تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     02-12-2015

سُرخیاں‘ متن اور اشتہار

بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دینے کے لیے قانون میں ترمیم کرنا پڑی تو کریں گے: حمزہ شہباز
رکن قومی اسمبلی اور نواز لیگ کے مرکزی رہنما میاں حمزہ شہبازشریف نے کہا ہے کہ ''بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دینے کے لیے قانون میں ترمیم کرنا پڑی تو کریں گے‘‘ جس کے لیے معزز ارکان اسمبلی سے درخواست کرنا پڑے گی کہ اب تک انہوں نے کافی موجیں مان لی ہیں‘ اس لیے اپنے اختیارات میں سے تھوڑے بہت اور لنگڑے لولے اختیارات بلدیاتی نمائندوں کو بھی دینے پر رضامند ہو جائیں‘ جبکہ انہی حضرات کی سفارش پر خیبرپختونخوا کے برعکس‘ بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات سے محروم کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ''ہمارے لیے دال روٹی کافی ہے‘‘ جبکہ کچھ دال روٹی دبئی وغیرہ میں بھی منتقل کر رکھی ہے‘ کیونکہ یہاں سے فارغ کر دیے جانے کے بعد اسی دال روٹی پر ہی گزارا کرنا پڑے گا‘ اور یہاں بھی جن جھونپڑیوں میں رہ رہے ہیں وہاں بمشکل دال روٹی ہی میسر آتی ہے‘ بلکہ کبھی کبھار تو فاقہ کشی کی نوبت بھی آ جاتی ہے لیکن ہم خوش ہیں کہ ہماری رعایا تو پیٹ بھر کر کھا رہی ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔
نوازشریف جھوٹے مقدمات بنانے پر
زرداری سے معافی مانگیں: بلاول
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''نوازشریف جھوٹے مقدمات بنانے پر زرداری سے معافی مانگیں‘‘ جس کے بعد ہم ثبوت پیش نہ کرنے پر نوازشریف کا شکریہ ادا کردیں گے؛ اگرچہ بری ہو جانے پر ہی مذکورہ مقدمات جھوٹے ثابت نہیں ہوتے کیونکہ انہیں سچا ثابت کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی تھی‘ بہرحال‘ مفاہمت کی پالیسی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ عوام کو بھی مطمئن رکھا جائے کہ کرپشن کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے جذبات کو بھی ٹھیس نہیں پہنچائی جاتی اور دونوں کی نیک کمائیاں بھی محفوظ رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''پیپلزپارٹی کو ضیاء الحق کا مارشل لا بھی ختم نہیں کر سکا‘‘ اور والد صاحب نے یہ کارنامہ آن کی آن میں سر کرکے دکھا دیا جس میں جملہ انکلوں کی مساعئی جمیلہ بطور خاص شامل تھیں اور اب باقی ماندہ کارِخیر مجھے سرانجام دینا پڑے گا؛ کیونکہ والد صاحب اور انکل حضرات کی سرپرستی بدستور حاصل رہے گی‘ ماشاء اللہ چشم بددور! آپ اگلے روز پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر لیاری میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔
ظفرعلی شاہ کو چیئرمین کا الیکشن نہیں
لڑنا چاہیے تھا: حنیف عباسی
مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی نے کہا ہے کہ ''ظفرعلی شاہ کو چیئرمین کا الیکشن نہیں لڑنا چاہیے تھا‘‘ اور خوامخواہ ہماری ناک نہیں کٹوانی چاہیے تھی جو آئی ایم ایف کے سامنے گھِس گھِس کر پہلے ہی بہت چھوٹی رہ گئی تھی اور ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے یہ الیکشن ہارنے ہی کے لیے لڑا تھا تاکہ ہماری مقبولیت کا بھانڈا عین چوراہے میں پھوڑ سکیں‘ اسی لیے ہم نے بھی ان کے الیکشن میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی‘ بلکہ کچھ ہمارے ہی لوگوں نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کی مخالفت بھی کی جن کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جو انشاء اللہ اگلے الیکشن تک اپنی رپورٹ پیش کر دے گی کہ آخر ہمارے سینئر اور بزرگ رہنما کا یہ انجام کیسے ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ ''جو بندہ دو دفعہ ایم این اے اور ایک دفعہ سینیٹر رہا ہو اسے چیئرمین کا الیکشن لڑنے کی کیا ضرورت تھی‘‘ جبکہ ان غریبوں کے پاس کوئی اختیارات بھی نہیں ہونے تھے‘ ماسوائے نالیاں صاف کروانے اور گلیوں میں جھاڑو دینے کے۔ آپ اگلے دن ایک نجی ٹی وی چینل پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔
وضاحت
ہرگاہ بذریعہ اشہار ہذا وضاحت کی جاتی ہے کہ جماعت اسلامی
کے امیر سراج الحق صاحب نے جو یہ کہا ہے کہ حکومتی منصوبوں میں دماغ کم اور لوہے کا استعمال زیادہ ہوتا ہے تو یہ کوئی ان ہونی یا اچنبھے کی بات نہیں ہے‘ کیونکہ آدمی وہی چیز استعمال کرے گا جو اس کے پاس موجود ہو اور چونکہ دماغی لحاظ سے حکومت کا ہاتھ خاصا تنگ چلا آ رہا ہے‘ اس لیے دماغ کے استعمال کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ اور چونکہ لوہے اور سریے کی فراوانی ہے اور جنگلہ بس کی روشن مثال سب کے سامنے ہے‘ اس لیے اسی کا استعمال واجب تھا‘ جبکہ پہلے ایک فونڈری ہوا کرتی تھی اور اب ماشاء اللہ کئی سٹیل ملز کا بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ اس لیے لوہے کا ہر منصوبے میں استعمال کسی کے لیے بھی حیرانی کا موجب نہیں ہونا چاہیے؛ البتہ جہاں تک دماغ کے فقدان کا سوال ہے تو اس کے لیے یہی سوچا گیا ہے کہ اگر اور کچھ نہیں ہو سکتا تو دماغ ٹرانسپلانٹ کروا لیا جائے تاکہ روزروز کی اس طعنہ زنی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
المشتہر: ن لیگ عفی عنہ
آج کا مطلع
سرکش سہی فی الحال تو سر ہی نہیں رکھتے
کیا اہلِ نظر ہیں کہ نظر ہی نہیں رکھتے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved