تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     07-11-2015

آزادی کی یہ نیلم پری

افسوس، زخم بیچنے اور نمک پاشی کرنے والوں پر افسوس، خود کو جو فریب دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی ؎
دیوِ استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے کہ آزادی کی ہے نیلم پری
میں نے اسے لکھا: الزامات کی یورش میں ایسی بھی کیا خاموشی۔ مجھ سے بات کرو اور ذرا تفصیل کے ساتھ۔ میرا خیال یہ تھا کہ شام ڈھلے اس برآمدے میں جہاں راول جھیل کا نیلگوں پانی چھب دکھاتا ہے کہ دیر تک اس کی کہانی سنی جائے۔ حتیٰ کہ شام کے سائے سبزہ زار پر اتر آئیں۔ مارگلہ کی رفعتوں اور ترائیوں میں قمقمے روشن ہو جائیں اور آسمان پر ستارے چمک اٹھیں۔ ٹیلی فون کی بات اور ہے۔ میرا خیال تھا کہ جب ہم روبرو ہوں گے تو اپنے درد کی حکایت بیان کر دے گا۔ ہاں، وہ ایک جنگجو ہے اور خود پر اسے اعتماد بہت ہے۔ مگر بات کرنے سے غم تحلیل ہونے لگتا ہے۔ جواب میں اس نے مجھے لکھا: دم لینے دو، مجھے ذرا سنبھلنے دو۔ ایسا ہی ہوتا ہے،ہاں ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔ رفاقت جب تمام ہوتی ہے تو آئینے کی طرح ٹوٹتی ہے اور اس کی کرچیاں لہو میں تیرتی رہتی ہیں ؎
سنبھلنے دے مجھے اے نا امیدی کیا قیامت ہے
کہ دامانِ خیال یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے
ایسے بھی کچھ درد ہوتے ہیں کہ خود ہی ان سے نمٹنا پڑتا ہے۔ کسی ہم نفس، کسی غمگسار کو شریک کرنے سے قبل تنہائی کی وحشت میں خود ہی ان سے لڑنا پڑتا ہے ؎
دل نے اِک دکھ سہا، سہا تنہا
انجمن انجمن رہا تنہا
اخبار نویس برہم ہیں۔ تو کیا لبنان کے فلسفی نے سچ کہا تھا: وہ انسانی زخموں کے تاجر ہوتے ہیں۔ بہت سوں نے جہاں احتیاط کا دامن تھامے رکھا، بعض نے اسے پرچم پر لکھا، اس کے ساتھ اپنی عظمت کا گیت، پھر نگر نگر اسے لہراتے رہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جس تحمل کا مظاہرہ اس کے بدترین حریفوں نے کیا، اخبار نویس نہ کر سکے۔ ہاں دو تین، دو وہ مونچھوں والے اور ایک وہ مسکراہٹ والی۔ وہ جنہیں آصف علی زرداری اور محمد نواز شریف میں کبھی ایک ذرا سی خامی بھی دکھائی نہ دی۔ سمندر پار پڑے ان کے اربوں کے اثاثے بھی۔ ایک آدھ جملہ چست کرنے کے بعد وہ بھی مگر خاموش ہو لیے۔ ان کے لیے یہ جنسِ بازار ہے اور بازار میں اخلاق کا کیا عمل دخل؟۔ سرکارؐ ایک دعا تعلیم کیا کرتے۔ فرمایا: گلیوں، کوچوں میں اگر پڑھی جائے تو دس لاکھ نیکیاں نامۂ اعمال میں لکھ دی جائیں گی۔ فرمایا: ''بازار انسانی آبادیوں کا بد ترین حصہ ہیں۔ خدا شاید یاد نہیں رہتا۔ منفعت کے حصول کی بے تابی ہی شعار ہو جاتی ہے۔
ان میں سے ایک نے کہا: میں نے صرف یہ عرض کیا تھا کہ اپنی حکومت کی ناکامی کا اعتراف آپ نے کر لیا ہے۔ کیا آپ خود اس کے ذمہ دار نہیں؟۔ اپنی مردم نا شناسی کے طفیل سوال کرتے ہوئے ایک لہجہ تھا، وضاحت کرتے ہوئے بالکل دوسرا۔ کب اپنی حکومت کی ناکامی کا اس نے اعتراف کیا؟ بلکہ یہ کہا کہ ڈاکٹر کام نہیں کرتے۔ کچھ پانچ گھنٹے، کچھ چار گھنٹے اور بعض صرف تین ہی۔ڈاکٹروں میں اخلاقی جرأت ہوتی تو اعداد و شمار کی تردید کرتے۔ الٹا انہوں نے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور اخبار نویسوں نے بھی۔ کس بات کی معافی؟۔
ہاں اپنے غم پر اسے قابو چاہئے تھا۔ شائستہ لہجہ وہ اختیار کرتا۔ کاش اُسے ادراک ہوتا کہ یہاں پگڑی اچھلتی ہے، اسے مے خانہ کہتے ہیں۔ بہر حال دوسرے سیاستدانوں میں وہ ایک سیاستدان ہے اور خیال کی اس رفعت کو پہنچ نہیں سکا ؎
زندگی کی رہ میں چل لیکن ذرا بچ بچ کے چل 
یوں سمجھ لے کوئی میناخانہ بارِدوش ہے
ایک سادہ لوح آدمی، جس کی زبان اور دل میں فاصلہ کم ہی رہتا ہے مگر ایسا کون سا کبیرہ گناہ اس نے کیا ہے کہ ان کے سامنے ہاتھ جوڑتا پھرے، جو گلیوں، بازاروں میں اسے گھسیٹنے کے آرزو مند ہیں۔ 
اس نے غلطیاں کی ہیں اور ان غلطیوں کی سزا اسے پانی ہے مگر اس شخص کو مہذب اور معزز کیسے مانا جا سکتا ہے، جو زخموں پر نمک پاشی کرے۔ ایک سیاستدان کی حیثیت سے اسے میزان میں رکھا جائے مگر آخر وہ ایک آدمی ہے اور اس کے سینے میں دوسروں ایسا دل ہے، کامرانی میں جو سرشار ہوتا اور دکھ میں راکھ ہو جاتا ہے۔ راکھ جس میں چنگاریاں ہوتی ہیں۔ کبھی اپنا دل آدمی اس سے جلاتا ہے اور کبھی دوسروں کا۔ دل درد کی شدت سے خون گشتہ وسیپارہ ؎
ساون کا نہیں بادل دو چار گھڑی برسے
برکھا ہے یہ بھادوں کی، برسے تو بڑی برسے
تنقید؟جی نہیں، ڈٹ کر اس ناچیز نے دھرنے کی مذمت اور مخالفت کی تھی۔ عرض کیا تھا کہ گلگت بلتستان میں اسے کچھ نہ ملے گا۔ بلدیاتی الیکشن میں دس پندرہ فیصد سیٹیں اور یہ کہ آزاد کشمیر کے آئندہ 
الیکشن میں بھی وہ ناکام رہے گا کہ اس کی تنظیم اور ترجیحات ناقص ہیں۔مگر کیا وہ وہی شخص نہیں، تمہارے لیے جس نے عالمی کپ جیتا تھا۔ پہلی اور اب تک آخری بار۔ کیا اس نے تمہارے درد سے تڑپتے مریضوں کے لیے ملک کا بہترین ہسپتال تعمیر نہیں کیا اور اب دوسرا بھی۔ کیا اس نے ملک کا بہترین تعلیمی ادارہ ہمیں تحفے میں نہیں دیا؟۔ کیا کوئی دوسرا سیاستدان یہ کر سکا۔ وہ ارب پتی اور کھرب پتی بھی جو اپنے خزانوں پر سانپ بن کے بیٹھے ہیں۔ اپنا خزانہ ہی نہیں‘ یہ ملک بھی اپنی اولاد کو میراث میں سونپ دینا چاہتے ہیں۔ وہ دولت جو لوٹ مار کے بل پر جمع کی گئی اور وہ ملک جسے وہ اپنا ہرگز نہیں سمجھتے۔ اپنی کمائی وہ سمندر پار رکھتے ہیں۔ ان کے خلاف وہ ایسی کوئی مہم کیوں نہیں چلاتے؟۔ ان سے وہ کیوں نہیں پوچھتے کہ ابھی سے اپنی سلطنت انہوں نے اپنے صاحبزادوں اور صاحبزادیوں کو کیسے سونپ دی ؟۔ اقتدار کی غلام گردشوں میں خیرہ ہو جانے والی نگاہیں ؎
ہوس لقمۂ ترکھا گئی لہجے کا جلال
اب کسی حرف کو حرمت نہیں ملنے والی
اور اس آدمی کو دیکھو، جو یہ کہتا ہے، میرے سامنے مشرف کا نام نہ لو(میرا خون کھول اٹھتا ہے) ۔بھٹو کے ذکر پر اس کے خون میں کوئی لہر نہیں اٹھتی ،آٹھ برس تک جو فیلڈ مارشل کا نفسِ ناطقہ رہا۔ اسے ڈیڈی کہتا رہا۔ ایشیا کا ڈیگال اور عہدِ جدید کا صلاح الدین ایوبی۔ بے نظیر بھٹو کے نام پر وہ جھرجھری نہیں لیتا۔ سرے محل اور سوئٹزر لینڈ میں ہیروں کے ہار سے جس نے انکار کیا۔ بجلی کمپنیوں سے جس کے معاہدوں کی قیمت اب تک ہم چکا رہے ہیں۔ آصف علی زرداری ایسا شخص، جس کی وجہ سے ہم پر مسلط ہوا۔ ملک کو جس نے چراگاہ بنا دیا۔ قائد اعظم ثانی کی مدح سرائی پر اسے کوئی اعتراض نہیں، جنرلوں اور خفیہ ایجنسیوں کی گود میں جو پروان چڑھا۔ کیا ان لوگوں کے کوئی پیمانے ہیں؟ کوئی اقدار ہیں؟۔ کیا وہ کبھی آئینہ دیکھتے ہیں۔ کیا ان کی ظاہری نجابت کے نیچے وہی آلودگی نہیں سرسراتی؟۔ کیا انہیں کبھی نہیں مرنا؟۔ کیا کبھی انہیں حساب نہیں دینا؟۔
اور جنرل محمد ضیاء الحق کی ان سیاسی بیوائوں کو دیکھوجومکر گئی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہماری تو اس سے شناسائی تک نہیںتھی ۔ حالانکہ اس رفاقت نے بچے جنے ہیں جو اس قوم کے مقدّر سے کھیلتے ہیں۔
اور کہا یہ کیا بحث ہے کہ لیڈر کی کوئی ذاتی زندگی نہیں ہوتی۔ حضور! کس نے کہا آپ سے!نہرو کے نام ایک خاتون کا خط قائد اعظم نے شائع کرنے سے منع کر دیا تھا۔ قائد اعظم کی عائلی زندگی پر ان کے بد ترین دشمنوں نے طبع آزمائی سے گریز کیا۔ذاتی زندگیوں ہی کو الم نشرح کرنا ہے تو ان کی کہانیاں کیوں عام نہ کی جائیں قریہ قریہ جن کی داستانیں پھیلی ہیں۔ جن کے باطن اس قدر مکروہ ہیں کہ کتابیں ان پہ رقم کی جا سکتی ہیں۔ جو پرلے درجے کے بے حیا اور منافق ہیں۔ اس سے بھی گئے گزرے اور اس کی زندگی کا کون سا راز باقی ہے، جو آپ بیان کرنا چاہتے ہیں؟۔ دو چیزیں ہوتی ہیں، ایک عدالت اور ایک عوامی رائے، جو بالآخر بروئے کار آ کر رہتی ہے۔ کوئی نہیں بچے گا، خدا کی قسم، ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں بچے گا۔ رسوائی ان کے انتظار میں ہے۔ 
درباری۔ حسین بن منصور حلاج، اس عجیب و غریب آدمی نے کہا: ایک بار جو آدمی دربار میں بیٹھ جائے، عمر بھر وہ کھڑا نہیں ہو سکتا۔
افسوس، زخم بیچنے اور نمک پاشی کرنے والوں پر افسوس، خود کو جو فریب دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی ؎
دیوِ استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تو سمجھتا ہے کہ آزادی کی ہے نیلم پری
پس تحریر: عمران خان نے عالی ظرفی کا مظاہرہ کیا اور معذرت کرلی۔ کیا بدتمیزی کرنے والے بھی باز آئیں گے۔ ہر روز جھوٹی خبریں چھاپنے اور بے بنیاد تجزیے رقم فرمانے والے؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved