تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     13-11-2015

خواہشات کی قیمت

صدر ممنون حسین فرماتے ہیں :موجودہ حکومت کے خلاف کوئی سکینڈل نہیں آیا۔ شاید یہ محاورہ ان کے لیے تخلیق ہوا تھا Ignorance is Blessing ۔
حکومت کے خلاف سکینڈل آیا ہو یانہیں لیکن موصوف کے اپنے خلاف نئی آڈٹ رپورٹ میں ایک آڈٹ پیرا ضرور بن گیا ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ صدر صاحب نے ساٹھ ہزار ڈالر کی ٹپ قوم کے خزانے سے بیرونی ممالک دوروں میں اپنی خدمت پر مامور خادموں کو عنایت کی ہے۔ ذرا شہنشاہ ِپاکستان کی شاہ خرچی کا اندازہ کریں کہ جو اپنی جیب سے شاید کسی پاکستانی ویٹر کو ساٹھ روپے ٹپ نہ دیں لیکن عوام کی جیب سے ساٹھ ہزار ڈالرز عنایت کر آئے ہیں۔
دوسری طرف وزیراعظم نواز شریف مسلسل یہ فرما رہے ہیں کہ انہوں نے دو تین منصوبوں میں اربوں روپے بچا لیے ہیں ۔ نواز شریف کے پاس مواصلات کی وزارت بھی ہے لہٰذا سب ترقیاقی منصوبے بھی وزیر کی حیثیت سے وہ خود بناتے اور دوسرے لمحے وزیراعظم کی حیثیت سے انہیں منظور کرلیتے ہیں ۔ 
اب وہ فرماتے ہیں کہ اگر چاہتے تو یہ سارے اربوں روپے اِدھر اُدھر کر سکتے تھے لیکن انہوں نے گڈگورننس اور ایمانداری کا مظاہرہ کیا اور اربوں بچا لیے۔ ان کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کی حکومت نے کچھ منصوبے شروع کیے۔ ان کی ابتدائی لاگت جو لگائی گئی وہ بعد میں زیادہ نکلی اور انہوں نے وہ زیادہ پیسے جیب میں ڈالنے کی بجائے کم کرائے اور یوں ملک کی بچت ہوئی۔ 
کیا ایک وزیراعظم ایسی بات کرتے ہوئے اچھا لگتا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو وہ اربوں روپے جیب میں ڈال لیتا اور کسی کو پتہ ہی نہ چلتا ؟ اب یہ بھی ان کا ہماری نسلوں پر احسان سمجھا جائے کہ وزیراعظم چاہتے تو کرپشن کر سکتے تھے لیکن نہیں کی؟
اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وزیراعظم نے انکوائری آرڈر کی کہ پتہ چلایا جائے وہ کون لوگ اور افسران تھے جنہوں نے اربوں روپے کا چونا لگانے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن پکڑا گیا؟ کیا اس وزیر سے پوچھ گچھ کی گئی جس کی وزارت وہ منصوبے لائی تھی اور بعد میں وہ سب رنگے ہاتھوں پکڑے گئے؟کیا ہمیں اس وزیر کے نام کا پتہ چل سکتا ہے؟ اور اگر وزیر اس کا ذمہ دار نہیں ہے تو ہمیں ان لوگوں کے نام بتائے جائیں جنہوں نے مہنگا منصوبہ بنایا۔ چلیں مان لیتے ہیں ایسے تمام افسران کی نیت نیک تھی اور اربوں روپے کمانے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا تو کیا ایسے افسران کو اب تک ہٹا نہیں دینا چاہیے تھا جو ایک منصوبہ بھی شفاف طریقے سے نہیں بنا سکتے اور ان کی اہلیت پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں؟چلیں اب تو نواز شریف صاحب کی قابلیت کی وجہ سے اربوں روپے بچ گئے کہ وہ ذہین انسان نکلے لیکن ان کے بارے میں کیا کہیں گے جو نجانے ایسے کئی منصوبوں میں اربوں روپے ضائع کر چکے ہوں گے؟
چلیں مان لیتے ہیں کہ وزیراعظم صاحب کو پاکستانی قوم کے اربوں روپوں کی بہت فکر ہے، لیکن وہ یہ بات اپنی تقریر کے وقت نہیں بتاتے کہ نیلم جہلم پروجیکٹ کی لاگت جب وہ وزیراعظم بنے تو اس وقت 272 ارب روپے تھی اور اب دو سال کے اندر اندر بڑھ کر 410 ارب روپے تک جا پہنچی ہے۔ ذرا قوم کو یہ بھی بتا دیں کہ چوبیس ماہ میں لاگت کیسے ایک سو چالیس ارب روپے بڑھ گئی ہے؟ اگر یہ بات مان لی جائے کہ ان منصوبوں میں مال پانی لیا جاتا ہے اور جان بوجھ کر لاگت بڑھائی جاتی ہے تو پھر بتایا جائے کہ نیلم جہلم پروجیکٹ میں ایک سو چالیس ارب روپے کس کی جیب میںجائیں گے؟ اگر نواز شریف صاحب دیگر منصوبوں میں پیسے بچا رہے تھے تو پھر نیلم جہلم میں کیوں ایک سو چالیس ارب روپے نہ بچاسکے؟ کیوں یہ پیسے پھر یوروبانڈز کے اجرا کے وقت نہیں بچائے گئے؟ یہ پاکستانی تاریخ کا بدترین سکینڈل ہے جس پر ہر طرف خاموشی ہے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے نام پر اس دور میں جو دو بڑے سکینڈلز یاد رکھے جائیں گے وہ یوروبانڈز کے علاوہ آئی پی پیز کو راتوں رات کی گئی 480ارب روپے کی ادائیگی ہے ۔اب آڈٹ رپورٹ بتا رہی ہے کہ اس ڈیل میں 190ارب روپے زیادہ ادا کیے گئے۔ 
اس سے پہلے اسحاق ڈار نیویارک جا پہنچے اور انہوں نے عالمی سرمایہ کاروں کو کہا کہ وہ ان سے پانچ سو ملین ڈالرز لینا چاہتے ہیں‘ ان کا کیا ریٹ ملے گا؟ پتہ چلا کہ مارکیٹ سے ترکی، مصر، سمیت کل پانچ ممالک یوروبانڈز لینا چاہتے ہیں؛ تاہم جب ریٹ بتایا گیا تو سب ممالک پیچھے ہٹ گئے کیونکہ جو سود مانگا جارہا تھا وہ بہت زیادہ تھا۔ تاہم اسحاق ڈار سب ملکوں سے سیانے تھے لہٰذا انہوں نے آگے بڑھ کر ڈیل کر لی‘ جس کے تحت عالمی سرمایہ کار پاکستان کو دس برس کے لئے 500ملین ڈالر دیں گے اور اس کے بدلے انہیں 410 ملین ڈالر کا منافع ملنا تھا۔ پوری عالمی مارکیٹ حیران ہے کہ یہ کیا ہوا ہے؟ جب پاکستان کے پاس بیس ارب ڈالرز کے ریزرو پڑے تھے تو پھر ایسی کون سی قیامت آگئی تھی کہ فوری طور پر پانچ سو ملین ڈالرز قرض لینا پڑا اور وہ بھی بدترین سود پر؟ 
ویسے اس یوروبانڈ پر بہت سے سوالات اپنی جگہ موجود ہیں اور کبھی اس کی تفتیش کی گئی تو ایسے ایسے انکشافات سامنے آئیں گے جیسے کبھی نیب کے سامنے حدیبیہ پیپرز ملز کے منی لانڈرنگ سکینڈل کے وقت آئے تھے۔ تازہ ترین خبر یہ ہے کہ پاکستان کے ایک اہم سیاسی اور کاروباری خاندان نے ایک بہت بڑے بینکار سے دو سو ملین ڈالرز کا قرضہ صرف دو فیصد سود پر لیا ہے۔ اس دو سوملین ڈالرز کے استعمال کو آپ خود سمجھ سکتے ہیں ۔ آپ دو فیصد پر لے کر آگے کسی کو سات آٹھ فیصد پر دے دیں تو آپ کو بیٹھے بٹھائے پانچ فیصد پرافٹ مل سکتا ہے جو اربوں روپے بنتا ہے۔ 
جب اسحاق ڈار سے پوچھا گیا کہ وہ کیوں پانچ سو ملین ڈالرز پر چار سو دس ملین ڈالر سود دینے پر راضی ہوئے تو انہوں نے یہ کہہ کر سارا ملبہ وزیراعظم نواز شریف پر ڈال دیا کہ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عالمی ساکھ کو چیک کیا جائے۔ جب اسحاق ڈار کو بتایا گیا کہ دوسرے ممالک نے تو مارکیٹ سے ہاتھ اٹھا لیے تھے تو جواب دیا کہ اگر وہ بھی پیچھے ہٹ جاتے تو سبکی ہوتی۔ کمال کا جواز ہے۔ تو کیا ساکھ اور سبکی سے بچنے کے لیے آپ دنیا کی تاریخ کا مہنگا ترین قرضہ لے لیں گے؟کیا اسحاق ڈار کو وزیراعظم کو یہ نہیں بتانا چاہیے تھا کہ جناب آپ کی خواہش سر آنکھوں پر‘ لیکن ہمیں یہ خواہش 410ملین ڈالرز میں پڑے گی لہٰذا رہنے دیتے ہیں۔ 
کیا وزیراعظم کو اپنی معیشت بارے غلط اندازے بتانے پر وزارت خزانہ کے افسران اور عہدے داروں کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے تھی جنہوں نے اپنی بریفنگز میں انہیں یہ یقین دلایا تھا کہ پاکستانی معیشت اتنی اوپر چلی گئی تھی کہ پوری دنیا ہمارے ہاں سرمایہ کاری کے لیے مری جا رہی تھی لہٰذا انہوں نے فرمایا کہ ٹھیک ہے جائو اور چیک کر کے لائو کہ ہماری ساکھ کہاں کھڑی ہے؟ تو کیا ہم یہ مان لیں کہ وزارت خزانہ وزیراعظم اور قوم سے جھوٹ بول رہی ہے اور اس جھوٹ کی قیمت ہم اور ہماری نسلیں ادا کرتی رہیں گی؟ 
اب آتے ہیں آئی پی پیز کی طرف۔ اگر قوم کے اربوں روپے بچانے کی اتنی فکر تھی تو پھر 27جون 2013ء کو وزیراعظم نے حلف اٹھانے کے صرف دو ہفتے بعد ایک گھنٹے کے اندر اندر سٹیٹ بنک کے ذریعے کیوں 480ارب روپے کی ادائیگی کرائی؟ وزارت خزانہ نے 480ارب روپے کے بلز اکائونٹینٹ جنرل آف پاکستان کے ذریعے کلیئر کرانے کی بجائے سٹیٹ بینک سے براہِ راست کیسے کرائے تھے؟قانون کے تحت ضروری تھا کہ ان تمام بلوں کو چیک کیا جاتا۔ ان کا پری آڈٹ ہوتا کہ کہیں یہ جعلی تو نہیں ہیں یا بل زیادہ تو نہیں بنا؟اس کی بجائے براہ راست ادائیگیاں کرائی گئیں۔ اب جب اس کا آڈٹ ہوا ہے تو پتہ چلا ہے کہ ان آئی پی پیز کو 190ارب روپے کی ایسی ادائیگیاں کی گئی ہیں جو انہیں نہیں ہونی چاہیے تھیں۔ یوں ایک گھنٹے میں ملک کو 190ارب روپے کا نقصان ہوا۔ اگر اس کا پری آڈٹ کرایا جاتا تو یقینا یہ رقم بچ سکتی تھی۔ اس سے بڑا سکینڈل اور کیا ہوسکتا ہے کہ آئی پی پیز کو اٹھارہ ارب روپے کے بلوں کی ادائیگی فوٹو کاپی والے بلوں پر کی گئی۔کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ فوٹو کاپی بل پر آپ کو کوئی اٹھارہ روپے دے دے گا؟ جبکہ وزارت خزانہ نے اٹھارہ ارب روپے ادا کر دئیے۔ ان آئی پی پیز پر بائیس ارب روپے جرمانہ تھا جو معاف کر دیا گیا لیکن آئی پی پیز نے حکومت کی جانب بتیس ارب روپے جرمانہ جمع کیا ہوا تھا ‘وہ فوراً ادا کر دیا گیا ۔ حالانکہ وہ جرمانہ آرام سے معاف کرایا جاسکتا تھا۔ یوں ایک ہی ہلے میں پاکستانی قوم کو 54ارب روپے کا نقصان اور آئی پی پی ایز کو فائدہ ہوا۔ جب آئی پی پیز کو اتنی جلدی اور بغیر پری آڈٹ ادائیگی کا سوال اٹھا تو پھر فرمایا گیا کہ وزیراعظم نواز شریف کی فرمائش تھی کہ ان سب کو ادائیگیاں کی جائیں تاکہ بجلی کا بحران حل ہو۔ اس خواہش کے احترام میں 190 ارب روپے کی زیادہ ادائیگی کی گئی۔ 
شاید مغل بادشاہ بھی ایسی خواہشات کرتے ہوئے ہزاروں مرتبہ ہندوستانی عوام کی غربت کا خیال کرتے ہوں گے۔ اپنی ہرتقریر میں کسی گمنام وزارت کے نامعلوم منصوبے میں چند ارب روپے بچانے کے دعویدار، ہمارے بادشاہ سلامت یا ان کے حواریوں نے ایک مرتبہ بھی قوم کو نہیں بتایا کہ ان کی ایک خواہش پاکستانی قوم کو 190 ارب تو دوسری خواہش 41 ارب میں پڑی ہے اور جی ہاں‘ نیلم جہلم پروجیکٹ کی لاگت ان کے دو برس کے اقتدار میں 272 ارب سے بڑھ کر 410 ارب روپے ہو چکی ہے....!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved