب میں، جب ڈھانچہ تشکیل پا چکے، ان کا ہدف 30، 40 سیٹوں سے زیادہ نہ ہونا چاہیے۔ آدھی بھی مل جائیں تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ ووٹر تو سبھی ہو سکتے ہیں، عہدیداروں میں کوئی خائن، خود پسند اور متعصب نہ ہو۔ خواتین اور اقلیتوں کے لیے انہیں بہت کشادہ مزاج ہونا چاہیے۔ بدترین وہ ہوتا ہے، جس سے اختلاف کرنے والے خوفزدہ ہوں۔
سیاست کا ایجنڈا بہت چھوٹا ہے۔ سب سے بڑھ کر نظامِ عدل کا قیام، قانون کے دائرے میں پولیس اور افسر شاہی کی مکمل آزادی، ظلم اور جبر کے بغیر پوری ٹیکس وصولی۔ علاقائی، لسانی اور فکری تعصبات سے بالا۔ ہر حلقہء انتخاب کے ووٹروں کی مرضی سے عوامی نمائندوں کا انتخاب۔ کوئی لیڈر نہیں، اگر خدمت اس کا شعار نہیں۔ کسی کو حق نہیں کہ دوسروں پر حکم چلائے۔ کسی مکتبِ فکر کا استحقاق نہیں کہ خود کو برتر سمجھے۔ حکمران کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ جس سے چھینا گیا، اسے لوٹا دے اور ظالم کو انصاف کے کٹہرے میں لاکھڑا کرے۔ امید ہے کہ ان کے پہلے جلسے میں ساٹھ ہزار افراد شریک ہوں گے۔ ریلیوں اور جلوسوں سے، احتجاج اور ہنگامہ آرائی سے مگر انہیں گریز کرنا چاہیے۔ سیاسی پارٹیوں کی توانائی اسی میں برباد ہوتی ہے۔ پہلے دن منشور کا انہیں اعلان کرنا چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کے بعد پہلے پچاس امیدواروں کا تاکہ وہ جانچ لیے جائیں۔ تاکہ وہ کام کر سکیں۔ 
مشکل کام ہے۔ آسانی سے انجام نہ پائے گا۔ بار بار دانش اور ہمت کا امتحان لے گا۔ ایک آدھ برس نہیں، مستقل طور پر تحمل اور صبر کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اپنے خیالات کو پوجنے والوں کی بجائے، یہ دل سے دوسروں کی بات سننے والوں کا منصب ہے۔ دولت، شہرت اور اقتدار کی ہوس کے ساتھ خود پسندی اربابِ سیاست کا شاید سب سے گھنائونا مرض ہے۔ 
فنا آدم زاد کو ہے، اخلاص اور وفا کو نہیں۔ جس نے یاد رکھا، وہ سرخرو ہوا ورنہ تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال دیا گیا۔ کوئی دن کی بات ہے کہ وہ سامنے ہوں گے اور کوئی دن کی بات ہے کہ ان کی قدر و قیمت کا تعین ہو جائے گا۔ 
ہم صرف اندازہ لگا سکتے ہیں۔ فیصلہ اسے صادر کرنا ہے، جو نیتوں کا حال جانتا ہے۔ باایں ہمہ عارف نے یہ کہا تھا: راہِ محبت میں پہلا قدم ہی شہادت کا قدم ہوتا ہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved