تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     12-11-2015

قوموں کی برادری میں برصغیر کی حیثیت

جب بھی برصغیر کی سیاست میں مذہبی تعصب ‘سیاسی جارحیت اختیار کرتا ہے‘ بھارت میں ہندو مسلم نفرت کی آگ سلگنا شروع ہو جاتی ہے۔ کبھی اس کا نتیجہ پاکستان کی صورت میں نکلتا ہے اور کبھی عام انتخابات میں مسلمان‘ مذہبی ہندو پارٹیوں کے خلاف سیاسی امتیاز کے بغیر متحد ہو جاتے ہیں۔ جب بھی بھارت میں سیاست پر مذہب غالب آتا دکھائی دیتا ہے‘ ردعمل میں مسلمانوں کے جارحانہ جذبات ابھر آتے ہیں اور نتیجے میں وہی کھیل شروع ہو جاتا ہے‘ جوانگریز کے خلاف تحریک آزادی کے دوران دیکھنے میں آیا۔ قائداعظمؒ کا مسلم لیگ میں آنا‘ ہندو مسلم کشمکش کا نتیجہ تھا‘ کچھ لوگ کانگرس میں ہندو ازم کی بنیاد پر سیاسی طاقت جمع کرنے اور اپنی اکثریت کے زعم میں زوربازو دکھانے کی سوچ رکھتے تھے۔اس سوچ کے سیاسی اظہار متعدد تحریکوں میں ہوئے۔ آر ایس ایس بھی ہندو انتہا پسندوں کی تحریک تھی‘ جو اپنے حامی نوجوانوں کو فوجی تربیت دینے کے لئے کوشاں رہی تاکہ مقابلہ شروع ہونے پر‘ اکثریت کے بل بوتے پر‘ مسلمانوں کو مغلوب کیا جائے۔ گاندھی جی سیاسی اعتبار سے ‘ہندو مسلم اتحاد کی حمایت کرتے تھے۔ لیکن دل کی گہرائیوں سے وہ بھی ہندو اکثریت کی برتری اور حاکمیت کے لئے کام کر رہے تھے۔ پنڈت نہرو اقتدار کے بھوکے نہ ہوتے‘ توبھارت کی دانشمند سیاسی قیادت‘ ہندو مسلم اتحاد کی حامی تھی۔ لیکن سیاسی طاقت رکھنے والے ہندو رہنما‘ آزاد بھارت کو ہندو ریاست بنانے پر تلے تھے۔ اس پر سیاسی طاقت حاصل کرنے کی کشمکش پیدا ہوئی۔ دانشور ہندو لیڈروں نے تجویز دی کہ اگر قائد اعظم کو متحدہ ہندوستان کی وزارت عظمیٰ پیش کر دی جائے‘ تو ہندوستان تقسیم سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ اس سلسلے کا ایک مشہور واقعہ تاریخ میں درج ہے کہ ایک ہندو صنعتکار نے‘ جو کانگرس کا سرپرست تھا‘ اپنے گھر پہ چند لیڈروں کو مدعو کیا اور دوران گفتگو بات چھیڑ دی کہ کیوں نہ ہم محمد علی جناح کو آزاد بھارت کا وزیراعظم نامزد کر دیں؟ جس پر پنڈت نہرو نے فوراً موضوع کو بدلتے ہوئے بحث کا رخ تبدیل کر دیا۔ قائد اعظمؒ وہیں پر سمجھ گئے کہ آزاد ہندوستان میں‘ ہندو اکثریت کے لیڈر کبھی مسلمان کو شریک اقتدار نہیں کریں گے۔ آزادی کے بعد ثابت بھی ہو گیا کہ مولانا ابوالکلام آزاد‘ جو کانگرس کے سربراہ رہ چکے تھے‘ وہ نہرو‘ پٹیل کے برابر کے سیاستدان تھے‘ انہیں وزیرتعلیم بنا کر طاقت کے میدان سے نکال دیا گیا۔ 
انتہاپسندانہ ہندو سیاست کے حامی ‘ نہرو کو بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کا لیڈرولبھ بھائی پٹیل ‘ ہندو اکثریت کی حمایت کے بل بوتے پر پورے ہندوستان کی حکومت حاصل کرنے کا خواہش مند تھا۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ بظاہر آزاد خیال پنڈت نہرو‘ سیاست میں اسے پیچھے چھوڑ رہا ہے‘ تو اس نے روایتی ہندو ذہنیت کے ساتھ سرجھکا کر اپنی سیاست شروع کر دی اور پنڈت نہرو کی کابینہ میں رہتے ہوئے بھی ‘ہندوئوں کو ذات پات کی بنیاد پر‘ اپنے پیچھے متحد کرنے کے منصوبے پرعمل کرنے لگا۔ اس وقت مذہبی سیاست کرنے والے ہندو ‘ گاندھی کی نیم روحانی سیاست اور پنڈت نہرو کی قائدانہ صلاحیتوں کے سامنے قدم نہیں جما پائے۔ میرے سامنے تاریخی ثبوت تو موجود نہیں لیکن انتہاپسند ہندوئوں کے ساتھ‘ اپنے تعلق کی بنا پر ‘ اس نے سیکولر کانگرس کے سامنے ‘ انتہاپسند ہندو لابی کے ساتھ روابط استوار کئے اور کانگریس میں مذہب کی طرف مائل نام نہاد سیکولر لیڈروں کے ساتھ جوڑ توڑ کرنے لگا۔ اس کا پہلا سیاسی وار یہ تھا کہ جب قائد اعظم نے کیبنٹ مشن پلان کے حق میںرائے دے دی‘ تو پٹیل نے کانگریسی قیادت میںاس خیال کو تقویت دینا شروع کر دیا کہ اگر جناح کیبنٹ مشن پلان کو قبول کر لے‘ تو اس سے نجات مل سکتی ہے۔جناح کے پاکستان کو ہم روک تو نہیں سکیں گے‘ لیکن جس قدر ممکن ہو‘ایسی تجاویز انگریز اور بھارتی سیاستدانوں کے سامنے لائی جائیں‘ جن کے نتیجے میں پاکستان ‘ جغرافیائی طور سے کٹ پھٹ جائے اور اس کا برقرار رہنا ممکن نہ رہے۔ نتیجے میں پاکستانی اپنی ریاست کو ناکام ہوتے دیکھ کر خود بخود ہندوستان سے ملنے کی کوشش کریں گے۔ ان کا وار تو کامیاب ہو گیا۔ مگر پٹیل اور اس کے سرپرست ہندو سیاستدانوں کی خواہش کے مطابق ‘قائد اعظمؒ نے پسپائی اختیار نہ کی اور صورت حال یہ پیدا ہو گئی کہ یا تقسیم کا مسلم لیگی فارمولا قبول کر لیا جائے یا مسترد کر دیا جائے۔ اس دھمکی آمیز تجویز میں‘ انگریز کوبھی اپنی خواہش کے مطابق مسلمانوں کو فریب دینے کا موقع مل گیا۔ انگریز اور ہندو نے مل کر حالات ایسے پیدا کر دیئے کہ قائد اعظمؒ کو مجبوراً کٹا پھٹا پاکستان قبول کرنا پڑا۔ 
بے شک ہندو قیادت نے اپنی طرف سے کٹا پھٹا پاکستان دے کر سمجھا تھا کہ یہ ملک چل نہیں سکے گا۔ مگر وہ ان ممکنات کو فراموش کر گئے‘ جو قیام پاکستان کے بعد حقیقت میں بدل سکتی تھیں۔ آزاد پاکستان تمام بحرانوں اور سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے‘ بھارت کی بالادستی کی مزاحمت کرنے لگا۔ پاکستان کی بانی قیادت سے محرومی کے بعد‘ ہمیں دوسرے درجے کی سیاسی قیادت میسر آئی۔ اس کی نااہلی اور اقتدار کی جنگ نے فوج کے سربراہ کو اپنا ساتھی بنا کر‘ اقتدار پر قبضہ جمانے کے منصوبے پر عمل شروع کر دیا۔ یہ کھیل ابھی تک جاری ہے۔ پاکستان میں کبھی تیسرے درجے کی سیاسی قیادت اور کبھی طاقتور فوجی حکمران‘ اقتدار پر قابض رہے۔ لیکن پاکستانی قوم کی اجتماعی حریت پسندی اور قومی نفسیات کے نتیجے میں‘ پاکستان مضبوط ہوتا چلا گیا اور ہندو بالادستی پر یقین رکھنے والی ہندو ذہنیت کی تمام جماعتیں ‘ کانگرس کے خلاف متحد ہوتی گئیں اور آخر کار اٹل بہاری واجپائی جیسا ذہین اورسحرانگیز شخصیت کا مالک لیڈر‘ انتہاپسند ہندوذہنیت رکھنے والے سیاست دانوں کو اپنی قیادت میں اقتدار پر فائز کرنے میں کامیاب ہو گیا۔واجپائی گہرا تاریخی شعور رکھنے والا سیاستدان تھا۔ جوبازی انگریز اور 
متعصب ہندو ہار کے‘ مسلمانوںکو پاکستان دینے پر مجبور ہو گئے تھے‘ تاریخی شعور رکھنے والا واجپائی‘ اس کے حصار سے نکلنے کی راہیں تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ پہلا موقع تھا‘ جب بھارت کی ہندو مسلم آبادی‘ باہمی نفرت کے جذبات سے آزاد ہو کر‘ بھائی چارے کے حق میں نعرے لگانے لگی۔ یہی جذبہ پاکستان میں بھی پیدا ہو گیا اور ایک تاریخی موڑ ایسا آیا کہ بھارت ‘پاکستان اور بنگلہ دیش تینوں ماضی کی تلخیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے‘ تعاون اور خیرسگالی کے مشترکہ راستے اختیار کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ برصغیر کی ڈیڑھ ارب سے زیادہ آبادی کو اس تاریخی لمحے سے محروم کرنے کا ذمہ دار جنرل مشرف اور اس کے دوتین ساتھی تھے۔ کارگل نے برصغیر میں امن کی مشترکہ خواہش کو‘اس بری طرح سے کچلا کہ ہم آج بھی نفرتوں کے بھنور سے نکلنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ میں ہمیشہ یہی تمنا کرتا ہوں کہ کاش !برصغیر میں باہمی تعاون اور ایک دوسرے کے ساتھ کاروبار کی فضا پیدا ہو جائے‘ تو ہم مل کر ایک عالمی طاقت بن سکتے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح یہ صدی بھی طاقتوروں کی صدی ثابت ہو گی۔ برصغیر کے تینوں ملک ایک بار پھراسی فضا میں واپس آ جائیں‘ جو واجپائی اور نوازشریف نے پیدا کی تھی‘ تو دو اول درجے کی ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک‘ یکجا سیاسی حکمت عملی اختیار کر کے‘ بڑی طاقتوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔ لیکن بدقسمی سے مودی جیسا ادنیٰ درجے کا کارکن‘ آج بھارت میں انتہاپسندوں کوحکمرانی پر فائز کر چکا ہے۔ صوبہ بہار کے حالیہ انتخابی نتائج نے ہندوستان کی اس روح کو پھر بیدار کر دیا ہے‘ جو بار بار اپنی اجتماعی طاقت کو دریافت کر کے‘ بڑی طاقتوں کی صف میں شامل ہونے کی خواہش رکھتی ہے۔ ہم اکیلے وسائل اور آبادی کے بغیر بڑی طاقت نہیں بن سکتے۔ لیکن اگر ہم بھی یہ طے کر لیں تو اپنی مشترکہ طاقت کے بل بوتے پر‘ اپنا سیاسی بلاک قائم کر کے عالمی طاقتوروں کے کلب میں شامل ہو سکتے ہیں۔ متعصب ہندو ذہنیت کے مالک سیاسی عناصر کی حکمرانی میں‘ ڈیڑھ ہی سال کے اندر یہ حقیقت ایک بار پھر ثابت ہو گئی کہ ہندو مسلم منافرت کی فضا میں نہ کبھی بھارت غالب آ سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان تھوڑی آبادی اور رقبے کی بنا پر ‘ بھارت کی بالادستی قبول کر سکتا ہے۔ لیکن ہم دونوں اپنی آبادی اور علاقائی طاقت کے ساتھ ‘عالمی برادری کے اندر ‘نئی دنیا میں بالادست طاقت کا حصہ بن کربڑی طاقتوں کی کلب میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ حیثیت نہ توبھارت تنہا رہ کر حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی پاکستان۔ ہمارے عجیب خوابوں کا ایک مرکز نام نہاد اسلامی برادری تھی‘ جو حقیقت میں کہیں تھی‘ نہ ہے اور بھارت جب تک پاکستان پر بالادستی کے خواب دیکھتا رہے گا‘ اسے بھی دوسرے درجے کی طاقت بن کر رہنا پڑے گا۔ ہندو مسلم بھائی چارے کی بنیادیں بہت گہری ہیں‘ جس کا اندازہ انگریز کو طویل دور حکمرانی میںہوا‘ جب پورے برصغیر میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے‘ہندوستانیوں کی مشترکہ تحریک آزادی چل رہی تھی۔ اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انگریز نے برصغیر کو تقسیم کیا۔ ابھی تک انگریز اپنے مقصد میں کامیاب ہے۔ اگر پورا برصغیر ‘سیاسی طور پر متحد ہو کر‘ عالمی برادری میں اپنا مقام حاصل کرنے کا سوچ لے ‘ توہم بھی قوموں کی برادری میں قابل عزت مقام حاصل کر سکتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved