تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     04-12-2015

منو سمرتی انصاف

جمہوریت اور انصاف لازم و ملزوم ہیں تو بھارت جہاں انصاف منو سمرتی کے گرد گھومتا ہے اس کا شمار قابل ذکر جمہوریتوں میں کیسے کیا جاسکتا ہے؟ ۔ بھارت میں قانون کی تعلیم تو دی جاتی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ ہمارا انصاف بھی ''ایوان بالا اور لوک سبھا ‘‘پر مشتمل ہوگا ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس وقت اسی سوال کا سامنا دنیا بھر میں پھیلے ہوئے بھارتیوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔ جس معاشرے کی پہچان اور بنیاد ہی منو سمرتی کی اس ابتدائی گھٹی کے زیر اثر ہو اور اسی کے گرد سماج اور رواج پروان چڑھتا ہو یعنی اونچی ذات بمقابلہ نیچ ذات، اس کا بھارت کا انصاف اور قانون منوسمرتی کی طے کردہ حدود و قیود کو پار کرنے کی ہمت اور جرأت ہی نہیں کر سکتا۔ وہاں براہمن کے مقابلے میں باقی سب ہیچ جانے جاتے ہیں۔ اگر براہمن کسی بھی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو انصاف اس کا پجاری بنے گا ۔۔۔۔منو سمرتی کی تعلیمات کے مطا بق انصاف کرتے ہوئے سب سے پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ جس کے خلاف جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے اس کی سماج میں کیا حیثیت اور مقام ہے اور جس نے جرم کیا ہے وہ مدعی کے مقابلے میں کس حیثیت اور مرتبے کا مالک ہے۔ دُور نہ جائیںاسی سال بھارت میں منو سمرتی انصاف کے دو فیصلے ہی سامنے رکھیں تو حقیقت کھل کر عیاں ہو جاتی ہے۔ فیصلے میں رواں سال گیارہ فروری کو ایڈیشنل سیشن جج وی کے پجار نے 2002 ء کے قتل عام میں سشان ناوا گائوں میں مسلمانوں کے گھر اور مسجدیں جلانے‘ بچوںاور نمازیوں کو اس آگ میں پھینکنے اور 134 مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث 70 ہندو بلوائیوں کو‘ جو مقدمے میں باقاعدہ نامزد کئے گئے تھے اور جن کی واضح تصاویر میڈیا کے تمام ذرائع سے ہر دیکھنے والے کو صاف اور شفاف دکھائی دے رہی تھیں‘ یہ کہتے ہوئے باعزت بری کر دیا کہ ان کے خلاف ثبوت نہیں مل سکے۔ ثبوت توجج صاحب کی آنکھوں کے سامنے تھے لیکن انہیں اپنی آنکھوں پر چڑھائی ہوئی ہندوتا کی سیاہ پٹی میں سے کیسے دکھائی دے سکتے تھے۔گجرات میں دنیا بھر کا میڈیا ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد بے گھر ہونے والے مسلمانوں کو سڑکوں پردھکے کھاتے دیکھتا رہا لیکن اگر دکھائی نہ دیا تو صرف بھارت کی منو سمرتی کو۔
بارہ مارچ1993 ء کو ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں میں دائود ابراہیم ، ٹائیگر میمن ، حاجی احمد، حاجی عمر اور توفیق جالیوالا کو ملوث کیا گیا۔بعد میں یعقوب میمن جو کہ ایک چارٹرڈ اکائونٹینٹ تھے‘ کوصرف اس وجہ سے کہ وہ ٹائیگر میمن کے چھوٹے بھائی ہیں‘ملوث کر لیا گیا جس کی خبر ملنے پر یعقوب میمن کو بھارت سے بھاگنا پڑا، لیکن بہت سے لوگوں کی اس یقین دہانی پر کہ ان کا نام کسی غلط فہمی کی وجہ سے درج ہوا ہے‘ یعقوب نے خود کو 28 جولائی94 19 ء کو نیپال میں بھارتی حکام کے حوالے کر دیا تاکہ وہ خودپر لگائے جانے والے الزامات کی صفائی دے سکے لیکن چانکیہ کی بد دیانتی اسی وقت سامنے آنے لگی جب سی بی آئی نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یعقوب میمن کو نیپال سے نہیں بلکہ دہلی ریلوے اسٹیشن سے پانچ اگست کو حراست میں لیا گیا تھا۔ مقدمہ شروع ہوا تویعقوب میمن نے اپنی بے گناہی کی بے تحاشا شہا دتیں پیش کیں لیکن 27 جولائی2007 ء کو ممبئی بم دھماکوں کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ٹاڈا کورٹ کے جج جسٹس پی ڈے کوڈے نے بغیر کسی واضح اور ٹھوس ثبوت کے یعقوب میمن کو بم دھماکوں کی سازش میں حصہ لینے، دہشت گردوں کی مدد کرنے، ناجائز اسلحہ رکھنے کے جرم میں عمر قید، چوبیس سال قید سخت اور سزائے موت کا حکم نامہ جاری کر دیا۔
اس سزا کے خلاف یعقوب میمن نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی لیکن 21 مارچ2013 ء کو سپریم کورٹ نے میمن کو سزائے موت دینے کی سزا بحال رکھی۔ بھارتی صدر پرناب مکھر جی سے کی جانے والی رحم کی اپیل بھی گیارہ اپریل2014 ء کو مسترد کر دی گئی۔انڈین سپریم کورٹ کے سامنے یعقوب میمن کیReview اورCurative اپیلیں بھی بالترتیب9 مارچ اور21 جولائی2015 ء کو خارج کر دی گئیں اور پھر تیس جولائی کو پھانسی دینے کیلئے مہاراشٹر حکومت نے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیئے جس پر یعقوب میمن نے گورنر مہاراشٹر سے رحم کی اپیل کر دی اور ساتھ ہی سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کرتے ہوئے اس وقت تک سزائے موت پر عمل درآمد نہ کرنے کی اپیل کر دی جب تک اس کی گورنر کو دی جانے والی رحم کی اپیل کا باقاعدہ فیصلہ نہیں ہو جاتا۔
جس طرح قدم قدم پر یعقوب میمن کی ہر عدالت میں کی جانے والی اپیلوں کو خارج کیا جا رہا تھا، اس پر بھارت بھر کے قانونی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ ایمنٹسی انٹرنیشنل انڈیا کی ریسرچ مینیجر ودیا لائر نے ایک سیمینار میں کہا کہ سب سے حیران کن یعقوب میمن کیCurative اپیل کا سپریم کورٹ سے خارج ہو نا ہے ۔ بھارتی 'را‘ کے سابق ڈائریکٹر بی رامن نے تو اپنے ایک آرٹیکل میں یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا کہ کٹھمنڈو میں یعقوب میمن نے جب خود کو بھارتی حکام کے حوالے کیا تو جس قدر اس نے تحقیقاتی ایجنسیوں اور اداروں سے تعاون کیا‘ وہ کسی مجرم کا کام نہیں ہوتا ۔ بی رامن کے آرٹیکل میں جب تسلیم کیا گیا ہے کہ یعقوب میمن کو نیپال سے حراست میں لیا گیا ہے تو پھر استغاثہ کی یہ ابتدائی رپورٹ ہی غلط ثابت ہو جاتی ہے کہ یعقوب کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن سے حراست میں لیا گیا تھا۔
پورے بھارت کے دانشور ، سینئر صحافی اور قانون سے متعلقہ لوگ یعقوب میمن کو پھانسی دیئے جانے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اس سے بھارت نے اپنا اعتماد کھو دیا ہے کیونکہ جو وعدہ کرتے ہوئے میمن کو نیپال سے لایا گیا تھا‘ اسے پورا نہیں کیا گیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کل کو اس طرح کے کسی بھی مقدمے میں کوئی بھی بھارتی حکام کی جانب سے کی جانے 
والی یقین دہانیوں پر اعتبار کرکے کبھی بھی بھارت سے تعاون کیلئے تیار نہیں کرے گا۔یعقوب میمن کو پھانسی تو دے دی گئی ہے لیکن مذہبی تعصب سے نصیر الدین شاہ، مہیش بھٹ، شتروگن سنہا، رام جیٹھ ملانی، مانی شنکر آئر، مجید میمن، سیتارام سمیت بھارت کے ہر ذی ہوش نے اپنے ہی ملک کے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان اٹھا دیئے ہیں۔ یعقوب میمن کو قدم قدم پر جس قسم کے بھونڈے اور یک طرفہ عدالتی طریقہ کار کا سامنا کرنا پڑا اس پر سب سے زیا دہ دکھ اور شرمندگی کا اظہار بھارت کی عدلیہ سے منسلک سابق جج حضرات نے کیا اور اپنے پیشے پر لگنے والے اس سیاہ دھبے کو دھونے کیلئے جسٹس پانچند جین، جسٹس ایچ ایس بیدی، جسٹس پی بی ساونت،جسٹس ایچ سریش، جسٹس کے پی سیوا سبرامنیم، جسٹس ایس این بھارگو، جسٹس کے چندر نگموہن داس نے مشترکہ طور پر بھارتی صدر پرناب مکھر جی سے ایک جانب تو سزائے موت کے خلاف حکم امتناعی جاری کرنے کی اپیل کی تو دوسری جانب ایک مشترکہ پٹیشن میں یعقوب میمن کے مقدمے کو میرٹ پر دوبارہ سننے کے احکامات جاری کرنے کو کہا۔۔۔۔لیکن یہ سب درخواستیں جو بھارت کی سابق عدلیہ کے انتہائی محترم اور مشہور و معروف جج حضرات کی جانب سے دائر کی گئی تھیں ایک طرف پھینکتے ہوئے30 جولائی2015ء کو یعقوب میمن کو بھارت کی منو سمرتی کے پرچارک پر عمل کرنے والی پنچایت کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ انصاف کرنے والے اگر گجرات کی مسلم کشی کو اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی تقاریر کے تنا ظر میں دیکھتے تو نریندر مودی وزیر اعظم کی بجائے کب کا گنگا کی نذر ہو چکا ہوتا ۔۔۔!!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved