تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     16-11-2015

فرانس کا نائن الیون

'بے رحم انتقام‘ ہی اگر مسئلے کا حل ہے توکیا انسان کا تہذیبی سفر رائیگاں گیا؟ صدیوں کی یہ مسافت کیا بے ثمر ٹھہری؟
فرانس کے صدر کا بیان میرے لیے تشویش کا باعث ہے۔ یہ انتقام کی نفسیا ت ہے جس نے القاعدہ کو جنم دیا، طالبان کو وجود بخشا۔ یہی انتقام اب داعش میں مجسم ہو چکا۔ اگر مغرب کو بھی اسی لب و لہجے میں جواب دینا ہے تویہ اس قبائلی معاشرت کی طرف مراجعت ہے جو انتقام کو جنم دیتی اور یوں نسل در نسل انسانی نفرت کی پرورش کرتی ہے۔ لیڈر اگر الفاظ کے انتخاب میں احتیاط نہ کریں تو اس کا خمیازہ ان گنت لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ صدر بش نے نائن الیون کے بعد کی معرکہ آرائی کو صلیبی جنگ کہا۔ آنے والے دنوں میں، اسی جملے کی بنیاد پر اسلام اور مسیحیت کے مابین جنگ برپا کر نے کی کوشش کی گئی۔ اس کے گہرے اثرات اس وقت بھی مسلم معاشروں میں موجود ہیں۔ امریکی وضاحتیں کرتے رہے مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ 
انتقام نہیں، ایک شعوری کوشش اورتجزیہ ہی عالمِ انسانیت کو بربادی سے بچا سکتا ہے۔ میرا احساس ہے کہ نائن الیون کے بعد اس کی شدت کے ساتھ ضرورت تھی۔ 
بدقسمتی سے اہل ِمغرب نے اس کا خیال رکھا اور نہ اہلِ اسلام نے، الا ما شاء اللہ۔ امریکہ پر انتقام سوار تھا، اس نے واضح طور پر دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، جو امریکہ کا حمایتی نہیں، وہ دہشت گردوں کا ساتھی ہے۔ یہ ایک غیر فطری اور غیر حقیقی تقسیم تھی۔ دنیا میں اکثریت دونوں کے خلاف تھی۔ استعماریت اور دہشت گردی، دونوں مہذب انسان کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ اس معرکہ آرائی میں ایک طرف استعمار تھا اور دوسری طرف دہشت گردی۔ راہِ صواب تو یہی تھی کہ دونوں سے اعلانِ برأت کیا جاتا۔ امریکہ نے لکیر کھینچی اورردِ عمل میں بھی اسی طرح کی لکیر کھینچ دی گئی۔ القاعدہ یا عسکریت پسندی کی مخالفت کا مطلب امریکہ کی حمایت لیا گیا۔ پاکستان میں جس جس نے عسکریت پسندی، انتہا پسندی اور تشدد کو رد کیا، اسے امریکہ کاایجنٹ سمجھا گیا۔
انتقام نے اپنے پرائے کی تمیز مٹا دی۔ اپنوں کو مارنے کے فتوے جاری ہوئے کہ وہ مرتد ہیں۔ اسی انداز میں ٹی ٹی پی نے جواب دیا۔ ہماری مذہبی سیاسی جماعتیں بھی اسی مقدمے کو درست سمجھتی ہیں۔ محض تذکیر کے لیے محترم منور حسن صاحب کے بیانات ذہن میں تازہ کر لیجیے جو انہوں نے اپنے دورِ امارت میں اس موضوع پر جاری فرمائے۔ اس معرکہ آرائی میں ہمارے مذہبی طبقے کا جھکاؤ واضح طور پر القاعدہ اور عسکریت پسندوں کی طرف رہا۔ انتقام کی نفسیات سے کوئی خیر وابستہ ہوتی تو اللہ کے رسولﷺ اس معاشرتی روایت کے خلاف جد وجہد نہ کرتے جوانتقام پر کھڑی تھی اورجس نے ادب سمیت ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ اس لیے آج دنیا کو انتقام نہیں، ایک سنجیدہ تجزیے کی ضرورت ہے کہ زمین کو کیسے فساد سے پاک کیا جا سکتا ہے۔
تجزیے کی ایک روایت وہ ہے جو ایک قائم شدہ مقدمے کو ثابت کرنے کے لیے وجود میںآتی ہے، جیسے کسی نے مقدمہ قائم کیا کہ سیکولرزم ایک برائی ہے۔ اب تاریخ کا مطالعہ اس غرض کے لیے کیا جاتا ہے کہ اس مقدمے کو ثبوت فراہم کرنے کیے لیے دلائل تلاش کیے جائیں۔ پھر لوگ ایسے ظالم حکمرانوں کی ایک فہرست بناتے ہیں جو سیکولر ہیں اور ان کے واقعات بیان کرتے ہیں۔ یوں اپنے تئیں یہ مقدمہ ثابت کرتے ہیں کہ سیکولرزم ایک برائی ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مذہب فساد کی جڑ ہے۔ وہ بھی حکمرانوں کے مظالم پر مبنی واقعات کی ایک فہرست بناتے ہیں۔ پھر یہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کون مذہبی رجحانات رکھتا تھا۔ ایسے لوگ بھی نامراد نہیں رہتے۔ یوں وہ ان واقعات کے بیان سے ثابت کرتے ہیں کہ 'مذہب فساد کی جڑہے‘۔ گہرا تجزیہ بتاتا ہے کہ یہ دونوں تجزیے غلط ہیں۔
ایسے ہی تجزیے گزشتہ دو دہائیوں میں کیے گئے۔ مغرب میں تہذیبوں کا تصادم اور اس نوعیت کے تجزیے اس قائم شدہ مقدمے کے تحت وجود میں آئے کہ' اسلام فی نفسہ تہذیب اور ارتقاکے خلاف ایک قوت ہے‘۔ اہلِ مغرب کو یہ باورکرایا گیا کہ اس کی سلامتی اسی میں ہے کہ اہلِ اسلام کے لیے اس کے دروازے بند کر دیے جائیں۔ اِدھر ہماری صفوں میں کچھ لوگوں نے مقدمہ قائم کیا کہ دنیا حزب اللہ اور حزب الشیطان میں منقسم ہے۔ غیر مسلم حزب الشیطان ہیں۔ یوں ان کے خلاف اہلِ اسلام کو جنگ پر ابھارا گیا۔ اس مقدمے کو ثابت کرنے کے لیے جس طرح دینی دلائل تراشے گئے، وہ اب اخباری کالموں میں بھی بیان ہوتے ہیں۔ آج اگر عالمِ اسلام اور مغرب کو موجودہ حالات کا تجزیہ کرنا ہے تو انہیں قائم شدہ مقدمات کی بجائے، واقعات اور انسانی تاریخ کا ایک معروضی مطالعہ کر نا ہوگا۔
میرا تاثر ہے کہ ایک صائب تجزیہ صرف اسی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے جب انسان کو ایک اخلاقی وجود مانا جائے۔ میرے علم کی حد تک ،کوئی طبقہ اس وقت ایسا نہیں ہے جو اس کا انکار کر تا ہو۔ تاہم الہامی ہدایت پر ایمان لانے والے، اس پر زیادہ اصرار کرتے ہیں، اس لیے انہیںآگے بڑھ کر موجودہ حالات کا ایک تجزیہ کرنا چاہیے اور دنیا کو اس فساد سے نجات دلانے کی کوشش کر نی چاہیے۔ مسلمان بھی اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سے کسی صاحبِ علم کو بتانا چاہیے کہ انسان کو ایک اخلاقی وجود مانتے ہوئے، بین الاقوامی تعلقات کا کون سا نظریہ قابلِ عمل ہو سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر کوئی مسیحی صاحبِ علم بھی اس کی کوشش کرے گا تو اس کے نتائجِ تحقیق ایک مسلمان کی علمی کاوش سے مختلف نہیں ہوںگے۔اسی طرح اگر کوئی 'ہیومن ازم ‘ کو بنیاد بنا کرتجزیہ کرتا ہے تو مجھے امید ہے کہ وہ بھی اسی نتیجہ فکر کی تصدیق کرے گا جس تک ایک الہامی روایت پر یقین کرنے والا پہنچا ہوگا۔
اس بات کو ایک مثال سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ استحصال، معاشی ہو یا سیاسی، کسی اخلاقی روایت میں قابل ِقبول نہیں۔ اقوامِ متحدہ کا چارٹر بھی اس کو قبول نہیں کرتا۔ اگر یہ مقدمہ درست ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں عالمی قوتیں کیاکر رہی ہیں؟ ایک عام شہری کی جان و مال کو سب کے نزدیک حرمت حاصل ہے تو القاعدہ یا داعش کو کیسے گوارا کیا جا سکتا ہے؟ پھر آزادی کے نام پر انسانوں کا لہو بہانا کیسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ انسان کو ایک اخلاقی وجود تسلیم کرنے کے کچھ مضمرات ہیں۔ اگر انہیںقبول کر لیا جائے تو زمین سے فساد کو اگر ختم نہیں تو بہت کم کیا جا سکتا ہے۔
مجھے خدشہ ہے کہ فرانس کے صدر اولاند جوشِ انتقام میں وہی غلطی دہرانے جا رہے ہیں جو صدر بش نے کی تھی۔ ان کا فوری ردِ عمل بہت حکیمانہ نہیں ہے۔ ان کی نفسیاتی کیفیت کو سمجھا جا سکتا ہے مگر لیڈرکا امتیاز ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے موقع پر بھی اپنا ذہنی توازن بر قرا رکھتا ہے۔ وہ مجرموں کو سزا دینے کی بات کر سکتے تھے۔ انتقام کا لفظ اب مہذب دنیا کے لیے قابل ِقبول نہیں۔
اس بارے میں اب کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے جیسے پولیو یا ہیپاٹائٹس۔ اس کے خلاف اب مسلم غیر مسلم اور مشرق و مغرب کے امتیاز سے ماورا ہوکر عالمِ انسانیت کی سطح پرکوئی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ اس کے لیے دنیا کو ایک نئے نظامِ فکر کی ضرورت ہے۔ وہ نظام جو انسان کو ایک اخلاقی وجود تسلیم کر تا ہو۔ دنیا نے میکیاولی کو پیشوا بنا کر دیکھ لیا۔ اب اسے کسی متبادل نظری اساس کی طرف رجوع کر نا ہوگا جو انتقام نہیں، انصاف کو بطور قدر مانتی ہو۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved