تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     16-11-2015

پیغام

''ادارۂ تحقیقاتِ امامِ احمد رضا ‘‘کراچی میں قائم ہے اور اس کے قیام کا مقصدِ وحید ، جیساکہ نام سے ظاہر ہے ، امام احمد رضا قادری محدثِ بریلی رحمہ اللہ تعالیٰ کی شخصیت اور علمی وجاہت وخدمات کوعلمی دنیا میں عالمی سطح پر متعارف کرانا ہے ۔ اس مقصد کے لیے اس کی منجملہ خدمات میں ''سالانہ امام احمد رضا کانفرنس انٹر نیشنل ‘‘کا تسلسل کے ساتھ انعقاد ہے اور ماہِ صفر المظفر میں چھتیسویں سالانہ کانفرنس منعقد کی جارہی ہے ۔ ادارے کے صدر صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری صاحب نے مجھ نا چیز کو اس موقع کی مناسبت سے پیغام دینے کے لیے فرمائش کی ، چناچہ میں نے اس کی تعمیل میں مندرجہ ذیل سطور تحریر کیں : 
معاصر علمی دنیا میں امامِ اہلسنّت امام احمد رضا قادری کی ذوالجہات اور جامع شخصیت ، علمی وجاہت ، فقہی ثقاہت و استناد کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔تاریخ کا سبق یہ ہے کہ صرف و ہ طبقات ہی افتخارو وقار کے ساتھ معاصر دنیا میں اپنا مقام بناتے اور منواتے ہیں جو اپنے داخلی احتساب کے عمل سے گزر نے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور اپنی خامیوں اور ناکامیوں کا مسلسل جائزہ لے کر اُن کے اِزالے کا اہتمام کرتے ہیں ، ورنہ صرف عظمتِ رفتہ کے قصیدے پڑھ کر جدید دنیا میں اپنا مقام نہیں بنا سکتے ۔ اگر ماضی کی رفعتوں اور عظمتوں کی داستانیں کافی ہوتیں تو ہمارے ارتقا کے لیے کلام ِ اقبال کافی تھا ۔ لیکن ہر ایک کو اپنے اپنے دور میں اپنی خوبیوں کے ساتھ جینے کا سلیقہ اختیار کرنا پڑتا ہے ، ورنہ کتنی ہی قومیں ، مِلّتیں اور اُمتیں گزری ہیں جو قصۂ پارینہ بن گئیں اور آج درسِ عبرت کے لیے صرف ان کے کھنڈرات اور آثار باقی ہیں ۔ 
اپنے دائرۂ اثر اور عددی قوت کو بڑھانے کی بجائے ہم کافی عرصے سے اپنی ہی ڈاؤن سائیزنگ اور جسدِ ملّی کو پارہ پارہ کرنے میں مصروف ِ عمل ہیں، ہر شخص اپنی جگہ معیارِ حق بنا ہوا ہے اور دوسروں کی نفی کے در پے ہے ۔ مجدّدِ دین و ملّت امام احمد رضاقادری مُحَدِّثِ بریلی نوراللہ مرقدہ ٗکی تعلیمات سے استفادہ کرتے ہوئے ہم تقسیم در تقسیم کے اس بحران پر قابو پاسکتے ہیں ۔ 
جنوبی ایشیا کے اس خِطّے جسے برصغیر سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ، کے تناظر میں بریلی شریف ہمارا ایک عِلمی مرکز اور مسلکی شناخت ہے ۔ لیکن ہم عالَمی سطح پر اُمتِ مسلمہ کا جزوِ لا ینفک ہیں اور قرآن وسنت کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے ہم اسی طرح عالَمی سطح پر اہل السنّہ والجماعہ کا جزوِ لازم ہیں ۔ امامِ اہلِ سنت نے ہماری رہنمائی فرماتے ہوئے بتایا کہ بعض اُمور ضروریاتِ دین میں سے ہیں جن کا انکار کفر کو مستلزم ہے اور یہ وہ اجماعی اُمور ہیں جو قَطْعِیُّ الثُّبُوتَ اور قَطْعِیُّ الدُّلالہ ہیں،جن کادین سے ہونا ہر خاص وعام مسلمان کو معلوم ہے ۔جو شخص کسی ایسے حکمِ شرعی کا انکار کرے، تویہ در حقیقت اسلام کا انکار ہے اور وہ دائرہ ٔ اسلام سے خارج ہے ، لیکن اگر کوئی شخص کسی ایسے حکمِ شرعی میں آپ سے اختلاف کرے جو مختلف تاویلات و توجیہات کا احتمال رکھتاہو ، یعنی مُؤَوَّل ہوتو آپ اس کی توجیہ یا تاویل کو اپنے دلائل کی بنیاد پر رد تو کرسکتے ہیں ، لیکن اسے دائرۂ اسلام سے خارج قرار دینا تو بہت دور کی بات ہے اس کو فاسق یا گمراہ بھی قرار نہیں دے سکتے۔ ائمہ ٔ مجتہدین کے اجتہادی مسائل اِسی قبیل سے ہیں ، ان کی بنیا دپر آپ کسی کی تغلیط کر سکتے ہیں، لیکن تکفیر تو درکنار، تضلیل و تفسیق بھی نہیں کر سکتے ۔ امامِ اہلِ سنّت نے یہ بھی بتایا کہ کچھ اُمور ضروریاتِ مسلکِ اہل سنت سے ہیں ، اُن کا انکار یا ان سے انحراف کرنے والے کو آپ مسلک سے خارج قرار دے سکتے ہیں ، اسلام سے نہیں ۔ لیکن آج کل ہم نے اِ س حوالے سے جو شِعار اختیار کر رکھا ہے ، اس کی روشنی میں علمی اعتبارسے ہم جامد و ساکت تو رہ سکتے ہیں ، تحقیق و تنقیح اوردر پیش مسائل میں اجتہادی روش کو اختیار نہیں کر سکتے ، یہاں تو عالَم یہ ہے: 
ہر بُوالہوس نے حُسن پرستی شعار کی
اب آبرو ئے شیوۂ اہلِ نظر گئی 
ہر شخص مسلک ِ اہلِ سنت و جماعت پر خود ساختہ حُجت (Pseudo Authority)بنا بیٹھا ہے اور لوگوں کو مسلک سے خارج کرنے میں مصروف ہے ۔ ہندو ستان میں ہمارے بڑے علمی مراکز ، جو ہماری پہچان اور ہمارا وقار و افتخار تھے ، وہ ایک دوسرے سے اُلجھے ہوئے ہیں ۔ اس لیے میرے نزدیک آج مسلک و فکرِ رضا کی جو بڑی خدمت ہو سکتی ہے اور جس کی از حد ضرورت ہے ، وہ یہ ہے کہ مسلمہ اکابر علمائے اہلِ سنت ضروریاتِ دین اور ضروریاتِ مسلک کی ایک ترجیحی اور قطعی فہرست ترتیب دیں اور سب اس کا التزام کریں ۔ ذاتی پسند اور ناپسند یاانفرادی اجتہادی یا ترجیحی رائے کی بنیاد پر کسی کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کسی کو دینِ اسلام یا مسلک اہل السنّہ والجماعہسے خار ج قرار دے، مستحسنات میں اور راجح ومرجوح میں دلائل کی بنیاد پر اختلافِ رائے ہو سکتاہے ۔ یہ امر بھی پیشِ نظر رہے کہ ہمارے خطّے کے لیے الگ نبی نہیں آیا بلکہ ہم نبی ٔ عربی امام الانبیاء سید المرسلین رحمۃ للعالمین سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے امتی ہیں اور عالمی سطح پر اہل السنّہ والجماعہ کا حصہ ہیں ، علاقائی یا شخصی تفرّدات کی بنیا د پر کسی کو مسلک سے خارج نہ کیا جائے۔ ہمیں دلیل شرعی کے بغیر اپنے آپ کو بحیثیتِ مسلک Cut to Sizeکرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اپنی افرادی قوت کو بڑھانے کی ضرورت ہے ، رسول اللہﷺ نے امت کے تکاثر پر فخر و مباہات کا اظہار فرمایا ہے ۔ 
امام احمد رضا قادری لکھتے ہیں: '' مسلمانو! اصل مَدار ضروریاتِ دین ہیں اور ضروریات اپنے ذاتی روشن بدیہی ثبوت کے سبب مطلقاً ہر ثبوت سے غنی( بے نیاز) ہوتے ہیں،یہاں تک کہ اگر بالخصوص ان پر کوئی نصِ قطعی بالکل نہ ہو جب بھی اُن کا حکم وہی رہے گا کہ (ان کا) منکر یقیناً کافر، مثلاً یہ کائنات اپنے تمام جزئیات سمیت'' حادث‘‘ ہے ، اس کی تصریح کسی نص قطعی میں نہیں ہے ۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہ آسمان وزمین کو قرآن میں معنوی اعتبار سے حادث قرار دیا گیا ہے، مگر مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کسی اور چیز کو قدیم ماننے والا کافر ہے ، اس کی بہت ساری اسناد میں نے اپنے رِسالے ''مقامع الحدید علی خدالمنطق الجدید ‘‘ میں ذکر کی ہے ۔پس اللہ تعالیٰ کے سوا جو کچھ بھی ہے اور جو کوئی بھی ہے ، وہ حادث ہے ۔یہ مسئلہ ضروریات ِ دین میں سے ہے اور یہ اتنا بدیہی (ظاہر و عیاں ) ہے کہ اس پر دلیل قائم کرنے یا ثبوت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ 
اعلام امام ابن حجر ص:۱۷میں ہے: علامہ نووی نے ''روضہ‘‘ میں اس پر یہ اضافہ کیا ہے :صحیح بات یہ ہے کہ ایسے مسئلے کا انکار کفر ہے ، جس کا ضروریات ِ دین میں سے ہونا اجماعِ قطعی سے ثابت ہے ، خواہ اس کے بارے میں کوئی نص وارد ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو، (الاعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ ،ص:353)‘‘۔
یہی سبب ہے کہ ضروریاتِ دین میں تاویل قابلِ قبول نہیں ہوتی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ الحمد للہ ! قرآنِ مجید نزولِ وحی سے لے کر آج تک تسلسل کے ساتھ شرق تا غرب مسلمانوں کے ہاتھوں میں موجود و محفوظ ہے اور اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے کہ یہ بلا کم و کاست وہی تنزیل ربّ العالمین ہے ،جو محمد رسول اللہ ﷺ نے ایمان و عمل کے لیے مسلمانوں کو پہنچائی اور یہ ہر کمی بیشی اور تحریف وتبدیلی سے محفوظ ہے،(فتاویٰ رضویہ ،جلد14،ص:266-267)‘‘۔ 
فتاویٰ رضویہ کی عبارت کو ہم نے اپنی فہم کے مطابق نسبتاً آسان الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ قارئینِ کرام کو نفسِ مضمون سے آگہی حاصل ہو جائے ۔ اصل عبارت کافی دقیق ہے اور اسلامی و عربی علوم کی علمی و فنی اصلاحات پر مشتمل ہے ۔ ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کے نام پیغام کو میں نے کالم کا حصہ اس لیے بنایا تاکہ اہلِ سنّت کے علمائے کرام اور اہل نظر اس پر غور فرمائیں اور اگر میری کوئی بات قابل اصلاح ہے تو اس کی جانب متوجہ فرمائیں ۔ 
نوٹ: قدیم اور حادث فلسفے اور علم الکلام کی اصلاحات ہیں ۔ قدیم سے مراد وہ ذات جو از ل سے ہے ، اپنی ذات سے ہے ، ہمیشہ سے ہے ، اس پر کبھی عدم نہیں آیا ، اسی کو علم الکلام کی اصلاح میں ''واجب الوجود ‘‘کہا جاتا ہے ۔ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے کسی اور زبان میں کوئی ایک جامع لفظ نہیں ، انگریزی میں اسے Infiniteاور Eternalسے تعبیر کر سکتے ہیں ۔ حادث سے مراد وہ چیز جو معدوم تھی ، موجود نہیں تھی اور پھر اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے سے وجود میں آئی ۔ پس اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا جو کچھ بھی ہے اور جوکوئی بھی ہے ، وہ حادث ہے ، خواہ قطرہ ہو یا سمندر ، ذرہ ہو یا آفتاب ، اشرف المخلوقات انسان ہو ں یا نوری مخلوق فرشتے یا ناری مخلوق جنات، الغرض جمادات ، نباتات ، حیوانات اور جن وانس اور ملائک سب حادث اور مخلوق ہیں ۔ 
امام احمد رضانے ضروریات دین میں اللہ تعالیٰ کے قدیم ہونے اور ذات باری تعالیٰ کے سوا ہر چیز کے حادث ہونے کی مثال اس لیے دی ہے کہ اسلامی عقائد اور ارکانِ اسلام کا ضروریات دین میں سے اور فرض قطعی ہونا ہر ایک کو معلوم ہے ، اسی طرح محرمات قطعیہ بھی سب کو معلوم ہیں ۔ 
''مقامع الحدید علی خد المنطق الجدید‘‘ امام احمد رضا قادری کے ایک رِسالے کا نام ہے ، جس میں فلسفہ یونان کے باطل نظریات کا مدلّل رَد کیا گیا ہے ، اس کے معنی ہیں : ''جدید منطق کے رخسار پر آہنی گرز‘‘۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved